بھولے کی بادشاہت

شہناز احد
———

ہمارےوزیر اعظم صاحب بہت بھولے ہیں۔ انھیں پتہ ہی نہی چلتا کب ان کے ساتھ کیا ہوگیا۔ شاید ابھی ان کے کھیلنے کودنے کے دن ہیں، بھائ لوگوں نے خوا مخواہ ان کو گھیر گھار کے اس حکومتی کاروبار میں پھنسا دیا۔

اسی لئے کبھی زبان پھسلتی ہے، کبھی لہجہ بدلتا ہے۔ کبھی ہاتھ تو کبھی پاؤں پھسلتے ہیں۔
ان کی کہی گئ بیشتر باتوں یا تقر یروں پر غور کریں تو سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کہنا کیا چاہتے ہیں۔
اس کرو نائ عہد میں جب جب وہ عوام کے روبرو آتے ہیں تو لگتا ہے کہ کمیسٹری یا فزکس کا کوئ فارمولا بچوں کو سمجھانے آۓ ہیں۔
ان کی طرف کا مسلۂ اس لئے بھی گھمبیر لگتا ہے کہ وہ مشیروں وزیروں اور وزیر زادوں کے درمیان اس طرح گھرے ہوۓ ہیں، جیسے کوئ نئ نویلی بھری سسرال میں ہو اور سب کو خوش رکھنا چاہ رہی ہو۔
وہ بچاری ایسے ہی کینفیوز بیانات دیتی ہے، جیسے ہمارے وزیر اعظم دیتے ہیں۔
لاک ڈاؤن ہوگا۔

سب کو گھر بیٹھے سب کچھ ملے گا۔
ہمیں غریبوں کا بہت خیال ہے اور ہم نے لوگوں کی خوشیوں کے لئے دن کا لاک ڈاؤن ختم کردیا ہے۔
نماز گھروں میں ہوگی۔ مسجد میں صرف پانچ لوگ نماز پڑھیں گے۔ اور پھر لوگوں کے جذبات کا خیال کیا مسجدیں کھول دیں اور وہ کھلتی چلی گئیں۔
نماز عید ان شرائط کے ساتھ ہوگی پھر نماز عید ہوئ اور جھپیاں مار کے ہوئ۔ پھر ایک شام لاک ڈاؤن سمارٹ ہوگیا اور ہم ایک دم سے نمبر ون ہوگۓ۔
اور کہا گیا کہ ہم جو سمجھ رہے تھے یہ ویسا نہی ہے۔ لہذا بازار کھلیں گے۔ مارکیٹ جگ مگائیں گی۔
اوریہ سب کچھ ایک تواتر سے ہوتا چلا جا رہا ہے۔
اس دوران اس ملک میں موجود صحت عامہ کے اداروں ان کی ایسوسیشنز نے آواز اٹھائ اور لوگوں کو یہ باور کرانا چاہا کہ یہ سب نہ کریں اس کے نتائج بھگتنا پڑیں گے توان پر ہر طرف سے لعن طعن شروع کردی گئ اور انھیں غلط ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا گیا۔
لیکن جن کو ذرا سی بھی عقل تھی وہ کہہ رہے تھے کہ اس کا انجام برا ہوگا۔ کرونا پھیلے گا۔
انار کلی بوہری بازار آ بپارہ کارخانو اور ایسے ہی دوسرے نامور بازاروں سے نکل کر یہ گھر گھر جاۓ گا۔
آج سب دیکھ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ حکومتی وزیر اسد عمر کے مطابق جولائ تک بارہ لاکھ سے زائید افراد کو کرونا اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔
ابھی بھی ہمارے بھولے بھالے وزیراعظم اور ان کے حواری کہہ رہے ہیں کہ ہمیں اندازہ نہ تھا کہ ایسا ہو جاۓ گا۔
وہ ابھی بھی سوچ رہے ہیں کہ دوبارہ لاک ڈاؤن کیا جاۓ یا نہیں ۔۔اگر کیا جاۓ تو کس حد تک کیا جاۓ؟
ایک دن خبر آتی ہےکہ لاہور کا برا حال ہے۔
لاہور والا پوچھتا ہے کراچی میں گلی گلی متاثر ہے۔
ایک تو اس ملک میں کوئ کاروبار چلے نہ چلے افواہوں کا کاروبار خوب پھلتا پھولتا ہے۔
وزیر اعظم صاحب آپ اپنے وزیروں مشیروں اور وزیر زادوں کے ساتھ حکومت کے بقیہ امور کو سنبھالنے کی کوشش کریں۔
آپ کو تو پتہ ہی ہوگا کہ چینی اور آٹے کے تمام ذخیرہ اندوزوں کے چھپے ٹھکانوں پر چھاپے مارنے کے باوجود نہ تو ان کی سپلائ پورے ملک میں پوری طرح بحال ہو سکی ہے اور نہ ہی ان کی قیمت قابو میں آسکی ہے۔
پس ثابت یہ ہوا کہ آپ کے قابو میں کچھ نہی ہے۔
“کرونا” کا مسلۂ لوگوں کی صحت اور زندگی سے متعلق ہے۔
بہتر کہ “ ادرک” کے اس ٹکڑے کو آپ صحت اور زندگی کو بچانے والے ماہرین کے حوالے کر دیں اور وہ جو لائحہ عمل تجویز کریں اس پر عمل کریں اور کروائیں۔
ان کی زندگیاں لوگوں کی زندگیاں بچانے میں گزر جاتی ہیں۔ وہ موسمی مینڈک نہی ہوتے جو حکو متوں کے ساتھ نکلتے ہیں اور غائب ہو جاتے ہیں
اس لاک ڈاؤن کو اپنی انا کا مسلۂ نہ بنائیں یہ موت اور زیست کا معاملہ ہے۔
آپ تو ویسے بھی بہت بھولے ہیں۔