فلموں کی نامزدگی کے حوالے آسکر کا بڑا اعلان

لاس اینجلیس : آسکر ایوارڈز دینے والی اکیڈمی نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ اس فلم کو بھی دنیا کے معتبر ترین ایوارڈ کےلیے نامزد کیا جائے گا جس میں اداکاروں اور دیگر ٹیم میں رنگ و نسل کی کوئی تفریق نہ ہو۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق فلمی دنیا کے سب سے معتبر فلمی ایوارڈ آسکر دینے والے ادارے دی اکیڈمی آف موشن پکچرز آرٹس اینڈ سائنس نے تاریخ میں پہلی مرتبہ فلموں کی نامزدگی کے حوالے منفرد اور حیران کن تبدیلی کی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ آسکر نے دنیا بھر میں نسلی تعصب اور پولیس تشدد کے خلاف جاری مظاہروں کے بعد یہ اعلان کیا ہے
آسکر ایوارڈ اکیڈمی نے واضح کیا کہ ایوارڈ دینے والی اکیڈمی پروڈیوسرز گلڈ آف امریکا نامی فلمی پروڈیوسرز کی تنظیم کے ساتھ مل کر کام کرے گی اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ اس فلم کو ہی ایوارڈ کے لیے نامزد کیا جائے جس کی ٹیم نے ہر رنگ اور نسل کے افراد کو یکساں مواقع فراہم کیے ہوں۔

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اکیڈمی نے واضح کیا ہے کہ یہ شرط رواں سال نامزد ہونے والی فلموں پر عائد نہیں ہوگی تاہم آئندہ برس فلموں کی نامزدگی اور ایوارڈز کا فیصلہ اسی بنیاد پر کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ دنیا بھر میں سیاہ فام امریکی شہری جارج فلائیڈ کے پولیس کے ہاتھوں بہیمانہ قتل کے بعد دنیا بھر میں نسلی تعصب کے خلاف گزشتہ دو ہفتوں کے زائد عرصے سے احتجاج جاری ہے۔

امریکی ریاست مینیسوٹا میں سابق پولیس افسر ڈارک چوون کے تشدد کے باعث سیاہ فام امریکی جارج فلائیڈ ہلاک ہوگیا تھا، سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے۔

ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ جارج فلائیڈ کی گردن پر سفید فام پولیس افسر کافی دیر تک گھٹنا رکھ کر بٹھا رہا اور جارج فلائیڈ چیختا رہا کہ ’پلیز پلیز میری ماں کو بلادو، مجھے سانس نہیں آرہی‘