آہ دوست محمد فیضی

نامور سماجی و سیاسی شخصیت جناب دوست محمد فیضی چل بسے ۔۔۔ انا للہ و انا الیہ راجعون ۔۔۔ آپ کافی عرصے سے صاحب فراش تھے
آخری دنوں میں وہ اسٹار مارکیٹگ سے بحیثیت ڈائریکٹر وابستہ تھے ۔۔اپنی طالبعلمی کے دور میں آپ ایک شعلہ بیان مقرر کے طور پہ جانے جاتے تھے – ضیاء الحق کے دور میں صوبائی وزیر بھی بنائے گئے اور پھر مزید تین بار اس عہدے پہ متمکن رہے -1989 میں انہوں نے کالم نگاری کے میدان میں قدم رکھا اور جلد ہی خود کو قلم کے دھنی کے طور پہ بھی منوالیا حتیٰ کہ 1993 میں انہیں اے پی این ایس کی جانب سے لک کے سب سے بہتر کالم نگار کےایوارڈ کے لیئے بھی نامزد کیا گیا جو انہیں صدر پاکستان سے ملا-
ڈکٹر فرمان فتحپوری نے انکے بارے میں کہا تھا کہ ” فیضی ہمارے معاشرے کی ایک ایسی شخصیت ہیں کہ جنہوں نے اپنے حسن خیال و حسن عمل کے قابل تؤجہ اثرات ان سارے مقامات پہ چھوڑے ہیں کہ جہااں جہاں وہ کسی نہ کسی حیثیت میں سرگرم کار رہے –
مشفق خاجہ نے انکے لیئے یہ کہا تھا ” فیضی صاحب کا کمال یہ ہے کہ وہ جب بھی وزارت سے علیحدہ ہوئے ، عزت و آبرو کے ساتھ ہوئے ورنہ اس کاروبار میں عزت و آبرو تو کیا ضمیر تک ہاتھ سے نکل جاتا ہے کوئلوں کی دلالی میں ہاتھ ہی نہیں منہ بھی کالا ہوجاتا ہے لیکن فیضی صاحب کی صرف شیروانی کالی رہی ، ہاتھ اور منہ دھونے وزیر ہونے سے پہلے جیسے صاف تھے ویسے ہی وزار چھوڑنے کے بعد بھی صاف رہے ”

فیضی صاحب اپنی سیاسی زندگی میں ایک بار جیل بھی گئے تھے ۔۔۔ انہوں نے پانچ الیکشن لڑے تھے جن میں دو جیتے دو ہارے اور ایک کا بائیکاٹ کیا ، لیکن انکی پوری سیاسی و سماجی زندگی کسی بدعنوانی کے الزام اور اسکینڈلز سے پاک رہی اور یہی وہ خوبی تھی کہ جس کے باعث وہ ہمیشہ عزت و احترام کی نظروں سے دیکھے جاتے رہے ور اس معاملے کو نامور مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی نے فیضی کے کالموں کی کتاب ‘ اظہار خیال’ میں شامل اپنی تحریر میں اور اپنے مخصوص شگفتہ اسلوب میں یوں کیا تھا ” دوست محمد فیضی چار بار منسٹر بنے، اس کے باوجود عزت و احترام کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں ” ۔۔۔”

یقینناً فیضی ایک مرتی ہوئی شائستہ تہذیب اور ختم ہوتی ارفع اقدار کی علامت تھے اور اس خوبی کی بناء پہ
وہ ہماری یادوں مین ہمیشہ زندہ رہیں گے- By Syed Arif Mustafa-Mehmood Ahmed Khan