خالص اللہ کے لئے

خالص اللہ کے لئے :
۔”” “” “” “” “” “” ”
ایک شخص نے اپنی مسجد کے امام سے کہا؛ مولانا میں کل سے مسجد نہیں آؤں گا؟
امام صاحب نے پوچھا؛ کیا میں سبب جان سکتا ہوں؟؟
اس نے جواب دیا؛ ہاں کیوں نہیں! در اصل وجہ یہ ہے کہ میں جب بھی مسجد آتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ کوئی فون پہ بات کر رہا ہے تو کوئی دعا پڑھتے وقت بھی اپنے میسجز دیکھ رہا ہوتا ہے، کہیں کونے‌ میں غیبت ہو رہی ہوتی ہے تو کوئی محلے کی خبروں پر تبصرہ کر رہا ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ۔
امام صاحب نے وجہ سننے کے بعد کہا؛ اگر ہو سکے تو مسجد نہ آنے کا اپنا آخری فیصلہ کرنے سے پہلے ایک عمل کر لیجیئے !!
اس نے کہا؛ بالکل میں تیار ہوں۔
مولانا مسجد سے متصل اپنے حجرے میں گئے اور ایک گلاس پانی لے کر آئے اور اس شخص سے کہا یہ گلاس ہاتھ میں لیں اور مسجد کے اندرونی حصہ کے دو چکر لگائیں، مگر دھیان رہے پانی چھلکنے نہ پائے!
اس شخص نے کہا؛ قبلہ ! اس میں کون سی بڑی بات ہے یہ تو میں انجام دے سکتا ہوں۔
اس نے گلاس لیا اور پوری احتیاط سے مسجد کے گرد دو چکر لگا ڈالے۔ مولانا کے پاس واپس آ کر خوشی سے بتایا کہ ایک قطرہ بھی پانی نہیں چھلکا۔
امام صاحب نے کہا؛ یہ بتائیے کہ جس وقت آپ مسجد کا چکر لگا رہے تھے اس دوران مسجد میں کتنے لوگ فون پر باتیں یا غیبت یا محلہ کی خبروں پر تبصرہ کر رہے تھے ؟؟
اس نے کہاَ قبلہ میرا سارا دھیان اس پر تھا کہ پانی چھلکنے نہ پائے، میں نے لوگوں پر توجہ ہی نہیں دی۔
پیش امام صاحب نے کہا؛ جب آپ مسجد آتے ہیں تو اپنا سارا دھیان اللہ کی سمت رکھیں؛ جب آپ خالص اللہ کے لئے مسجد میں آئیں گے تو آپ کو خبر ہی نہ ہو گی کون کیا کر رہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن کہتا ہے کہ “رسول کی پیروی کرو” یہ نہیں کہا کہ مسلمانوں پر نظر رکھو کہ کون کیا کر رہا ہے۔
اللہ سے تمہارا رابطہ تمہارے اپنے عمل کرنے کی بناء پر مضبوط ہوتا ہے دوسروں کے اعمال کی بنیاد پر نہیں۔
قرآن کریم میں ارشاد ہے؛
وَ كُلُّهُمْ آتِيهِ يَوْمَ الْقِيامَةِ فَرْداً
اور سب کو قیامت کے دن اکیلے ہی آنا ہے۔

(سورہ مریم : ٩۵)

محمد منشاء ( دبئی )