کیا آپ کو معلوم ہے کہ سندھ حکومت کے ماتحت این آئی سی وی ڈی کا ادارہ کیا ہے؟

کیا آپ کو معلوم ہے کہ سندھ حکومت کے ماتحت این آئی سی وی ڈی کا ادارہ کیا ہے؟

یہ دل کے امراض کا پاکستان میں نہیں ۔۔ جنوبی ایشیا میں بھی نہیں ۔۔ پورے ایشیا میں بھی نہیں بلکہ پوری دنیا ۔۔ جی ہاں! پوری دنیا میں سب سے بڑا مفت اسپتال ہے۔

ابھی 2019 میں این آئی سی وی ڈی میں چار ہزار کارڈیک سرجریز اور آٹھ ہزار 197 انجیوپلاسٹی بالکل مفت ہوئیں، مجموعی طور پر بارہ ہزار چھوٹی بڑی سرجریز بالکل مفت کی گئیں۔

آپ کو شاید جان کر حیرانی ہو کہ این آئی سی وی ڈی کے دیگر آٹھ مراکز کو چھوڑ کر صرف کراچی کے اسپتال میں پورے پاکستان نہیں ۔۔ بلکہ پوری دنیا سے گزشتہ ایک سال میں 1.12 ملین مریض آئے، حیدرآباد، سہون، ٹنڈومحمد خان، تھر، لاڑکانہ، خیرپور اور سکھر کے این آئی سی وی ڈی کے مراکز میں آنے والے مریضوں کی تعداد اس سے الگ ہے۔

سندھ حکومت سالانہ 20 ارب روپے خرچ کرکے یہ کام کررہی ہے مگر اب شاید ایسا نہ ہوسکے کیونکہ وزیراعظم عمران خان نہیں چاہتےکہ سندھ حکومت کی کہیں تعریف ہو اور وہ یہ اسپتال بزورِ طاقت چھین رہا ہے، میڈیا بھی عمران خان کے ساتھ ہے، عدالت بھی اس کے ساتھ ہے اور عمران خان خود کہتا ہے کہ فوج بھی اس کے ساتھ ہے۔

سمجھنے کی بات یہ ہے کہ عمران خان نے سندھ حکومت کے تین اسپتالوں این آئی سی وی ڈی، جناح اسپتال، این آئی سی ایچ اور پنجاب حکومت کے ایک اسپتال شیخ زید کو ہتھیانے کے لئے بجٹ میں 13 ارب روپے رکھے ہیں جبکہ صرف این آئی سی وی ڈی کا سالانہ بجٹ 20 ارب روپے ہے، اب عوام دوست یہ اسپتال کیسے چلے گا! غریبوں کو کیسے مفت علاج ملے گا، کوئی نہیں جانتا!!

اور عمران خان یہ سب کرونا وائرس کی وباء کے دنوں میں کررہا ہے، سندھ کے یہ تینوں اسپتال کرونا وائرس کے حوالے سے اہم ترین خدمات انجام دے رہے ہیں، انہی کی کارکردگی کی وجہ سے پوری دنیا پاکستان کی تعریف کررہی ہے، ممکن ہے کہ آپ پی پی پی کو پسند نہ کرتے ہوں مگر غریب آدمی کے مفت علاج سے آپ کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی تو ابھی وفاقی حکومت کے اس ظلم کے خلاف آواز بلند کریں