ہم نے کہا کہ حرام جانور کھانے کی وجہ سے چین پر عذاب ہے، ہم غلط نکلے

ہم نے کہا کہ حرام جانور کھانے کی وجہ سے چین پر عذاب ہے، ہم غلط نکلے
ہم نے کہا کے عربوں پر آزمایش ہے پر ہم غلط نکلے
ہم نے کہا کرونا ہے ہی نہیں ہسپتالوں میں ڈاکٹرز لوگوں کو مار رہے ہیں اور ایک لاش ۳۵۰۰ ڈالرز کی بیچ رہے ہیں لیکن ہم غلط نکلے
ہم نے کہا دماغ میں چپیں لگا رہے ہیں لیکن ہم غلط نکلے
ہم نے کہا گرمی سے کرونا مر جاۓ گا، ہم نے کہا مسلمان کو کرونا ہو ہی نہیں سکتا، ہم نے کہا کرونا صرف برینڈد پیزا کھانے والوں کو ہوتا ہے۔ ہماری سب باتیں غلط نکلیں ۔ ہم اسلام سے اتنا دور ہو گئے ہیں کے واٹسیپ پہ آنے والی ہر بکواس کو سچ مان لیں گے لیکن عقل کا استمعال نہیں کریں گے، اپنی غلطی کبھی نہیں مانیں گے، ہمیں اسلام نے بتایا کہ وبا ایک حقیقت ہے اور بیماری تو نبیوں کو بھی آتی تھی تو ہم کیا چیز ہیں، اسلام نے بتایا کہ وبا آجاۓ تو باھر مت نکلو گھر میں نماز پڑھو لیکن ہم اسلام سے بہت دور تھے ہم نے نہیں مانا۔ ہم نے عید پہ خوب شاپنگ کی، ہمیں پولیس نے مسجدوں میں نماز پڑھنے سے روکا ہم نے آن کو ڈنڈے مارے، حکومت نے لاک ڈاون کیا ہم نے چھپ کے دکانیں کھولیں اور اب بھی ہم کہتے کے قصور سارا گورمنٹ کا ہے
کسی نے کہا پیاز سے کرونا کا علاج ہوتا ہم نے پیاز مہنگا کر دیا، ہم نے ماسک مہنگے کر کر دۓ، کسی نے کہا سکا مکی کہ پتوں سے علاج ہوتا ہم نے وہ مہنگے کر دۓ، پرایویٹ ہسپتال میں کرونا کہ مریض کے علاج کاایک دن کا ایک لاکھ لے رہے، اب بتایۓ غلطی ہم میں ہے یا اوروں میں؟ کاش ہماری قوم ٹک ٹاک کی بجاۓ تعلیم پہ زور دیتی تاکہ سب معملات میں عقل استمعال کر سکتی۔

محمد ارشد ( راولپنڈی )