آج ہم کہاں کھڑے ہیں۔

آج ہم کہاں کھڑے ہیں۔
کرونا۔ بحران زور پکڑ رہا ہے۔
———–
سہیل دانش
—————
یہ شائد ہم سب کے لئے ایک نیا تجربہ تھا۔ تاریخ کی کتابوں میں پڑھا تھا کہ دنیا کے مختلف ادوار میں پھیلنے والے طاعون نے بنی نوع انسان پر کس ہیبت ناک انداز میں مصیبت ڈھا ئی۔ لاکھوں انسان لقمہ اجل بن گئے اور ہر کوئی خوف و ابتلاء میں مبتلاء ہو ا اور آج پھر دنیا کو کرونا کی شکل میں اس سے واسطہ آ پڑا ہے۔ جس نے دیکھتے ہی دیکھتے انسانوں کی سوچ اور انداز کو بدل ڈالا ہے۔ٹی وی اسکرین اور اخبارات کی صفحات پر یہی دردناک اور المناک کہانیاں بکھری پڑی ہیں کہ ہماری آنکھیں نیند، دماغ چین اور جسم آرام کو ترس گیا ہے۔ وسوسوں، اندیشوں اور ان دیکھے رینگتے ہوئے ہوئے خطرات نے کہیں لوگوں کو چوکنا کر دیا ہے اور کہیں بے خوف اور تفکرات سے آزاد لوگوں نے اس کو پوری گرمجوشی سے انجانے میں گلے لگا لیا ہے۔ یہ کرائسس جوں جوں زور پکڑ رہا ہے۔ شائد تمام لوگوں کو یقین آتا جا رہا کہ کرونا ایک حقیقت ہے۔
ہم اپنے سامنے دنیا کی اقوام کے رد وعمل کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ انکے بر وقت اقدامات اور غیر یقینی فیصلوں دونوں کے اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں ہم نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کا خوشی سے تمتماتا چہرہ بھی دیکھ رہے ہیں اور کوریا کے عوام کو سکھ اور اطمینان سے محفوظ مستقبل کی منصوبہ بندی میں مصروف عمل دیکھ رہے ہیں۔ جرمنی کی چانسلر دعویٰ کر رہی ہیں کہ انہوں نے کرونا کو چاروں شانے چت کر دیا ہے۔ قوموں کی زندگی میں اس سے بھی برے وقت گزرے ہیں۔
کیا آپ کو معلوم ہے کہ چار صدی قبل جاپان کے شہنشاہ اس درجے جاہل اور غیر سائینسی نظریات کے حامل تھے کہ انہوں نے شاہی فرمان کے ذریعے جاپان میں بحری جہازوں کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا لیکن آج نہ صرف دنیا میں سب سے ذیادہ سائینس دان اور انجینئر جاپان میں ہیں بلکہ یہی دنیا کی صف اول کی تجارتی طاقت سمجھا جاتا ہے۔
چین کی مثال لے لیجئے دنیا سات آٹھ دہائیوں سے قبل اسے افیونی ریاست کے نام سے پکارتی تھی، جس میں سمندر پار تجارت اور ماہی گیری پر پابندی تھی۔ اس کے شہنشاہوں نے سائینسی ترقی روکنے کے لئے نہ جانے کیا کیا جتن کئے تھے انقلاب کے بعد کی صورت حال بھی اتنی حوصلہ افزاء نہیں تھی۔ ماوزے تنگ نے نہ صرف میاں بیوی کے تعلقات پر پابندی عائد کر دی تھی بلکہ تعلیمی ادارے بھی بند کر دیئے تھے لیکن وہی چین آج دنیا کی جدید ترین اقوام کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہے۔
برطانیہ کی مثال لے لیجئے۔ اس ملک کی فکری آزادی کا یہ عالم تھا کہ ولیم ٹنڈیل کو بائبل کا ترجمہ کرنے کی پاداش میں زندہ جلا دیا گیا تھا۔ سیاسی شعور کی حالت یہ تھی کہ طوائفوں کی سفارش پر سر رابرٹ والپول کو وزیر اعظم بنا دیا گیا تھا۔انصاف کا تو یہ عالم تھا کہ بیسویں صدی کے وسط تک گورے کے ہاتھوں کالے کے قتل کی سزا فقط 16(سو لہ) روپے جرمانہ تھا۔
آپ پورے یورپ کی تاریخ پر نظر ڈالیں جہاں 17ویں صدی تک ارسطو اور افلاطون کے نظریات سے اختلافات کی سزا سزائے موت تھی۔ اٹلی میں آج ڈاکٹر عبد السلام کے سائنسی خدمات کے اعتراف میں ایک جدید ترین سائینسی لیبارٹری ان کے نام سے منسوب کر دی جاتی ہے۔ اسی اٹلی میں گلیلو جیسا سائنسدان کو ”زمین سورج کے گرد گھومتی ہے“کے اعلان پر سزائے موت کا حکم سنا دیا گیا تھا۔ اسی سوئیزرلینڈ کو دیکھئے جسے آج دنیا کا جنت قرار دیا جاتا ہے، وہ کل تک کرائے کے فوجیوں کا کیمپ تھا۔

امریکہ کی مثال لیجئے غلاموں کی جتنی بڑی تجارت اس ملک نے کی اتنا کریڈٹ کسی قوم کو نہیں جاتا ہے لیکن آج انسانی حقوق کا تحفظ تو رہا ایک طرف۔امریکہ ہر سال کتوں کی خوراک اور ادویات پر 17(سترہ)ارب ڈالر خرچ کرتا ہے۔
قوموں نے اپنے بحرانوں سے سیکھا اور نئے بہتر راستے اور تابندہ راستے اختیار کئے مگر آج ہم بحرانوں کے بوجھ تلے دبتے جا رہے ہیں۔ مایوسی پھیل رہی ہے۔غربت انتہائی پستی کو چھو رہی ہے۔ ہم من حیث القوم اس بحرانی کیفیت سے نکلنے کے لئے ہاتھ پاؤں مارتے دکھائی دے رہے ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ صرف یہ کہنے سے بات نہیں بنے گی کہ قوموں کی زندگی میں اس سے بھی برے وقت گزرے ہیں۔پاکستانی معاشرے کا زوال کوئی زوال نہیں ہے۔ہم یہ کہہ کر بھی خود کو مطمئن نہیں کر سکتے کہ ہمارا بحران تو تاریخ کے بحرانوں میں کوئی معانی رکھتا ہے۔ہاں شائد وہ یادیں ہمیں کچھ ڈھارس دیتی ہیں کہ ہم وہی قوم تو ہیں۔ بچپن کی وہ تابندہ یادیں شائد پوری طرح ذہن نشین نہ ہوں لیکن بعد میں بڑوں سے جذبوں اور اولو لعزمی کی جو داستانیں جنہیں سن کر حرارت محسوس ہوتی ہے۔ فخر کرنے کو دل چاہتا ہے کہ ہم تو اس قوم کے فرد ہیں۔ جس نے اپنی آزادی کے 18سال بعد 1965میں ایک درخشندہ اور روشن تاریخ رقم کر دی تھی کہ ہم من الحیث القوم اتحاد، یگانگت اور ملی یکجہتی کی مثال بن گئے۔پھر محض چھ سال بعد ہم سقوط ڈھاکہ کی شکل میں ایک ایسے حادثے کا شکار ہو گئے، جس نے ہماری قومی وحدت، سالمیت، اتحاد اور یگانگت کے تمام رنگ دھندلا دیئے ہیں۔ آزادی کی جدو جہد اور نئی مملکت کے قیام کے بعد ہم نے عزم و ہمت کا جو سفر شروع کیا تھا۔ اس میں ہمیں کئی نشیب و فراز سے گزرنا پڑا۔ہمارے دکھوں، مسائل اور جا بجا بکھری پریشانیوں کا ایک سلسلہ ہے۔ ہمارا معاشرہ گذشتہ کئی دھائیوں سے مسلسل انگڑائیاں لیتا رہا ہے۔
ایوب خان کے ابتدائی یعنی اکتوبر 1958سے 1961تک کا ایسا دور تھا جسکی مثالیں دی جاتی تھیں۔ معاشرے میں ڈسپلن، عمومی قانون کی عمل داری، انتہائی ذہین اور اپ رائیٹ بیورو کریسی، عام اشیاء کی قیمتوں پر کنٹرول،ذخیرہ اندوزی اور ملاوٹ کی بیخ کنی، تحفظ کا احساس، سو سائیٹی میں اطمینان کے ساتھ صنعتی اور زرعی ڈھانچے میں بہتری کے امکانات پیدا کرنے کی کوششیں۔ لیکن پھر اقتدار کو دوام دینے کی خواہش نے ان سے بے شمار غلط فیصلے بھی کرائے۔
یہی وہ دور تھا جب ملک میں ۲۲(بائیس) امیر خاندانوں کا بڑا چرچا رہا۔داؤد، حبیب، سہگل، ولیکا، آدم جی جیسے گروپ پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے تھے۔ اب انکی تیسری نسل جوان ہو گئی ہے۔1969سے یحیٰ خان کے پورے دور میں مارشل لاء کا سایہ رہا لیکن انہیں اندازہ تھا کہ ایوب خان کے آخری دور میں سیاسی ہیجان بڑھتا دکھائی دے رہا تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ اس کا کوئی نہ کوئی سیاسی حل ضرور نکالنا چاہیئے جس سے سیاسی ماحول کے ٹمپریچر میں کمی واقع ہو سکے اور کوئی متوازی اور نیم جمہوری نظام قائم کیا جا سکے۔ اس لئے سب سے پہلے انہوں نے ون یونٹ کے خاتمے اور ون مین ون ووٹ کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ ظاہر ہے کہ وہ اس سے یہ پیغام دینا چاہ رہے تھے کہ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان میں آبادی کی بنیاد پر جمہوری نظام کی تشکیل اور وسائل کی تقسیم کو یقینی بنایا جائے گا۔ انکے قریبی ساتھیوں کا کہنا تھا کہ یحیٰ خان ایک اسٹبراٹیجک ذہن کے مالک تھے۔ منصوبہ بندی اور دور بینی ان کی خوبیاں تھیں لیکن شراب کے نشے اور عشرت کدوں کی رونق سے وہ خود کو بچا نہ سکے۔ انہوں نے 1970کے انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا اور اس کے بعد پیش آنے والے واقعات تاریخ کا حصہ رہیں۔ وہ نہ حالات کے بدلتے تیور بھانپ سکے اور نہ بر وقت صحیح فیصلے کر سکے، جس کے نتیجے میں با لا آخر وطن عزیز دو لخت ہو گیا۔
ذرا سوچئے آج ہم کہاں کھڑے ہیں۔ یہ ہم نے اپنا کیا حال بنایا ہے۔غربت اور بے روزگاری نے ڈیرے ڈال دیئے ہیں۔کرپشن، لوٹ کھسوٹ اور ہیرا پھیری ہماری زندگیوں کا حصہ بن گئی ہے۔ محرومیوں نے ہماری آنکھوں کی چمک اور بیماریوں نے ہمارے لہجے کی شوخی چرا لی ہے۔تنگ دستی نے لوگوں کے برداشت کی بنیادیں ہلا دی ہیں۔ حکمران جب ریاست مدینہ اور اچھے دنوں کی نوید سناتے ہیں تو ماتم کرنے کو دل چاہتا ہے کیونکہ عام آدمی سے بات کرو تو وہ اندر سے بنجر اور باہر سے ویران نظر آتا ہے۔پھر بھی اگر ہم زندہ ہیں تو یہ ہمارے لئے خدا کی طرف سے ایک کھلا اور واضح پیغام ہے کہ ہم زندگی کے ہل سے اس کی کیاری میں اپنی پسند کے پھول اگا سکتے ہیں۔ بس اس کے لئے مشقت درکار ہے۔
پوچھنے والے نے پوچھا اللہ کے نزدیک کتنے گناہ ناقابل معافی ہیں۔
بتانے والے نے بتایا ”دو“
پوچھنے والے نے پوچھا۔ یا رسول اللہ ﷺ کون کون سے؟
حبیب خدا نے فرمایا۔ کسی کو اللہ کی ذات میں شریک کرنا اور نا امید ہونا۔
اس لئے نہ جانے مجھے بھی یہ امید بلکہ یقین ہے کہ اس ارض وطن کو کوئی ایسا نجات دہندہ ضرور ملے گا جو اس قوم کو ان اقوام کی قطار میں لا کھڑا کرے گا جن کی ترقی دیکھتے ہوئے آج ہمارے سروں سے ٹوپیاں گر جاتی ہیں کیونکہ جب خدا قوموں کا مقدر بدلتا ہے تو فرعون کے محل میں موسیٰ علیہ السلام کی پرورش کرتا ہے۔یوسف علیہ السلام کو اندھے کنویں سے نکال کر بادشاہ بنا دیتا ہے اور بکریاں چرانے والے گڈریئے کو پیغمبر بنا کر زمین پر اتار دیتا ہے