جج اور اہلیہ نے لندن کی جائیدادیں ظاہرنہیں کیں، فروغ نسیم

سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیس کی سماعت میں فروغ نسیم نے دلائل دیئے کہ آرٹیکل 63 کے تحت جائیدادیں ظاہر نہ کرنے والا رکن اسمبلی اپنی رکنیت سے محروم ہوجاتا ہے، جج بھی سروس آف پاکستان میں آتا ہے، جج کے مس کنڈکٹ کو کسی قانون کی خلاف ورزی تک محدود نہیں کرسکتے، معزز جج اور اہلیہ دونوں نے لندن کی جائیدادیں ظاہر نہیں کیں۔

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیس کی سپریم کورٹ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی۔

کیس کی سماعت کے آغاز میں جسٹس قاضی کے وکیل منیر اے ملک نے تحریری جواب عدالت میں پیش کر دیا، عدالت نے وکیل منیر اے ملک کو جواب جمع کرنے کی اجازت دی۔

وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ میں عدالت کے سامنے مس کنڈکٹ پردلائل دوں گا، اہلیہ معزز جج کی فیملی کا حصہ ہے، آرٹیکل 63 میں اہلیہ کے زیرکفالت کے حوالے سےکوئی تفریق نہیں رکھی گئی ہے۔

فروغ نسیم نے کہا کہ برطانیہ میں اہلیہ کی جانب سے بار کو خط لکھنے پر جج کے خلاف کارروائی ہوئی، پاکستان کا آئین غیر جانبدار ہے، آرٹیکل 209 میں اہلیہ کو زیر کفالت یا خود کفیل رکھنا بلا جواز ہے

انہوں نے مزید کہا کہ کسی کا اپنے یا اہلیہ کے نام جائیداد ظاہر نہ کرنا قابل سزا جرم ہے،آرٹیکل 63 کےتحت جائیدادیں ظاہر نہ کرنے والا رکن اسمبلی اپنی رکنیت سےمحروم ہوجاتا ہے،جج بھی سروس آف پاکستان میں آتا ہے۔

جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ فروغ نسیم صاحب کیا آپ کا یہی مقدمہ ہے،جو دلائل آپ دے رہے ہیں یہ آپ کا مقدمہ نہیں ہے،جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ آپ کا نقطہ یہ تھا مواد کونسل کے سامنے آنے کے بعد باقی چیزوں کی اہمیت نہیں رہی۔

فروغ نسیم نے کہا کہ افتخارچوہدری کیس کا اطلاق موجودہ مقدمے پرنہیں ہوتا،جوڈیشل کونسل کے شوکاز نوٹس کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا،الیکشن کمیشن کے پاس آنیوالے مواد پرازخود کارروائی کا اختیار ہے،الیکشن کمیشن نقائص پر مبنی درخواست پر کارروائی کرسکتا ہے۔

جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ یہ بتائیں کونسل کے سامنے جج کیخلاف آمدن سے زائد ذرائع کا مواد کیا تھا؟

فروغ نسیم نے کہا کہ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے سال 2008-09 میں بطور وکیل اپنی آمدن ظاہر کی،کسی فورم پر یہ ثابت کریں کہ اہلیہ کو جائیداد خریدنے کیلئے جج نے پیسے دیے۔

فروغ نسیم نے عدالت کیں کہا کہ میں آپ کا بہت احترام کرتا ہوں 15 سال کا ہمارا عزت و احترام کا رشتہ ہے جس پر جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ احترام کا رشتہ برقرار رہے گا سب چاہتے ہیں کیس کا جلد فیصلہ ہو۔

فروغ نسیم نے کہا کہ جج کے مس کنڈیکٹ کو کسی قانون کی خلاف ورزی تک محدود نہیں کرسکتے، معزز جج اور اہلیہ دونوں نےلندن کی جائیدادیں ظاہرنہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ وضاحت دینی ہے کہ پراپرٹیز کیسے خریدی گئیں،مگر آج کے دن تک اس سوال کا جواب نہیں دیا گیا، اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ ہوسکتا ہے کہ اہلیہ زیر کفالت ہو، اہلیہ کواپنےوالدین سےکچھ ملے، کیا وہ بتانا بھی خاوند کی ذمہ داری ہے؟۔

جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیئے کہ کسی عمارت کی بنیاد غلط ہو تو غلط ڈھانچے پرعمارت کھڑی نہیں ہوسکتی۔

فروغ نسیم نے کہا کہ اہلیہ کے اثاثے آمدن سے زائد ہیں،جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ایسا کونسا ریکارڈ ہے جس سے اہلیہ کے اثاثے آمدن سے زیادہ لگتے ہیں، اہلیہ کےاثاثے آمدن سے زیادہ ہیں تواس کا تعین کس فورم پر ہوگا،کیا اس بات کا امکان ہے کہ ایف بی آر اہلیہ سے ذرائع پوچھ لے؟

فروغ نسیم نے کہا کہ ایف بی آر پوچھے اور اہلیہ جواب دے تو کیس ختم ہو جائے گا یا پھر سروس آف پاکستان کے تحت یہ جواب خاوند نے دینا ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پھر اس بات پراصرار کیوں کررہے ہیں کہ جواب قاضی فائزعیسیٰ ہی دیں،فروغ نسیم نے بتایا کہ جج کے خلاف ڈسپلنری کارروائی کونسل کر سکتی ہے۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ کا مقدمہ پراپرٹیز کی ملکیت سےمتعلق ہے،کسی کے رہنے سہنے کے انداز کا مقدمہ آپ کا نہیں ہے،ریفرنس میں منی لانڈرنگ اورفارن ایکسچینج کی منتقلی کی بات کی گئی ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ صدارتی ریفرنس کے الزامات کا جائزہ جوڈیشل کونسل نے لینا ہے، اس مقدمے میں 9 ماہ گزر چکے ہیں۔

فروغ نسیم نے کہا کہ یہ نہیں ہوسکتاکہ سروس آف پاکستان کے ملازم کے بچے لگژری گاڑی چلائیں، ان کامزید کہنا تھا کہ اگر1969 کا قانون اتنا برا تھا تو اٹھارویں ترمیم میں پارلیمنٹ ختم کر دیتی۔

اس موقع پر کیس کی سماعت میں کچھ دیر کا وقفہ کردیا گیا۔

Courtesy jang news