وفاقی حکومت نے کراچی کے تین بڑے اسپتال کا کنٹرول صوبے سے واپس لے لیا

وفاقی حکومت نے کراچی کے 3بڑے اسپتال تحویل میں لے لئے ، اس حوالے سے وفاقی وزارت نیشنل ہیلتھ ریگولیشنزنےاسپتالوں کے سربراہان کو ہنگامی مراسلہ ارسال کردیاہے۔

مراسلہ جناح اسپتال ، قومی ادارہ برائے امراض قلب (این آئی سی وی ڈی) اور قومی ادارہ برائے صحت اطفال کی انتظامیہ کو لکھا گیا گیا ہے، جس میں مذکورہ اسپتالوں میں نئی بھرتیوں پر اور کسی بھی مشینری اور سامان کےباہر لیجانے پر پابندی عائد کردی ہے۔

وفاقی حکومت نے کراچی کے تینوں اسپتالوں سے دستیاب مشینری کا حساب مانگ لیا اور تینوں اسپتالوں کو تمام اشیا کی انوینٹری رپورٹ فوری ارسال کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

یاد رہے گذشتہ سال نومبر میں سپریم کورٹ نے جناح اسپتال (جے پی ایم سی) اور این آئی سی وی ڈی کی سندھ کو منتقلی غیر آئینی قرار دیتے ہوئے این آئی سی ایچ اور این ایم پی کی صوبے کو منتقلی بھی غیر آئینی قرار دیا تھا۔

فیصلہ کے مطابق سندھ اسمبلی کا منظور شدہ این آئی سی وی ڈی ایکٹ2014 غیر آئینی ہے، اس کے علاوہ شیخ زید اسپتال لاہور کی صوبائی حکومت کو منتقلی غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا گیاکہ شیخ زید اسپتال صوبے کو دینے کا فیصلہ وزیراعظم نے کیا تھا کابینہ نے نہیں۔

فیصلہ میں مزید کہا گیا تھا کہ این آئی سی ایچ1990میں جے پی ایم سی سے الگ ہوکر وفاق کو منتقل ہوا، اٹھارہویں ترمیم عمل درآمد کمیشن نے اپنی حدود سے تجاوز کیا تھا، جے پی ایم سی اور این آئی سی وی ڈی کا وفاقی ادارے ہونا پہلے سے تسلیم شدہ ہے۔

بعد ازاں سپریم کورٹ کی جانب سے جناح اسپتال ،این آئی سی وی ڈی، این آئی سی ایچ اور شیخ زید اسپتال کو وفاق کے تحت چلانے کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے وزارت صحت نے انتظامی کنٹرول کیلئےا سپتالوں کے اثاثوں، ملازمین اور بجٹ کی تفصیلات طلب کی تھیں۔

Courtesy ary news