کچھ بچے ان کے ساتھ کھیلتے نہیں تھے

میں عام طور پہ کوشش کرتی ہوں کہ ہمیشہ وہ لکھ سکوں۔ جو لکھنے کے لیے مجھے لفظ اور واقعات بنانے نہ پڑیں۔ میں اپنے مشاہدات و زندگی سے حاصل کیے تجربات کی روشنی میں کسی بھی چیز کو جانچتی ہوں۔ میں نے اپنے گھر میں زیادہ وقت اپنے نانا کے ساتھ گزارا۔ اور مجھے فخر ہے کہ ان کی شخصیت کا عکس مجھ میں نظر آتا ہے۔ بچے کی نفسیات اپنے اردگرد کے ماحول سے بہت متاثر ہوتی ہے۔ جو انہیں سکھایا یا بتایا جائے اس میں سے بہت کچھ ساری زندگی ساتھ چلتا ہے۔

اخلاقیات و انسانوں سے ہمدردی و احساس کے جذبات بچہ اپنے اردگرد سے ہی سیکھتا ہے۔ ہمارے گھر کے سامنے والی فیملی شیعہ تھی۔ یہ مجھے محلے میں کھیلنے والے بچوں سے پتہ چلا۔ کیونکہ کچھ بچے ان کے ساتھ کھیلتے نہیں تھے۔ میں نے ان کے ساتھ کھیلنا اور ان کے گھر جانا شروع کیا لیکن میری امی یا نانا نے کبھی نہیں روکا۔ ایسے ہی میری بچپن کی بیسٹ فرینڈ میری بیسٹی ایسے بنی کہ ہم بچے ٹرین بنا کے کھیل رہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ ساتھ والے ہمسایوں کی بچی ہمیں دیکھ رہی ہے۔ دبلی پتلی کمزور صحت اور گنجا سر۔ اور اس پہ کوئی مرہم لگا تھا۔ اسے کہا آؤ کھیلو۔ تو باقی لڑکیوں نے کہا کہ اگر یہ کھیلے گی تو ہم نہیں کھیلیں گے۔ یہ گندی ہے۔ اسے بیماری ہے ہم بھی بیمار ہو جائیں گے۔ میں لائن میں سے نکل گئی کہ جب تک یہ نہیں کھیلے گی میں بھی نہیں کھیلوں گی۔ یا میں اس کے ساتھ کھیلوں گی۔ تم لوگ آپس میں کھیلو۔ کچھ دیر کی بحث کے بعد وہ ہماری ٹرین کا انجن بنی اور میں اس کے پیچھے تھی۔ وہ آج بھی میری دوست ہے۔

بے شک ہمارے نظریات و سوچ بالکل مختلف ہے۔ مگر وہ میری زندگی کا حصہ ہے۔ یونہی کلاس نائنتھ میں ہماری کلاس میں دو بہنیں نیو ایڈمیشن آئیں۔ میری ان سے دوستی ہو گئی۔ ایک دن اس نے کہا کہ جب تمہیں پتہ چلے گا کہ ہم کون ہیں تو تم بھی ہمارے ساتھ نہیں بیٹھو گی۔ پتہ چلا شیعہ ہیں۔ تب سمجھ نہیں تھی۔ گھر گئی امی سے پوچھا کہ شیعہ کون ہوتے ہیں۔ ہم کون ہیں۔ تو امی نے بس ایک بات کہی۔ کہ سب انسان ہیں۔ شیعہ سنی کچھ نہیں ہوتا۔ جب بڑی ہو گی تو سمجھ لو گی۔ پوچھا کہ کیوں پوچھ رہی ہو تو اس لڑکی کی بات بتائی۔ امی نے کہا تم ان کے ساتھ دوستی رکھو۔ بحث نہیں کرنی کسی سے۔ سو یہ عادت آج تک ساتھ ہے۔ گھر میں کوئی ملازمہ رکھی تو اسے ساتھ بیڈ پہ سلاتے رہے۔ اپنے ساتھ بٹھا کے کھانا کھلاتے۔ کپڑے جوتے ہر چیز کا نانا خیال رکھتے۔ شام کی چائے پہ چار کپ بنا کے گلی کی نکڑ پہ لے جاتے۔ اور انکل موچی، انکل نائی، اور دکان والے انکل کے ساتھ گپیں لگا کے چائے پی کے آتے۔ (مجھے ان کے نام نہیں آتے سو میں جو کہتی تھی وہی لکھ دیا) ۔

میں نے بنیادی اخلاقیات و انسانیت نانا کو دیکھ دیکھ کے سیکھی۔ اسی چیز نے سکھایا کہ اہم انسان ہے۔ قوم، فرقہ و نظریات بعد کی باتیں ہیں۔

اب آتے ہیں قوم پرستی کے ایشوز پہ۔ ہمارے کچھ دوست اس بات پہ ناراض ہوتے ہیں کہ ہم فلاں موضوع پہ نہیں بولتے۔ ہم فلاں ایشو پہ کیوں نہیں پوسٹ کرتے۔ ہم نے اگر فلاں بات کی ہے تو فلاں کیوں نہیں کی۔ بلوچوں کے لیے بات کرو۔ ہم اچھے ہیں۔ سندھیوں کے لیے بات کریں تو ہم اچھے ہیں۔ پختون کے لیے بات کریں۔ تب بھی ہم بہت اچھے ہیں۔ تو جب ہم پنجابی کے لیے بات کرتے ہیں تو تب کیوں ہمیں برا بھلا کہا جاتا ہے۔ اگر پنجابی اسٹبلشمنٹ سے کسی کو شکایتیں ہیں۔ تو وہ شکایتیں تو ہم بھی رکھتے ہیں۔ اس کا برملا اظہار بھی کرتے ہیں۔ اپنی شناخت کے ساتھ کرتے ہیں۔ احتجاجوں میں جاتے ہیں۔ مسنگ پرسنز کے لیے بولتے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ایسا بولنا ہمیں نقصان دے سکتا ہے۔ پنجابی اسٹیبلشمنٹ سے شکوے شکایت بجا۔ لیکن اس میں عام پنجابی کا کیا قصور ہے۔ وہ کیوں بلوچستان میں شناخت کر کے مارا جاتا ہے۔ اس کے قتل پہ کیوں اس طرح سے آواز نہیں اٹھتی جس طرح سے کسی بلوچ کے قتل پہ اٹھتی ہے۔ اگر محرومی کے نام پہ عام پنجابی کو مار کے آپ کی محرومی دور ہو جاتی ہے تو پھر چار گولیاں میرے سینے پہ بھی مار دیجئیے۔ کچھ تو ازالہ ہو۔

انفرادی اعمال پہ پوری قوم سے نفرت سمجھ سے بالاتر ہے۔ پنجاب میں باڑہ مارکیٹ، اوریگا، لبرٹی، نیو اوریگا اور مون مارکیٹ کے علاوہ بھی بے شمار پختون دکانیں لے کر کام کر رہے ہیں۔ بلکہ کپڑے کی دکانیں زیادہ تر ان کی ہیں۔ میں نے کبھی کسی پنجابی کو ان کے ساتھ بدتمیزی کرتے نہیں دیکھا۔ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ پنجاب میں کوئی لاپتہ یا ماروائے عدالت کام نہیں ہوتا۔ ان کو پھر دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ کہ وہ کیا مس کر رہے ہیں۔

میں یہ واقعہ کبھی نہ لکھتی مگر مجھے بطور مثال لکھنا پڑ رہا ہے۔ ہم کراچی رہتے تھے۔ گلشن اقبال بلاک نمبر آٹھ تھا شاید۔ میری عمر چھ اور سات سال کے درمیان تھی۔ ہمارا فلیٹ سیکنڈ فلور پہ تھا۔ گراونڈ فلور والے فلیٹ میں میری دوست رہتی تھی۔ وہ لوگ فلیٹ چھوڑ گئے تو وہاں ایک بلوچ آ کے رہنے لگا۔ میں گراونڈ میں بیٹھ کے کہانیاں پڑھتی تھی۔ اردو پڑھنا میں نے سیکھ لیا تھا۔ جب سب گھر والے دوپہر میں سو جاتے تو میں چپکے سے نکل جاتی۔

اور کبھی کسی سے مانگ کے کبھی اپنے پیسوں سے کہانی کی کتابیں لے کر پڑھتی۔ پڑھ کے کسی اور کو دے دیتی۔ کہ گھر میں لے کر جاتی تو ڈانٹ پڑتی تھی۔ مجھے نہیں پتہ کہ اس بلوچ کو یہ سب کیسے پتہ تھا کہ میں کہانیاں پڑھتی ہوں۔ اس نے ایک دن مجھے بلایا۔ اور کہا کہانی سنو گی۔ ہمیں امی نے یہ تو منع کر رکھا تھا کہ کسی سے بھی کوئی چیز لے کر نہیں کھانی۔ مگر کہانی نہیں سننی یہ نہیں سمجھایا۔ میں اس کے فلیٹ چلی گئی۔ اور تب وہ بیڈ ٹچ کرتا، ساتھ ساتھ کہانی سناتا۔ کہانی کے شوق میں مجھے کچھ پتہ چلتا نہ ہی پتہ تھا کہ یہ سب کیا ہوتا ہے۔ ایک بار اس نے مجھے کہا پارک چلنا ہے۔ میں نے کہا ہاں۔ ہمارے بلاک سے سفاری پارک زیادہ دور نہیں تھا۔ میں کبھی کبھار اکیلی بھی چلی جاتی تھی۔ تو اس نے مجھے ساتھ لیا اور چل پڑا۔ سفاری پارک جانے کے دو راستے تھے۔ ایک مین اور ایک ویران اور ٹیلوں والا۔ جب وہاں تک پہنچے تو اس نے مجھے گود میں اٹھا لیا۔ اور ٹیلوں والی سائیڈ جانے لگا۔

میں نے کہا انکل یہاں سے کیوں جا رہے ہیں کہتا کہ بس وہ سامنے ہی تو پارک ہے۔ کہانی سناتا ہوں۔ تھوڑا آگے گئے تو میرے ماموں سامنے سے آ رہے تھے۔ مجھے دیکھ لیا۔ گھرک کے کہا۔ کتھے جا رئی ایں۔ میرا تو دم نکل گیا۔ ماموں نے اسے کہا کہ کہاں لے کر جا رہے ہو۔ کہتا کہہ رہی تھی پارک جانا ہے۔ ماموں نے کہا تم ہو کون اس کی ماں سے پوچھا ہے۔ وہ گھبرا گیا۔ اور بھاگ گیا۔ ماموں نے مجھے پکڑا گھر گئے۔ امی کو بھی ڈانٹا، میری شامت بھی آئی۔

جبکہ میں یہ جانتی نہیں تھی کہ وجہ کیا ہے۔ میں تو پارک ہی جا رہی تھی۔ اس بلوچ کی لینڈ لارڈ سے شکایت کی گئی۔ کچھ دن میں وہ چلا گیا۔ جب شعور کو پہنچے۔ تب سمجھ لگی کہ کیا ہونے جا رہا تھا۔ تب بلوچوں کے نام سے ذہن میں خوف بیٹھ گیا۔ کوئی بھی لمبا تڑنگا تگڑا آدمی دیکھتی۔ تو لگتا جیسے یہ وہی بلوچ ہے۔ تب میرے ساتھ کچھ بھی ممکن تھا۔ مگر شاید اتفاق اسے ہی کہتے ہیں کہ ماموں وہاں سے گزر رہے تھے۔ سو میں بچ گئی۔ یہ لکھتے ہوئے میں جھرجھری محسوس کر رہی ہوں۔ مگر نفرت نہیں۔

پھر فیس بک پہ آئے۔ یہاں آ کے ہر قوم سے دوست بنے۔ جب مسنگ پرسنز کی کہانیاں سنیں تو وہ خوف ہمدردی میں بدل گیا۔ بدلنا بھی چاہیے تھا۔ کہ کسی ایک کے برے عمل کی وجہ سے میں پوری قوم سے بیر کیوں رکھوں۔ میرے لیے تمام انسان چاہے وہ کسی مذہب کے ہیں، کسی بھی فرقے سے ہیں، کسی بھی قوم سے ہیں۔ سب برابر ہیں۔ سب کے خون کا رنگ لال ہے۔ ہر اس انسان کی تکلیف مجھے تکلیف دیتی ہے۔ جس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہو۔ مجھے اس کی ذات پات سے فرق نہیں پڑتا۔

سوشل میڈیا کا پلیٹ فارم ایک مضبوط پلیٹ فارم کے طور پہ سامنے آیا ہے۔ بلکہ اسے پریشر گروپ بھی کہہ سکتے ہیں۔ ہم سب کو مل کے اس پہ ہر مظلوم کے لیے آواز اٹھانی ہے۔ نا کہ اس بات کو لے کر لڑائی کرنی ہے۔ کہ تم ہمارے لیے نہیں بولے تو ہم تمہارے لیے آواز کیوں اٹھائیں۔ ویسے ہے تو شرمندگی کی بات۔ مگر میں جس پروٹیسٹ پہ گئی ہوں۔ تعداد بارہ پندرہ بندوں سے زیادہ نہیں ہوتی۔ مگر فیس بک پہ ہزاروں ہوتے ہیں۔ یہ کھلا تضاد ہی ہے۔ انسانیت کو فروغ دیجئیے۔ بنا رنگ نسل فرقے مذہب و قوم کے۔ آپ کے معاشرے کے آدھے مسائل حل ہو جائیں گے۔ ہم اگر پنجابی پیدا ہو گئے ہیں تو اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں۔ پنجابی بھی انسان ہی ہیں
——————-

نوشی بٹ