یادوں کے جھروکوں سے … وفا شعاروں اور جان نثاروں کی سر زمین

دریائے جہلم سے اُس پار پنڈدادنخان سے دریا کے اِس پار کھاریاں تحصیل میں تعیناتی اپریل 1986 میں ہوئی۔ یہ ایک وسیع و عریض تحصیل تھی۔ جس میں لالہ موسیٰ میونسپل کمیٹی کے علاوہ کھاریاں، ڈنگہ، سرائے عالمگیر اور کوٹلہ ارب علی خان کی ٹاؤن کمیٹیاں بھی شامل تھیں اور آزاد کشمیر کے ساتھ ایک اچھی خاصی بیلٹ بھی لگتی ہے۔ یہ ستمبر 1965 کی جنگ کے ہیرو میجر راجہ عزیز بھٹی شہید نشانِ حیدر کی جنم بھومی بھی ہے۔ ذیادہ تر لوگ ناروے اور ڈنمارک وغیرہ میں مقیم ہیں۔ اُن دنوں کھاریاں اور منڈی بہاولدین ضلع گجرات کی تحصیلیں تھیں۔ سوہنی مہینوال کے تناظر میں اور ویسے بھی گجرات وفاشعاروں اور جان نثاروں کی سر زمین ہے۔

کھاریاں میں جائن کرنے کے بعد جو سب سے بڑا مسلہ درپیش تھا وہ وہاں ہمارے فاضل پیش رو اور بار کے درمیان پائی جانے والی کشیدہ صورت حال تھی جو بار میں واضح طور پر دو گروپوں میں کھلی محاذ آرائی کی کیفیت ظاہر کر رہی تھی۔ بہرحال میرے ساتھ وہاں نہایت ہی وضع دار، اور ایک اعلٰی خاندانی روایات کے امین حسن مبرور کیانی جو بعد ازاں بطور سیشن جج حافظ آباد ریٹائر ہوئے تعینات تھے۔ ہم دونوں نے مل کر بار میں پیدا شدہ کشیدگی کو کافی حد تک نارمل کیا۔ گروپنگ تو فطری تھی مگر ماحول میں تلخی اور کشیدگی معمول کے حالات کار کو خراب کر رہی تھی۔ بہرحال کچھ عرصہ بعد صورت حال کافی بہتر ہو گئی۔ حسن مبرور کیانی کے بعد ایک نہایت محنتی، بہت ہی اعلٰی انسانی قدروں کا علمبردار اور ہنس مُکھ دوست سیّد اطہر حسین گردیزی اور نہایت ہی اُجلے اور کھرے، ریاکاری اور منافقت سے مبّرا ہمارے ہمدم دیرینہ تنویر میر وہاں تعینات ہو گئے۔ اطہر حسیں گردیزی بعد ازاں راولپنڈی کی پوسٹنگ کے دوران عین عالم شباب میں ہمیں داغ مفارقت دے گئے۔ ایسے باکمال دوست کی یاد میرے لیے ایک مستقل سوھان روح ہے۔

میری پوسٹنگ کھاریاں میں تقریباً سوا تین سال رہی اور بار اور بنچ کے درمیان اتنی ہم آہنگی، ادب و احترام، رواداری قائم ہوئی کہ کچھ باتیں لکھتے ہوئے شاید جذباتی ہو جاؤں۔ یہ ایک محنتی اور پروفیشنل بار تھی۔ اُس وقت راجہ محمّد لطیف مرحوم سول سائیڈ کے بہترین وکیل تھے۔ اُنکے ساتھ مرزا محمّد نواز، میاں محمّد اسلم مرحوم، چوہدری ارشاد دھوریہ، حافظ محمّد صادق، عابد بٹ، میاں اعجاز، میاں اشرف، چوہدری نواز، راجہ ایوب قاسم، میاں ناصر، چوہدری بشیر لنگڑیال، چوہدری نصیر، چوہدری میاں خان مرحوم، چوہدری زمان، شیخ افتخار اور دیگر کئی نام اب یاد بھی نہ رہے ہیں۔ ساری بار میں غیر متنازعہ اور نہایت وضع دار چوہدری اقبال پسوال اور دھیمے مزاج کے چوہدری ریاست اور بہت ہی پیارے اور دل آویز چوہدری ثاقب بشیر بھی نمایاں لوگوں میں شامل تھے۔ اس وقت میری اطلاع کے مطابق مرزا محمّد نواز اور راجہ ایوب قاسم کھاریاں میں فوجداری کے خصوصاً مرڈر ٹرائل کے leading وکیل ہیں۔ چوہدری فضل حسین بھی فوجداری سائیڈ پر اچھے وکیل تھے۔ پھر گجرات سے ضابطہ دیوانی کے حافظ اور دبنگ وکیل چوہدری محمّد اسلم بوڑا مرحوم اور اعلٰی اخلاق و مروت کی تصویر خواجہ احسن ایڈوکیٹ مرحوم بھی کبھی کبھار کھاریاں تشریف لاتے۔

بار کے تعاون اور بار اور بنچ کے درمیاں ہم آہنگی کے دو واقعات صورت حال کو سمجھنے کے لیے مدگار ہونگے۔ یہ غالباً فروری کے مہینے کی 8 یا 9 تاریخ ہو گی۔ رجسٹرار ہائی کورٹ کی طرف سے ایک لیٹر موصول ہوا کہ کھاریاں جیسی چھوٹی سب ڈویژن میں 242 فیملی مقدمات pending ہیں جو کہ بہت زیادہ ہیں۔ اسکی وجوہات بیان کریں۔ خیر اسکی وجوہات تو میں نے الگ سے بیان کیں جن میں یہ بھی شامل تھا کہ کھاریاں ایک بہت بڑی تحصیل ہے اور میں اکیلا سول جج درجہ اوّل ہوں۔ تمام فیملی مقدمات میں اس وقت درجہ اوّل سول جج ہی سماعت کا اختیار رکھتا تھا۔ مگر میں نے وہ لیٹر اپنی ٹیبل کے شیشے کے نیچے رکھ کر اُسی روز سے فیملی مقدمات کو فوکس کرنا شروع کردیا۔ سول مقدمات تقریباً 1500 کے قریب تھے۔ بار کے ممبران کو اس لیٹر کی اہمیت سے آگاہ کیا اور فروری کے بقیہ 16/17 ورکنگ ڈیز میں 120 فیملی مقدمات فیصلہ کر دیے۔ ایسا بھی ہوا کہ شہادت مدعیہ کے لیے دعویٰ تنسیخ نکاح و نان نفقہ مقرر ہے۔ اُسی روز شہادت مدعیہ قلمبند کی۔ کونسل مدعالیہ نے کہا کہ سر مدعالیہ بھی حاضر ہے۔ میں نے صرف اسکا بیان ہی قلمبند کروانا ہے۔ وہ بھی قلمبند ہو جاتا۔ کاروائی مصالحت بھی اُسی روز مکمل ہوتی۔ اور دونوں وکلاء ہنستے ہوئے کہتے کہ چونکہ آج ہی آپ نے شہادت قلمبند کی ہے۔ اسلیے مثل پڑھ کر فیصلہ کر دیں۔ بحث کی ضرورت نہ ہے۔ اور یقین مانیے اُسی روز وہ دعویٰ فیصلہ کر دیا جاتا۔ کیا یہ بار کے تعاون کے بغیر مکمن ہے؟

پھر یہ غالباً چیف جسٹس غلام مجدّد مرزا صاحب کے زمانہ میں ایک بڑی سخت قسم کی ڈائرکشن موصول ہوئی کہ تمام تین سال سے زائد مقدمات 30 نومبر 1987 تک فیصلہ کر دیے جائیں اور اس غرض کے لیے تقریباً 6/7 ماہ کا ٹائم دیا گیا۔ مگر ساتھ یہ حکم بھی شامل تھا کہ جو مقدمات ٹارگٹ ڈیٹ تک فیصلہ نہیں ہو نگے ججز ان مثلوں کے ساتھ ہائی کورٹ میں حاضر ہو کر وجہ بیان کریں گے۔ اُس وقت میں اور اطہر گردیزی مرحوم دو سول جج تھے۔ ہم نے پرانے مقدمات کی لسٹیں تیار کرائیں۔ دونوں کے پاس تقریباً تین تین سو ایسے مقدمات نکلے۔ جو کہ بہت زیادہ تھے۔ صدر بار کو میں نے بار میں آنے کی خواہش ظاہر کی کہ چائے کا کپ پینا ہے۔ لہٰذا بار کے اجلاس میں ہم دونوں سول جج بھی پہنچ گئے۔ میں نے وہ لیٹر صدر بار کے حوالہ کیا۔ اور کہا کہ اسے مہربانی کر کے با آواز بلند پڑھ کر سب کو سنا دیں۔ اب ان مقدمات میں نہ تاریخ ہو گی اور نہ دیدہ دانستہ تاخیری حربے استعمال کیے جائیں گے۔ یقین مانیے کہ ہم دونوں نے وہ تمام مقدمات تاریخ مقررہ سے قبل فیصلہ کیے اور زیرو pendency ظاہر کی۔ ایک ایک مہینہ میں 50/55 کے قریب contested judgements بھی لکھیں۔ آخری ایک ڈیڑھ ماہ میں جب ٹارگٹ ڈیٹ قریب آرہی تھی اور تھوڑا پریشر بڑھا تو ایک ہی دن میں سول مقمدمات میں مدعالیہ کی شہادت قلمبند کی، تردیدی شہادت مدعی لکھی، بحث سماعت کی، اسی روز فیصلہ سنایا اور لکھوایا اور گھر کی راہ لی۔ اس دوران نہ کوئی مقدمہ کی ٹرانسفر کی درخواست آئی نہ کوئی ایسی متفرق درخواست دی گئی کہ جس سے مقدمہ کی طوالت مقصود ہو۔

ایک دو دفعہ ذاتی معاملات سے بھی کھاریاں بار کی وضع داری، فراخ دلی اور ہمارے اُنس و محبت اور ادب و حترام کا رشتہ ظاہر ہو گا۔ یہاں تعیناتی کے دوران آبائی گاؤں میں کوئی جھگڑا ہو گیا۔ بار میں اس کی اطلاع ہو گئی کہ کچھ لوگ مجھے follow کر رہے ہیں۔ یہ بات شاید بہت سے لوگوں کے لیے ناقابل یقین ہو کہ ممبران بار نے از خود میرے گرد ایک حفاظتی حصار قائم کر دیا۔ میرے لیے یہ سب کچھ بڑا حیران کن مگر مسحور کن بھی تھا۔ ایک روز میں وقفہ کے دوران عدالت سے ملحقہ گلی میں اپنے گھر پیدل جا رہا تھا کہ میں نے محسوس کیا کہ کوئی مجھے follow کر رہا ہے۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو میاں اعجاز ایڈوکیٹ جو اُس وقت کافی جوان اور لمبے چوڑے جسم کے مالک تھے۔ میں نے سمجھا شاید کوئی ارجنٹ میٹر ہے۔ انہوں نے کہا سر آپ چلتے جائیں میں آپ کو گھر تک چھوڑنے جا رہا ہوں آپ اکیلے باہر نہ نکلا کریں۔ پھر ایک روز سیالکوٹ جانے کے لیے اپنی گاڑی میں سوار ہو رہا تھا کہ چوہدری ارشاد دھوریہ ایڈوکیٹ جو اب بہت بزرگ ہو چکے ہیں اور اُس وقت صدر بار بھی تھے۔ میری گاڑی کے سامنے آئے۔ گاڑی سے باہر نکالا اور مجھے چند منٹ رکنے کا کہا۔ تقریباً آدھ گھنٹہ بعد چوہدری ارشاد نے اپنی گاڑی معہ تین گن مین مجھے دیےاور کہا کہ آپ اس گاڑی میں سیالکوٹ جائیں گے۔ اپنی کار استعمال کرنا خطرہ سے خالی نہ ہے۔ کہاں سے لائیں گے ایسے وضع دار اور پیار کرنے والے جانسار لوگ۔ یہ ہماری سروس کے پہلے 6/7 سال تھے۔ اور ہم ایک مسّلمہ رائے بنا چکے تھے کہ بار اور بنچ کے تعلقات باہمی ادب و احترام، رواداری در گزر اور خوش اخلاقی کی مضبوط بنیادوں پر ہی دیر پا استوار رہ سکتے ہیں۔ جج اگر مسکراتے چہرے اور نرم اور میٹھے الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے ریلیف دینے سے انکار بھی کرے تو وکلاء سر جھکا کر احترام سے باہر چلے جاتے ہیں۔ لیکن اگر جج صاحب مزاج میں اکڑپن، غصّہ اور وکیل کی کم علمی کا مذاق اڑاتے ہوئے بے شک ریلیف دے بھی دیں تو وکلاء کو اس ریلیف سے کوئی قلبی آسودگی اور راحت نہ ملتی ہے۔ اُس زمانہ میں بار جج صاحبان سے خوش اخلاقی، متحمل مزاجی، بردباری، قانون پر گرفت، وکلاء کا احترام اور میٹھے بول کی متقاضی ہوتی تھی۔ رہی ایمان داری تو یہ جج کے لیے اس وقت بھی لازمی شرط تھی اور اب بھی ہے۔ شاید بارز اس طرح کے ججز کی ہی قدر کرتی ہیں۔ ویسے ایک جج جو اپنی کورٹ کو احسن طریقہ سے smooth چلا رہا ہو اور دوسری طرف روزانہ افراتفری یا بد مزگی کا احتمال ہو تو پھر سیشن جج کو بھی پہلے والا جج ہی اچھا لگتا ہے۔ اب اپنے بار کے بھائیوں کے لیے بھی ایک مشورہ کہ اپنے طویل عدالتی تجربہ کی بنیاد پر بے لاگ طریقہ سے کہہ سکتا ہوں کہ عدالت میں ادب، احترام اور عدالتی تقدس کو ملحوظ خاطر رکھنے والے وکلاء اپنی شیریں زبان اور کرٹسی سے وہ ریلیف لے جاتے ہیں جو عدالت کو مرعوب کر کے نہیں لیا جا سکتا۔ لہٰذا وکالت میں کامیابی کا گُر آپ کی محنت کے ساتھ ساتھ حُسن اخلاق، رکھ رکھاؤ اور شائستہ مزاجی میں ہے۔ اگر کسی مثال کی ضرورت ہے تو کھاریاں میں ہی مرزا محمّد نواز اور راجہ ایوب قاسم دیکھ لیں کہ آج وہ اپنے حُسن اخلاق اور پروفیشنل کمٹمنٹ کی وجہ سے کس مقام پر کھڑے ہیں۔

جب کھاریاں میں جائن کیا تو چوہدری عبدالمجید مرحوم ایک شریف النفس سیشن جج گجرات تھے۔ پھر شیخ مظفر حسین جن کے ساتھ پہلے ہی اوکاڑہ میں کام کر چکا تھا تشریف لائے۔ شیخ صاحب بڑے ہی وضع دار اور رکھ رکھاؤ والے انسان تھے۔ کبھی کسی جوڈیشل افسر کو غصّہ میں بھی بلاتے تو پہلے جوس یا چائے پلاتے پھر بات کرتے۔ اُنکے بعد کچھ عرصہ نہایت ہی دھیمے مزاج اور بڑے ہی خلیق چوہدری ظفر اللہ مرحوم بطور ASJ 1 قائمقام سیشن جج کے فرائض انجام دیتے رہے۔ اور 1988 میں پہلی بار عدلیہ کی زیر نگرانی عام انتخابات اُنکی سر کردگی میں ضلع گجرات میں کرائے۔ پاکستان میں الیکشن کی تاریخ اور اس میں عدلیہ کے کردار پر الگ سے لکھنا چاہتا ہوں کہ میرے پاس لکھنے کو کافی مواد ہے۔ پھر بڑے ہی دبنگ اور کھرے سردار غلام فرید ڈوگر بطور سیشن جج گجرات تعینات ہوئے۔

کھاریاں میں کینٹ کا علاقہ نہایت خوبصورت اور دلفریب ہے۔ اسکا آفیسرز کلب نہایت اعلٰی معیار کا ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر کھاریاں تاج خٹک جو کہ ایک ذہین و فطین، تگڑے اور دوستوں کے دوست کی شہرت رکھنے والے PCS آفیسر تھے انہوں نے شام کو مجھے ساتھ لینا اور ہم دونوں نے کینٹ کلب میں ٹینس شروع کر دی۔ منگلہ کور کے ٹورنامنٹ میں بھی شرکت کی اور ہماری واحد سویلین ٹیم ٹورنامنٹ کے فائنل میں بھی پہنچ گئی۔ خٹک صاحب تو ٹرانسفر ہو گئے مگر میں واحد سویلین وہاں سارا عرصہ تعیناتی ٹینس کھیلتا رہا۔ بلکہ کھاریاں کینٹ کے GOC میجر جنرل سعید الزمان جنجوعہ مرحوم جو کہ پولو کے بہترین کھلاڑی ہونے کے ساتھ ساتھ ٹینس بھی عمدہ کھیلتے تھے اُنکا مستقل پارٹنر رہا۔ میرے کھاریاں سے ٹرانسفر پر جنرل صاحب نے بہت عمدہ Hi-tea ارینج کی اور پورے فوجی پروٹوکول اور ڈسپلن کے ساتھ مجھے الوداع کیا۔ یہ ماضی کی بڑی خوش کن، دلفریب اور حسین یادیں ہیں۔ کیسے بھلا سکتا ہوں۔

اُسی ذمانہ میں وہاں بڑے ہی زیرک اور زمینی حقائق کا بخوبی ادراک رکھنے والے سکندر حیات بھٹی مجسٹریٹ بھی یہاں تعینات تھے۔ اور شام کو بیڈ منٹن کورٹس کی بڑی رونق تھے۔ کھاریاں کا نیا خوبصورت جوڈیشل کمپلیکس جو بر لب جی۔ٹی روڈ ہے اس کی جگہ میں نے ہی تجویز کی تھی جسے جناب جسٹس میاں محبوب احمد نے موقعہ پر آ کر پسند فرمایا۔

ایک دلچسپ واقعہ بیان کرنا ضروری ہے۔ دیہاتی بیک گراؤنڈ اور اپنے آبائی گاؤں کے قریب پوسٹنگ ہونے کی وجہ سے بہت سے بے وقت سفارشیوں کو بھی بھگتنا پڑتا ہے۔ ایک روز ہم عدالت میں ایک تقسیم جائیداد کے دعویٰ میں فائنل بحث سماعت کر رہے تھے کہ عدالت کے بلکل سامنے ایک گاڑی آ کر رکی۔ اس میں ہمارے گاؤں سے ایک دور کے عزیز اور دو دیگر آدمی باہر نکلے۔ میں نے نائب قاصد کو کہا کہ میرے اس عزیز کو پیچھے چیمبر میں بٹھا کر چائے وغیرہ پلاؤ۔ اس بات سے بلکل لا علم کہ موصوف کس مقدمہ میں سفارش کرنے آئے ہیں۔ میں نے بحث سماعت کرنی جاری رکھی۔ غالباً وہی فریق جو انہیں ساتھ لایا تھا وہ پچھلی طرف سے بھاگ کر چیمبر میں گیا اور اُس سفارشی کو اطلاع کی کہ کیس دوران بحث ہی فیصلہ نہ کر دیا جائے اور آپکی آمد کی ساری غرض و غایت اکارت جائے۔ لہٰذا اب وہ سفارشی چیمبر کا دروازہ کھول کر جو کہتا ہے اُسی کے الفاظ میں نقل کرنا مناسب ہے “ قریشی صاحب یہ وہی مقدمہ ہے جس میں میں سفارش کرنے آیا ہوں” فریقیں اور اُنکے وکلاء کے علاوہ دیگر کافی وکلاء عدالت میں موجود تھے۔ ایک بلند آواز قہقہ بلند ہوا۔ میں کچھ شرمندہ سا ہوا۔ اب دیکھیے دونوں وکلاء کا ظرف کہ میں نے فائل پرے ریڈر کی طرف پھینکی اور کہا کہ اس کا ریفرنس ڈسٹرکٹ جج صاحب کو بھیج رہا ہوں۔ میں اب اسکی سماعت نہیں کر سکتا ہوں۔ مگر دونوں وکلاء بضد ہو گئے کہ ہمارے کلچر میں ایسا ہوتا رہتا ہے۔ اور ابھی تک آپ کو یہ پتہ نہ ہے کہ کس فریق نے یہ سفارش کرانے کی کوشش کی ہے اور عدالت پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا۔ میں نے پھر بھی یہ مقدمہ سننا مناسب نہ سمجھا۔

کھاریاں تعیناتی کے زمانہ کا ایک اور واقعہ بیان کرنا ضروری سمجھتا کہ اس میں ہماری عدالتی تاریخ کا ذکر بھی ہوگا۔ ان دنوں کھاریاں میں تعینات ایک مجسٹریٹ دفعہ 30 جسے جوڈیشل مجسٹریٹ بھی کہتے تھے اور وہ ایگزیکٹو سروس سے ہوتے تھے انکا تبادلہ ہو گیا اور تقریباً ایک سال تک اُنکا متبادل نہ آیا۔ ہم سے پہلے والا سول ججز کا 1979 کا Batch تھا جسے غالباً 1984 کے لگ بھگ دفعہ 30 مجسٹریٹ کے اختیارات مل چکے تھے۔ اُسکے بعد حکومت پنجاب نے باقاعدہ لکھ پڑھ کر کسی بھی سول جج کو دفعہ 30 کے اختیارات دینے بند کر دیے۔ کھاریاں بار کا ایک وفد اس سلسہ میں اس وقت کے درویش منش چیف جسٹس جناب اے۔ایس۔سلام مرحوم کو ملنے کے لیے گیا۔ انہوں نے معاملہ جسٹس سردار محمّد ڈوگر فاضل انسپکشن جج ضلع گجرات کی طرف ریفر کر دیا۔ جج صاحب ایک سخت گیر جج کی شہرت رکھتے تھے۔جناب انسپکشن جج صاحب مجھے ذاتی طور پر بلکل بھی نہ جانتے تھے۔ انہوں نے بار کا مطالبہ سنا، میرے بارے میں پوچھا۔ بار نے تعریفی کلمات کہے۔ سیشن جج گجرات کو اُسی وقت فون کیا۔ انہوں نے بھی غالباً اچھے الفاظ کہے تو جسٹس ڈوگر صاحب نے فرمایا کہ پھر عابد قریشی کو ہی دفعہ 30 کے اختیارات کیوں نہ دلوائے جائیں۔ یہ شاید تاریخ میں پہلی مثال ہو گی کہ میں اپنے batch میں چوتھے نمبر پر تھا اور صرف میرے اکیلے کے لیے انسپکشن جج صاحب نے ایک D.O لیٹر اُسی وقت سیکرٹری داخلہ حکومت پنجاب کو لکھا اور اس سے اگلے روز ہی مجھے مجسٹریٹ دفعہ 30 کے اختیارات مل گئے۔ یہ بات بڑی دلچسپ بھی ہے اور حیران کن تو ہے ہی کہ پھر 1994/1995 تک کسی بھی سول جج کو مجسٹریٹ دفعہ 30 کے اختیارات نہیں ملے۔ یہ سب اللہ تعالٰی کا خاص کرم ہے اور اسے بھی میں غیبی مدد گردانتا ہوں۔ اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہے۔

کھاریاں میں تعیناتی کے دوران میں نیپا کورس پر تھا کہ میرے والد محترم کی اچانک وفات ہو گئی۔ کھاریاں بار کے ممبران تقریباً سارے کے سارے مزدا گاڑیوں میں اور کچھ ذاتی گاڑیوں میں سوار ہو کر میرے گاؤں سیالکوٹ جنازہ میں شرکت کے لیے پہنچے۔ اور اپنا الوداعی ریڈ کارپٹڈ بار کا عشائیہ کیسے بھول سکتا ہوں کہ جس میں چوہدری بشارت علی صدر اور لطیف لنگڑیال سیکرٹری بار نے بڑے خُلوص اور چاہت سے بار روم کو جس طرح برقی قمقموں سے آراستہ کیا اور بڑی خوبصورت تقریریں اور نظمیں پڑھی گئیں۔ پھر سیشن جج جناب سردار غلام فرید ڈوگر مرحوم کا اپنی تقریر میں یہ کہنا کہ عابد قریشی نے کھاریاں بار کے دلوں پر حکمرانی کی ہے میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہ تھا۔ اس طرح ایک شورش زدہ طلاطم خیز سٹیشن لینے کے بعد سوا تین سال میں اللہ کے فضل و کرم سے اُسے امن کے جزیرہ میں تبدیل کر

کے ہم کھاریاں سے گجرانوالہ روانہ ہوئے۔

عابد حسین قریشی

Some- memories -of- My -farewell- by- Kharian -Bar.Our -friend- Late- Raja- Abdul -Qayyum -and -respected -Zafarullah- Saraw -are- also- in -the- picture- with- Ch.Mazzhar -Minhas -sahib -and – late- Sardar- Ghulam- Farid- Dogar- Sessions -judge- Gujrat.