پاکستانی صحافت کا معتبر نام۔ سید صفدر علی

سید صفدر علی کا شمار پاکستان کے ایسے سینئر اور تجربہ کار صحافیوں میں ہوتا ہے جن کی وجہ سے صحافت کا شعبہ آج بھی معتبر ہے انہوں نے اپنے تمام شاندار کیریئر میں صحافت کے بنیادی اور زریں اصولوں کے مطابق غیر جانبداری اور مصدقہ معلومات پر مبنی رپورٹنگ کی۔ وہ حالات اور واقعات کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیتے ہوئے پورے سیاق و سباق کے ساتھ مضامین اور کالم لکھتے ہیں

۔انہوں نے اپنے کیریئر میں متعدد اہم انکشافات سے بھرپور انٹرویوز کیے جنہیں صحافت کے طالب علموں کے لئے ایک روشن مثال کی حیثیت حاصل ہے آنے والی نسلیں سید صفدر علی کے مضامین کالموں اور انٹرویو سے بہت کچھ سیکھ سکتی ہیں سید صفدر علی نے پرنٹ میڈیا کے علاوہ الیکٹرونک میڈیا میں بھی اپنی صلاحیتوں اور تجربے کا بھرپور مظاہرہ کیا وہ نہایت ذہین قابل اور محنتی انسان ہیں


طاقتور ترین حکمرانوں اور انتہائی بااثر سیاست دانوں اور دیگر شعبوں کے نامور لوگوں کے قریب ہونے کے باوجود انہوں نے اپنے یا اپنے قریبی لوگوں کے لئے کبھی کوئی ناجائز فائدہ نہیں اٹھایا بڑے بڑے لوگ کس پہ شلوار کرتے رہے کہ وہ ان کی خدمت کرنا چاہتے ہیں انہیں کوئی موقع دیا جائے لیکن سید صفدر علی نے ہمیشہ اپنی سادہ اور اصولوں پر مبنی پرسکون زندگی کو باقی تمام چیزوں پر فوقیت اور اہمیت دی ان کے گھر والوں نے بھی ان کا پورا ساتھ دیا ۔سید صفدر علی کا حلقہ احباب بہت وسیع ہے وہ کافی عرصے سے علیل ہونے کے باوجود زندہ دلی اور پوری ہمت کے ساتھ اپنی پروفیشنل ذمہ داریاں ادا کرتے آرہے ہیں اور انہوں نے سوشل میڈیا پر بھی خود کو متحرک اور سرگرم رکھا ہوا ہے جو ایک خوش آئند بات ہے ۔


سید صفدر علی کے عروج کا زمانہ روزنامہ صداقت اور روزنامہ نوائے وقت کے لئے ان کی شاندار اور بے مثال رپورٹنگ تھی ۔ان کی خبریں انکشافات سے بھرپور اور انٹرویوز دھماکہ دار ہوتے تھے اور ہر مرتبہ ان کی خبریں اور انٹرویوز صحافت میں نئی بحث چھیڑ دیتے تھے سید صفدر علی نے اپنی زندگی کا طویل عرصہ نوائے وقت کو دیا اس کے بعد روزنامہ خبریں کے ساتھ منسلک رہے اور الشرق اخبار نکالا ۔بعد ازاں وہ ایک میگزین کے ساتھ وابستہ ہوئے اور اس کے بعد انہوں نے الیکٹرونک میڈیا کا رخ کیا اور پاکستان کے انتہائی مقبول ٹی وی چینل میٹرو کے ڈائریکٹر کرنٹ افیئر کی حیثیت سے فرائض انجام دیے ۔وہ مختلف ٹی وی ٹاک شوز میں بھی بطور تجزیہ نگار شرکت کرتے رہے ہیں ان کے مضامین اور کالموں میں پاکستان کی سیاست کے نشیب و فراز اور مختلف حکومتوں کے عروج و زوال کی

داستان بیان کی گئی ہے یقینی طور پر وہ پاکستان کے سرکردہ سیاست دانوں اور حکمرانوں کے نزدیک ہونے کی وجہ سے بہت سے اہم واقعات کے چشم دید گواہ ہیں ان کا مطالعہ بھی بہت وسیع ہے مختلف سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کے قائدین سے ہونے والی آف دی ریکارڈ گفتگو ان کی یادوں میں موجود ایسا خزانہ ہے جسے کسی بھی وقت اگر وہ کتابی شکل دی یا منظر عام پر لائے تو ایک سنسنی اور کھلبلی مچا سکتے ہیں ۔
سیاستدان ہوں یا صحافی برادری ہر جگہ سید صفدر علی کا نام انتہائی عزت اور احترام سے لیا جاتا ہے لوگوں سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اور وہ خود بھی انتہائی مخلص اور شفیق انسان ہیں ۔صحافت میں ان جیسے خوش مزاج اور زندہ دل لوگ کم ہیں وہ بہت بڑے دل کے مالک ہیں اور صحافت میں ان کے شاگردوں کی بھی بہت بڑی تعداد ہے ۔

وہ اپنے سینئر اور ہم عصروں کا ذکر بہت انداز میں کرتے ہیں اور اپنے جونیئر ز کی ہمیشہ رہنمائی اور مدد کرتے ہیں ۔وہ جتنے بڑے صحافی ہیں اتنے ہیں عظیم انسان ہیں