اے آر وائی نیوز ہیڈآفس میں 60 سے زائد کورونا پازیٹو۔۔-نوائے وقت کراچی آفس میں بھی کرونا مریض سامنے آگئے

اے آر وائی نیوز ہیڈآفس میں 60 سے زائد کورونا پازیٹو۔۔-نوائے وقت کراچی آفس میں بھی کرونا مریض سامنے آگئے

اے آر وائی نیوز میں نشاندہی کے باوجود سوشل ڈسٹنسنگ اور احتیاط نہ کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ نیوز روم سمیت پورا اے آر وائی ہیڈآفس کورونا وائرس کی شدید لپیٹ میں ہے

ساٹھ سے زائد ورکرز کو کورونا پازیٹیو ہوا ہے۔۔ ان ساٹھ لوگوں میں کنٹرولر، ایگزیکٹیو پرڈیوسر، شفٹ انچارجز، پی سی آر ہیڈ، سمیت نیوزکے ہر شعبے کے لوگ شامل ہیں

یک سو بیس ورکرز کے ٹیسٹ لئے گئے جن میں سے ساٹھ سے زائد کا پازیٹیو رزلٹ آیا ہے، اس طرح جو تناسب بنتا ہے اس کے مطابق اے آر وائی نیوز ہیڈآفس کے پچاس فیصد ورکرز کورونا کا شکار بن چکے ہیں
جن لوگوں نے کورونا کے اثرات محسوس کرکے انتظامیہ کو بتایا تھا انہیں چھٹی نہیں مل سکی جس کی وجہ سے وہ کوارنٹائن نہ ہوسکے اور یہ وائرس پھیلتا چلا گیا
اب یہ ساٹھ سے زائد لوگ جب کورانٹائن ہوں گے اور چھٹیوں پر چلے جائیں گے تو دفتر میں کام کون کرے گا؟؟ باقی بچ جانے والوں پر کام کا کتنا بوجھ پڑے گا؟ یہ سب باتیں انتظامیہ نے ماضی میں اپنے کارکنوں کو فائر کرتے وقت نہیں سوچا ہوگا۔
اے آر وائی کے مشہور اینکر اقرارالحسن کی اہلیہ فرح یوسف پہلے ہی کرونا کی شکار ہو چکی ہیں

کراچی اور ملک کے مختلف شہروں میں میڈیا ہاؤسز میں کرونا کے مریضوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے

ایک طرف میڈیا ہاؤسز کے ملازمین کرونا کا شکار ہو رہے ہیں دوسری طرف ان کی تنہائی اور واجبات بھی رکے ہوئے ہیں ۔میڈیا ہاؤس کے ملازمین اور ان کے اہل خانہ کے لئے اس وقت ڈبل مشکلات ہیں