نیب بمقابلہ کے ایم سی

کراچی(اسٹاف رپورٹر) قومی احتساب بیورو (نیب) نے بلدیہ عظمی کراچی میں اربوں کے ترقیاتی فنڈز کی لوٹ مار پر تحقیقات تیز کردی ہیں اور اس سلسلے میں گذشتہ دنوں کے ایم سی محکمہ انجینئرنگ کے دفتر میں نیب کی ٹیم نے چھاپہ مار کر افسران سے گذشتہ چھ سالوں کا ریکارڈ طلب کرلیا ہے جس میں ٹینڈرنگ کے طریقہ کار، کامیاب کنٹریکٹرز کی تفصیلات ،میجرمنٹ بک (ایم بی )اور ترقیاتی کاموں کا فزیکل سروے کو بھی شامل کیا گیا ہے ،انتہائی باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ بلدیہ عظمی کراچی کے اعلی افسران کی مبینہ آشیرباد سے ترقیاتی اسکیموں کو غیر متعلقہ محکموں کو منتقل کرکے اربوں روپے کا فنڈ ٹھکانے لگایا گیا ہے جس کیلئے بوگس ٹینڈرنگ کرکے ٹھیکوں کی بڑے پیمانے پر خریدوفروخت کی گئی ہے،کے ایم سی ذرائع کا کہنا ہے کہ سٹی گورنمنٹ کے کالعدم ہونے کے باوجود ڈیوالو کے نام پر کے ایم سی کی ترقیاتی اسکیمیں محکمہ ایجوکیشن ورکس،محکمہ ہائی وے ڈویژن سمیت سندھ حکومت کے دیگر محکموں کو غیر قانونی طور

پر منتقل کی گئیں جہاں سے بوگس ٹینڈرنگ کرکے چور دروازے سے اربوں روپے کے ٹھیکے چہیتے کنٹریکٹرز کو بھاری کمیشن کے عیوض فروخت کئے گئے ،اس سلسلے میں ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ سابق ایڈ منسٹریٹرز نے بھی کراچی کے اربوں روپے کے فنڈز کو ٹھکانے لگایا تاہم منتخب نمائندوں کے آنے کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا اور سندھ حکومت سے ملنے والے سالانہ اے ڈی پی فنڈز کی ہر سہہ ماہی سے بھاری رقم تاحال غیر متعلقہ محکموں سے ٹھکانے لگائے گئے کاموں کی ادائیگی کیلئے منتقل کی جارہی ہے،ذرائع کے مطابق نیب نے اس سلسلے میں تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کردیا ہے جس کے باعث کئی اہم افسران کے گرفت میں آنے کا امکان ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ کے ایم سی محکمہ مالیات اور محکمہ انجینئرنگ کے افسران کے مبینہ گٹھ جوڑ سے کراچی کی ترقی کے اربوں روپے کے فنڈزبدعنوانیوں کی نذر کئے گئے ہیں،تاہم نیب کی جانب سے طلب کئے گئے ریکارڈ اور تحقیقات کے باعث غیر متعلقہ محکموں کے ایکسئن جس میں بلخصوص محکمہ ہائی وے ڈویژن کے ایکس سی این کیخلاف بھی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں ،ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی اداروں نے ٹینڈرنگ کے عمل سے لیکر ادائیگیوں اور کئے جانے والے کاموں کا فزیکل سروے کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، دوسری طرف ذرائع کا کہنا ہے کہ بلدیہ کراچی کے حکام نے موجودہ سنگین صورتحال پر افسران کو ہری جھنڈی دکھاتے ہوئے افسران کو اپنا اپنا دفاع خود کرنے کی ہدایت کردی ہے اور جن جن افسران کے ذریعے ترقیاتی کام کرائے گئے انہیں تفصیلات اورجواب تحقیقاتی اداروں کو خود فراہم کرنے کی ہدایت کردی ہے جس کے باعث افسران میں سخت کھلبلی ،بے چینی اور خوف وہراس پھیل گیا ہے۔۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں