روس کا بڑا دعویٰ

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں کرونا وائرس کا علاج تلاش کرنے کے لیے 100 سے زائد ویکسن پر تیزی سے کام جاری ہے، کوویڈ سے متاثر ہونے والے تیسرے بڑے ملک نے دعویٰ کیا ہے کہ اُس نے کرونا کا ممکنہ علاج کرنے والی ’ایوی فیور‘ نامی دوا تلاش کرلی۔

محققین نے ایوی فیور یا فیوی پیراویر نامی اینٹی وائرل دوا کو کرونا وائرس کے علاج کے لیے مؤثر قرار دیا جس کے بعد امریکا اور جاپان کی حکومتوں نے اس کو ہنگامی حالات میں استعمال کرنے کی منظوری بھی دے دی ہے۔

روس کی وزارت صحت نے اس دوا کو کووڈ 19 کے علاج کے لیے محفوظ اور موثر قرار دیتے ہوئے گیارہ سرکاری اسپتالوں میں بڑی تعداد میں یہ دوا بھیج دی ہے تاکہ اس کی مدد سے متاثرہ افراد کا علاج شروع کیا جائے۔

روس میں ایوی فیور کی آزمائش اپریل میں شروع ہوئی، جن مریضوں پر اس دوا کا تجربہ کیا گیا وہ تیزی صحت یاب ہوئے۔ ماہرین نے ایوی فیور کے ابتدائی نتائج کو حوصلہ افزا قرار دیا تھا۔

کورشین ڈائریکٹر انویسٹمنٹ فنڈ (آر ڈی آئی ایف) کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ دوا کے ابتدائی کلینکل ٹرائز کے نتائج بھی بہتر آرہے ہیں، ڈاکٹر نے اب تک 60 میں سے 40 فیصد مریضوں کو یہ دوا دی جس کے بعد وہ پانچ روز میں صحت یاب ہوگئے۔

رپورٹ کے مطابق ایوفیور آخری مرحلے کے کلینیکل ٹرائلز میں داخل ہوچکی ہے، اس ضمن میں 330 مریضوں اس کی خوراک دی گئی اور اُن کی صحت پر پڑنے والے اثرات کی رپورٹ جاری کی جائے گی۔

آر ڈی آئی آر ڈی آئی ایف کے مطابق دوا کے استعمال سے بہت کم دنوں میں متاثرہ افراد میں علامات کو کم کرنے میں مدد ملی اور تیز بخار کا دورانیہ بھی کم ہوا، آخری مرحلے کے کلینیکل ٹرائلز کے نتائج رواں ہفتے سامنے آجائیں گے۔

آر ڈی آئی ایف کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کیریل دیمیتروف نے گزشتہ دنوں بتایا تھا کہ یہ جاپانی دوا دنیا میں کووڈ 19 کے حوالے سے سب سے زیادہ بہتر ہے۔

انہوں نے اس دوا کو گیم چینجر قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ ایویفیور کے بعد ہمیں امید ہے کہ جلد معمولات زندگی بحال ہوجائیں گے، ہر ماہ 60 ہزار مریضوں کا علاج ہوسکے گا‘۔

کیریل دیمتروف کے مطابق دس سے زائد ممالک نے اس دوا کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور اس حوالے سے بات چیت جاری ہے۔انہوں نے بتایا کہ اپنی طلب پوری کرنے کے بعد اسے برآمد کیا جائے گا۔

واضح رہے روس میں اب تک کرونا وائرس کی وجہ سے 6 ہزار 532 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ یاد رہے کہ جاپان میں تیار ہونے والی اس اینٹی وائرل دوا کو فیوی پیراویر کے نام سے دنیا بھر میں جانا جاتا ہے جبکہ کچھ ممالک اس دوا کو ایوی فیور کے نام سے شناخت ملی ہے۔

Courtesy Ary News