پی ٹی وی انتظامیہ کے بلنڈر پر بلنڈر

نیا پاکستان۔تزئین اختر
tazeen303@gmail.com
14جون2020ء
پاکستان ٹیلی ویژن پر کشمیر کے انتہائی قابل اعتراض نقشے دکھانے کے معاملے میں وہی ہوا جس کا خدشہ ہم نے اپنے10جون کے کالم کے آخر میں ظاہرکردیا تھا۔انتظامیہ نے وہی کام کیا کہ چھوٹوں کی قربانی دے کر بڑوں کو بچالیا اور تو اور ایک ایسے افسر کو بھی بکرا بنادیا جس کا نام انکوائری کے آفس آرڈر میں تھا ہی نہیں۔ہم نے لکھا تھا کہ اگر ایسا کیا گیا تو پھر ہم دیکھیں گے اور یہاں ہم وہی دیکھنے جارہے ہیں۔9جون2020ء کے آفس آرڈر پر 10جون2020ء کی شام تک انکوائری مکمل کرکے ایکشن بھی لے لیا گیا۔قائمقام ہیڈ کرنٹ افیئرز چوہدری اکرم اور ایک پروڈیوسر تیمور یونس کو فارغ کردیا گیا ہے جبکہ ایک ریسورس پرسن ندا سجاد کو معطل کیا گیا ہے۔اس طرح پروڈیوسر اور ریسورس پرسن جیسے چھوٹے ملازمین کیخلاف کارروائی کی جارہی ہے جبکہ جس نمایاں افسر کو نشانہ بنایاگیا اس کا خود پی ٹی وی انتظامیہ کے اپنے آفس آرڈر کے مطابق اس معاملے سے کوئی لینا دینا ہی نہیں تھا۔
پی ٹی وی کے انکوائری آرڈر میں جن کیخلاف تحقیقات مقصود تھیں ان کے نام ہم 11جون کو شائع کرچکے ہیں۔وہ یہ ہیں۔
1۔قطرینہ حسین۔چیف نیوز اینڈ کرنٹ افیئرز
2۔کنول مسعود۔ڈائریکٹر پروگرامز
3۔عبدالرشید خان،کنٹرولر انچارج کرنٹ افیئرز
4۔مکیش کمار،پروڈیوسر پروگرامز
5۔تیمور یونس (آر پی)پروڈیوسر
6۔ندا سجاد(آر پی)
7۔محمد سدھیر۔اسسٹنٹ
تکنیکی اعتبار سے اور پیشہ وارانہ طور پر دیکھا جائے تو اس سارے معاملے میں بنیاد ی طور پر دو ہی نام ہیں جن سے وضاحت لینی چاہیے اور اخلاقی حوالے سے بھی ان کو چاہیے کہ اپنی ذمہ دار ی قبول کریں۔1خاور اظہر ہیڈ آف کانٹنٹ(مواد) یعنی جو بھی مواد پی ٹی وی پردکھایا جائے گا اس کی ذمہ داری خاور اظہر کی ہے۔2۔قطرینہ حسین۔چیف نیوز اینڈ کرنٹ افیئرزجن کا بنایا اور چلایا ہوا یہ سارا انتظام ہے اور وہ اس کی باس ہیں۔نیچے جو بھی ہوا انہی دونوں کے سسٹم میں ہوا اور انہی دونوں کی اپنی ٹیم نے کیا۔ہم نے بھی اداروں کی قیادت کی ہے۔متعدد اخبارات کی ادارت کی۔اگر کبھی اخبار میں کوئی قابل اعتراض بات شائع ہوگئی تو ہم نے خود ذمہ داری قبول کی اور کبھی کسی جونیئر یا ماتحت سطح کے بندے کو قربانی کا بکرا نہیں بنایا۔خاور اظہراورقطرینہ حسین میں یہ دم نظر نہیں آیا۔
مذکورہ بالا7ناموں کے ساتھ جاری آفس آرڈر میں پی ٹی وی انتظامیہ نے لکھا کہ یہ انتہائی غیر ذمہ داری اور غفلت کا مظاہرہ تھا اور اس سے ادارے کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ چیف ٹیکنالوجی آفیسر اور ڈائریکٹر سپورٹس کو ان لوگوں کیخلاف انکوائری کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔آفس آرڈر میں لکھا ہے کہ یہ انکوائری کمیشن معلوم کرے گی کہ
1۔ ان افرار پر لگائے گئے الزامات درست ہیں نہیں؟۔

2۔ذمہ داری کا تعین کریں اور اگر کوئی الزام ہے تو اس کی کیفیت بتائیں؟
3۔آئندہ ایسے واقعات رونما نہ ہونے کے لئے سفارشات پیش کریں۔کام مکمل کرکے پی ٹی وی ایس او پی/پالیسی کے مطابق2دن کے اندر رپورٹ کریں۔
اس آفس آرڈر میں پی ٹی وی انتظامیہ جو بادی النظر میں چیئرمین ارشد خان اور ایم ڈی عامر منظور ہیں وہ خود یہ سمجھتے ہیں اور قرار دیتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جن پر الزام ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جن کی وجہ سے انتہائی غیر ذمہ داری اور انتہائی غفلت کا مظاہرہ ہوا اور یہی وہ لوگ ہیں جن پر ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا الزام ہے اور جو نقصان ہے وہ ناقابل تلافی ہے۔ذمہ دار جو بھی ہے لہذا کارروائی بھی انہی کیخلاف بنتی ہے اور اس میں بھی پھر یہ بات آجاتی ہے کہ بڑوں کو اخلاقی طور پر خود یہ بوجھ اٹھانا چاہیے۔اگر قطرینہ حسین اورخاور اظہرکم وبیش17لاکھ اور 15لاکھ وصول کررہے ہیں تو اسی تناسب سے ان کو ذمہ داری بھی قبول کرنا چاہیے۔یہ کیا کہ ملائی کھائیں اوپر والے اور سزا پائیں چند ہزار یے۔پھر دوسری بات یہ کہ کیا پروڈیوسر کم ریسورس پرسن لیول کے لوگ اس ادارے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاسکتے ہیں؟یعنی ان کے کمزور کندھوں پر اتنا ورک لوڈ ڈالا ہوا ہے؟یعنی اگر چھوٹی سطح کے لوگ اتنے بڑے ادارے کو اتنے بڑے بڑے ناموں کی موجودگی میں ناقابل تلافی نقصان پہنچاسکتے ہیں تو یہ بڑے نام وہاں بیٹھ کر جھک ماررہے ہیں؟
اور پھر جب اعلیٰ ترین سطح پر طے کرلیا گیا کہ ذمہ داری کا تعین ان7افراد میں سے کرنا ہے تو پھر چوہدری اکرم کو کیوں فارغ کیا؟ان کا تو نام ہی موجود نہیں ملزموں کی فہرست میں۔پھر ایک ایس او پی /پالیسی کی بات کرتے ہیں تو25سال سروس والے اس سنیئر آدمی کو اس طرح فارغ کیا جاسکتا ہے؟آپ تو خود ادارے کی پالیسی کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔آپ نے خود اپنی انکوائری کو ناقابل اعتبار اور بدنیتی پر مبنی ثابت کردیا ہے۔انتظامیہ نے اس طرح سے ایک طرح سے اعتراف کرلیا ہے کہ ان کے پاس انتظام چلانے کی اہلیت ہے ہی نہیں۔
انتظامیہ نے ایک اور حوالے سے بھی جانبداری کا مظاہرہ کیا۔انکوائری میں امتیا ز گل اور مشعل بخاری کے پروگرام”نکتہ امتیاز“پر فوکس کیا پھر اس میں بھی دونوں میزبانوں کے نام شامل نہیں کیے حالانکہ وہ بھی ذمہ داربنتے ہیں کیونکہ بطور میزبان ان کابھی فرض ہے کہ دیکھیں وہ کیا دکھارہے ہیں۔دوسراپروگرام رائزنگ پاکستان شامل ہی نہیں کیا جس کے میزبان توثیق حیدر ہیں اور غلط نقشے وہاں بھی دکھائے گئے۔اس پر گزشتہ کالم میں تفصیلی لکھ چکا ہوں۔توثیق حیدر کا پروگرام انکوائری میں شامل نہ کرنے کی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ وہ اور خاور اظہر مشترکہ مشاغل رکھتے ہیں اور توثیق حیدر کوخاور اظہر کی خاص پسندیدگی حاصل ہے۔
اب آجائیں کہ یہ انکوائری ہواکے گھوڑے پر سوار ہوکر کیوں کی گئی؟یعنی9جون کو آفس آرڈر اور 10جون کی شام انکوائری مکمل اور ٹی وی پر خبر چلادی۔جب یہ معاملہ گرم ہو ا تو اس کی حدت پارلیمنٹ تک بھی پہنچی۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اطلاعات کو معاملہ سونپا گیا جس کا
اجلاس11جون کو طلب تھا۔اس لئے پی ٹی وی انتظامیہ نے انتہائی جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ انکوائری کی تاکہ 11جون کو کمیٹی کے اجلاس میں کارروائی ڈالی جاسکے مگر شومئی قسمت وہ اجلاس ملتوی ہوگیا۔اب انہوں نے جلد بازی میں ایک بلنڈر چھپانے کے لئے دوسرے بلنڈر کرلئے مگر معاملہ ابھی سینیٹ کمیٹی میں باقی ہے۔دوسری طرف جن لوگوں کو غلط طور پر برطرف کیا گیا وہ یقینا کورٹ جاسکتے ہیں۔وہاں اور باتیں بھی سامنے لے آئیں گے۔لہذا آنے والے دنوں میں مزید نت نئے انکشافات کا امکان ہے۔یہ معاملہ چھوٹی سطح کے ملازمین کو قربانی کا بکرا بنا کر ختم ہوتا نظر نہیں آرہا۔
مطلب پکچر ابھی باقی ہے میرے دوست