آن لائن کلاسِز پر ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن(DSF) اور ڈیموکریٹک یوتھ فرنٹ (DYF) کا مشترکہ نکتہ نظر

آن لائن کلاسِز پر ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن(DSF) اور ڈیموکریٹک یوتھ فرنٹ (DYF) کا مشترکہ نکتہ نظر

کرونا وائرس کی وبا نے جب دُنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا تو دیکھتے ہی دیکھتے پوری دُنیا کا نظام اور اس کی رفتار یک دم رُک سی گئی۔ کوئی بھی شعبہ ہائے زندگی اس وبا سے شدید متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکا۔ یہی کچھ حال شعبہ تعلیم کا بھی رہا یعنی فِزیکل ڈسٹنیسِنگ پر عمل درآمد کرتے ہوئے تمام اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں غیر معینہ مدت تک بند کردی گئیں لیکن ساتھ ہی اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ترقی یافتہ ممالک نے یہ حل بھی نکالا کہ انھوں نے انٹرنیٹ کے پلیٹ فارم کو بروئے کار لاتے ہوئے آن لائن کلاسِز کا آغاز کیا۔ جس کے لیے ان ممالک کے پاس پورے ملک میں ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات کی موجودگی اور ان سہولیات تک تمام شہریوں کی قدرے سستی رسائی، بر وقت کام آئیں اور اس کے ساتھ ان ممالک کے پاس آن لائن پورٹل اور تربیت یافتہ تدریسی عملہ موجود ہونا مؤثر ثابت ہوا۔ ان تمام پہلوؤں کے پیشِ نظر ہی آن لائن ایجوکیشن کا عمل کامیاب ہو سکا اور تمام تر طلبہ بلاتفریق اس سے مستفید ہوئے۔

اس کے بر عکس، پاکستان میں شروع سے ہی کرونا وائرس اور اس کے اثرات سے نمٹنے کے لئے کوئی بھی مؤثر پالیسی نہیں بنائی گئی حتیٰ کہ اکثر اوقات یہ گُمان بھی ہوتا کہ ہمارے پالیسی میکرز تذبذب کا شکار ہیں جس کے باعث پورے ملک میں ایک افراتفری کا سماں ہے۔ وزیرِاعظم نے متعدد بار یہاں تک کہا کہ پاکستان کے حالات و زمینی حقائق مغربی ممالک سے مختلف ہیں لہذا ہم وہ اقدامات اپنے ملک میں نہیں اپنا سکتے جن پر مغربی ممالک عمل پیرا ہیں. ہھر اسی دلیل کو جواز بنا کر لاک ڈاؤن ختم کردیا گیا اور کاروبار کھول دیے گئے۔ مگر یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ کیا بنیادی اسباب و مُحرکات ہیں جن کے باعث ہمارے پالیسی میکرز اس ہلاکت خیز وبا کو روکنے والے، وہ اقدامات جو عوام دوست تھے، اُنہیں مغربی ماڈل کہہ کر اُن سے تو ہاتھ اُٹھا چُکے لیکن شعبہء تعلیم کے معاملے میں آنکھیں موند کر اس مغربی ماڈل کو ہُو بہُو اپنانے کی خاطر بھیڑ چال کا حصہ بن گئے وہ بھی اس بات سے قطع نظر کہ آیا ہمارے مُلک کا انفراسٹرکچر ایسے کسی عمل کو چلانے کے قابل ہوگا بھی یا نہیں؟

ملکوں کے کاروباری اور معاشی اعداد و شمار جمع کرنے والے ادارے The Global Economy کے پاکستان کے متعلق 2017 کے اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان کی لگ بھگ 30.21 فیصد آبادی، بجلی تک رسائی سے محروم ہے یعنی وہ ملک جس کی ایک تہائی آبادی کے پاس بجلی جیسی بنیادی سہولت تک نہ ہو اُسے تعلیم کے لیے آن لائن کلاسز کا حل دینا انتہائی ناعاقبت اندیشی اور شعوری تعلیم و طلبہ دُشمنی کے مترادف ہے۔ اسی طرح انفارمشن اینڈ کمپیوٹر ٹیکنالوجی (ICT) تھِنک ٹینک LIRNEasia کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے صرف 57 فیصد شہریوں کے پاس موبائل فون ہے جس میں 22 فیصد کے پاس اسمارٹ فون اور دیگر کے پاس عام فون یا بغیر انٹرنیٹ کا موبائل فون ہے۔ اسی رپورٹ کے مطابق پورے پاکستان میں صرف دو فیصد آبادی کے پاس انٹرنیٹ سے کنیکٹِڈ کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ ہے۔ یاد رہے اس رپورٹ کے لیے ریسرچ میں معاون اداروں میں انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ ریسرچ سینٹر (IDRC) کینیڈا، دی فورڈ فاؤنڈیشن اور سوئیڈش انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ ایجنسی (SIDA) سوئیڈن شامل تھے جبکہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹِسٹِکس (PBS) اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) نے اسکے سروے کی ذمہ داری سرانجام دی۔ اگر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے نومبر 2019 کے اعداد و شُمار اُٹھا کر دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ نومبر 2019 میں پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد محض 36.18 فیصد ہے جس میں وہ اعداد بھی شامل ہیں جو 3G یا 4G انٹرنیٹ سے محروم صرف 2.5G یا EDGE پر اکتفا کیے ہوئے ہیں۔ مزید معلومات کیلئے https://www.nperf.com/en/map/pk/-/-/signal/ پر جا کر پاکستان کا انٹرنیٹ کوریج میپ دیکھا جائے تو یہ حقیقت بھی سامنے آئے گی کہ آبادی والے اعداد و شمار کے علاوہ، پاکستان کے ایک بڑے رقبے (بلوچستان، خیبر پختونخواہ اور گلگت بلتستان وغیرہ کے کثیر رقبے) پر انٹرنیٹ سگنلز موجود ہی نہیں۔ اِن تمام اعداد و شمار سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کا انفراسٹرکچر اور اس کے زمینی حقائق کسی بھی صورت آن لائن کلاسز کیلئے موزوں نہیں۔ اس کے ساتھ ہی اس امر کی نشاندہی بھی ہوتی ہے کہ آن لائن کِلاسِز دراصل مسئلے کا حل نہیں بلکہ خود ایک مسئلہ ہے جس نے ایک بار پھر ہمارے تعلیمی نظام میں بھید بھاؤ اور طبقاتی تفریق کو ظاہر کر دیا ہے۔ ہمارا تعلیمی نظام جو پہلے ہی امیر اور غریب تعلیم میں بٹا ہوا ہے وہاں آن لائن کلاسز کا قدم ایک اور نئی تفریق پیدا کر رہا ہے. یعنی مراعات یافتہ علاقے اور پسماندے علاقے کی تفریق۔ ایسے میں اس قسم کی پالیسی کہ مراعات یافتہ علاقے تعلیم جاری رکھیں اور پسماندہ علاقے اپنی تعلیم چھوڑ دیں سراسر طبقاتی بربریت ہے۔ اس قسم کی پالیسی کے ذریعے ان دو مختلف علاقوں کے طلبہ کو ایک دوسرے کے مُقابل کھڑا کر دینے کی سازش طلبہ کو مل کر، مشترکہ جدوجہد اور یکجہتی سے ناکام بنانی ہوگی۔

اگر مندرجہ بالا اعداد و شمار کو بحث کی خاطر ایک لمحے کے لیے سائیڈ کر کے ہم آن لائن کلاسز کو قبول کر بھی لیں تو تب بھی ایک نظر اس بات پر بھی ڈالنی ہوگی کہ وہ لوگ جو آن لائن کلاسز لے سکتے ہیں، کیا موجودہ پاکستانی آن لائن ماڈل ان طلبہ کیلئے کچھ سود مند ثابت ہوگا بھی کہ نہیں؟ آن کلاسز کیلئے کیا ہمارے اداروں کے پاس تربیت یافتہ تدریسی عملہ موجود ہے؟ کیا ان اداروں کے پاس آن لائن کلاسز کوسپورٹ کرنے کیلئے کوئی پورٹل موجود ہے یا پھر کوئی ایسا ماڈل جو حقیقی طور پر کچھ علم ڈیلیور کر سکے؟ ہر گز نہیں، چند ہی ہفتوں میں پاکستان میں استعمال ہونے والے ماڈل کی ناکامی کھل کر سامنے آگئی ہے۔ آئے دن ان آن لائن کلاسز میں پیش آنے والے واقعات مزاحیہ ویڈیوز بن کر رہ گئی ہیں، آن لائن امتحانات کا دیوالیہ تو اب مین اسٹریم میڈیا تک بھی پہنچ گیا ہے لیکن پھر بھی ہمارے پالیسی میکرز ایک ہی مالا جھپ رہے ہیں کہ آن لائن کلاسز ہی موجودہ مسئلے کا واحد حل ہیں۔ تعلیمی اداروں کی انتظامیہ اور ہمارے پالیسی میکرز کا اس تعلیمی ماڈل کی نا اہلی اور افراتفری کے باوجود آن لائن کلاسز کی رٹ لگانا، محض فیس بٹورتے رہنے کے جواز کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

2019 میں یونیورسٹی آف کولراڈو نے نیشنل ایجوکیشن پالیسی سینٹر کی تیار کردہ رپورٹ Virtual Schools in th U.S. 2019 شائع کی جس کے مطابق “روایتی تعلیمی ماڈل کے مقابلے آن لائن ایجوکیشن کا ماڈل(تمام تر بلند بانگ دعووں کے باوجود) کافی حد تک غیر مؤثر ثابت ہوا ہے لیکن اس کے دو پہلو، سستی تعلیم اور دور دراز علاقوں تک رسائی، کی بدولت ہی اس کو متبادل نظام کہا جا سکتا ہے”۔ ترقی یافتہ ممالک کے اس ماڈل کو آنکھیں موند کر من و عن اپنانے والے پالیسی میکرز کو اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ خود ان ترقی یافتہ ممالک میں بھی، ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ، مؤثر آن لائن پورٹل اور تربیت یافتہ تدریسی عملہ ہونے کے باوجود اس ماڈل کے مؤثر ہونے پر تحفظات ہیں اور اس ماڈل کو ان ترقی یافتہ ممالک میں اپنانے کے پیچھے صرف دو مندرجہ زیل وجوہات ہیں۔

1. سستی تعلیم: مغربی ممالک میں عام تعلیمی اداروں کے مقابلے آن لائن ایجوکیشن سیکٹر طلبہ کو کافی حد تک سستی تعلیم فراہم کرتا ہے جس کی وجہ سے ہی اکثر طلبہ جو بھاری فیس برداشت نہیں کرسکتے وہ ایجوکیشن کی کوالٹی پر سودا کر کے آن لائن ایجوکیشن کی سستی تعلیم کی طرف رجوع کرتے ہیں لیکن پاکستان میں آن لائن کلاسز اُنہی پُرانی بھاری فیسوں کے ساتھ فراہم کی جارہی ہے اور اکثر جگہ تو سال کی 10 فیصد اضافی فیس بھی وصول کی گئی ہے۔
2. دور دراز علاقوں تک رسائی: آن لائن ایجوکیشن کی طرف رجوع کرنے کی دوسری وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ اگر کوئی فرد کسی دُور دراز علاقے کی یونیورسٹی سے کوئی کورس کرنا چاہتا ہے لیکن وہ سفر کرنے سے قاصر ہے تو وہ فرد گھر بیٹھے آن لائن ایجوکیشن کے ذریعے اس یونیورسٹی تک رسائی حاصل کرتا ہے مگر ہمارے یہاں معاملہ سراسر اُلٹ ہے۔ یہاں تو معاملہ یہ ہے کہ آن لائن کلاسز کا ٹارگٹ وہ طلبہ ہیں جو پہلے ہی شہری علاقوں میں ہیں اور جو حقیقی طور پر دور دراز علاقوں میں ہیں وہاں انٹرنیٹ یا بجلی کی سہولت مئیسر ہی نہیں تو ایسے میں آن لائن کلاسز کی یہ افادیت بھی یہاں خود بخود دم توڑ دیتی ہے۔

پاکستان میں کرونا وائرس کے پیشِ نظر آن لائن کلاسز کا ماڈل نا ہی سستا ہے اور نا ہی یہ دور دراز علاقوں کے طلبہ کو تعلیم دینے کیلئے موزوں ہے۔ ایسے میں آن لائن کلاسز کا یہ ماڈل سراسر خانہ پری کے مترادف ہے اور طلبہ سے بھاری فیس بٹورنے کے جواز کے سوا اور کچھ نہیں۔ ایک طرف جہاں اس وبا کے دور میں لوگوں کی آمدنی بُری طرح مُتاثر ہوئی ہے تو دوسری طرف یہ ادارے بھاری منافع بٹورنے کی ہر ممکن کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ اس صورتحال کو دیکھ کر یہ کہنا لازم ٹھہرتا ہے کہ یہ ادارے اب تعلیمی ادارے نہیں رہے بلکہ کاروباری کمپنیاں بن چُکے ہیں جن کا مقصد تعلیمی پراڈکٹ بِنا کسی وقفے کے، تواتر سے اپنے کسٹمرز کو بیچتے رہنا اور بدلے میں قیمت وصول کرتے رہنا ہے۔ ان کی یہ پالیسیاں اس بات کی گواہی ہیں کہ ان اداروں کا تعلیم دوستی یا طلبہ کے بہبود سے کوسوں دور تک کوئی تعلق نہیں بس مقصد ہے تو صرف ایک، پیسے کمانا۔ ہم ترقی، جدت یا نئی ٹیکنالوجی کے مُخالف نہیں ہیں بلکہ سماج میں نوجوان ہی جدت اور ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا حامی ہوتا ہے لیکن موجودہ حالات اور زمینی حقائق کی موجودگی میں ہم ہر گز ایسے کسی بھی عمل کی تائید نہیں کرسکتے جو طلبہ دُشمنی پر مبنی ہو۔

ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن پاکستان بحیثیت ایک طلبہ تنظیم اور ڈیموکریٹک یوتھ فرنٹ نوجوانوں کی تنظیم ہونے کے ناطے، اپنا فرض سمجھتی ہیں کہ ایسا کوئی بھی عمل یا پالیسی جس کا مقصد طلبہ و نوجوانوں کے حقوق کی پامالی ہو، ہر ایسے عمل کی کھل کر نا صرف مُخالفت کریں گی بلکہ اس کے خلاف تحریک بھی چلائیں گی۔ ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیدریشن اور ڈیموکریٹک یوتھ فرنٹ موجودہ حالات اور زمینی حقائق کومدِ نظر رکھتے ہوئے آن لائن کلاسز کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے حکومت سے آن لائن کلاسز کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کرتی ہیں اور موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے مندرجہ ذیل تجاویز پیش کرتی ہیں

1. تعلیمی اداروں میں کثیر تعداد متوسطہ طبقے کے طالبِ علموں کی ہے اس وجہ سے پبلک اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی فیس معاف کی جائے یا پھر تعلیمی سلسلہ بحال ہونے کی صورت میں مذکورہ فیس کو ایڈجیسٹ کیا جائے، اور رواں سال تمام اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی فیسوں میں کیا گیا اضافہ فی الفور واپس لیا جائے.

2. تعلیمی بجٹ کو GDP کے کم از کم 6 فیصد کے برابر کیا جائے۔ موجودہ وبا نے یہ چیز بھی واضح کردی ہے کہ وہ ممالک جن کا عوامی بہبود کا بجٹ ان کے جنگی بجٹ سے زیادہ ہے صرف وہی ممالک با آسانی اس وبا سے نا صرف اپنے لوگوں کو تحفظ فراہم کرسکے بلکہ دوسرے ممالک میں بھی امدادی کام خوش اسلوبی سے سر انجام دے سکے۔ کیوبا جیسا چھوٹا سا جزیرہ اسکی بہترین مثال ہے۔ 12 فیصد سے زائد GDP کا حصہ اپنی تعلیم پر خرچ کرنے والا یہ چھوٹا سا ملک اُس وقت اٹلی اور دیگر یورپی ممالک کی مدد کو پہنچا جب خود مغربی ترقی یافتہ ممالک اپنے ملک میں وینٹی لیٹرز کی کمی کی وجہ سے روز سینکڑوں شہریوں کی لاشین اُٹھا رہے تھے۔

3. حکومت ایک سال کی پلاننگ بنا کر تعلیمی وقفہ دے یعنی ایک سال کے لیے تعلیمی سرگرمیاں ملتوی کر دے اور یہ سال طلبہ کے ذہنی آرام، خود کو اور اپنے گھر والوں کو ٹائم دینے کے لیے وقف کیا جائے۔ آن لائن کلاسز کے نام پر جو تعلیم فراہم کی جارہی ہے وہ سراسر غیر مؤثر اور خانہ پُری ہے۔ ایک سال کا وقفہ طلبہ کے ذہنی صحت کے لیے سود مند ثابت ہوگا۔ (اگر اس ایک سال کے اندر کرونا سے نمٹنے کی ویکسین تیار ہو جاتی ہے تو تعلمی ادارے اور سرگرمیاں بحال کر دی جائیں)۔
ہم یہ بات سمجھتے ہیں کہ اس تجویز پر یہ نکتہ سامنے آئے گا کہ کیسے طلبہ کا ایک سال ضائع کیا جائے؟ اس عمل کا طلبہ کے کیرئیر پر بُرا اثر پر سکتا ہے۔ تو ایسے میں ہم کو بحیثیت سماج اس بات پر بھی سوچ بچار کرنے کی اشد ضرورت ہے کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں؟ انسانی سماج تاریخ کی ایک بدترین اور ہولناک وبا سے گُزر رہا ہے اور ہم ایسے میں بھی اپنی جان اور صحت کو چھوڑ کر کیرئیر کیلئے پریشان ہیں۔ یہ دراصل ایک consumer society یا صارفین کے معاشرے والی ذہنیت ہے۔ ہم محض ایک صارف بن کر سوچ رہے ہیں جس کا اطمینان پراڈکٹ کی consumption سے مشروط ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر جب کوئی نیا IPhone لانچ ہوتا ہے تو اس بات کو جانتے ہوئے بھی کہ یہ فون پچھلے فون سے کچھ مُختلف نہیں تب بھی لوگ لاکھوں کی تعداد میں کئی کئی دن پہلے سے شدید بے چینی کی کیفیت میں قطاریں بنا کر کھڑے رہتے ہیں اور پھر وہ فون خرید کر اطمینان محسوس کرتے ہیں۔ بالکل اسی طرح، اس بات کو جانتے ہوئے بھی کہ آن لائن کلاسز کا معیار کس قدر ناقص ہے پھر بھی کچھ طلبہ اس کے پیچھے بھاگنے کو تیار ہیں تاکہ وہ اطمینان حاصل ہو کہ ہم اس کلاس کا حصہ ہیں چاہے علم حاصل ہو یا نہ ہو۔

4. اس ایک سال کے وقفے میں حکومت ہنگامی بنیادوں پر ملک کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنائے اور حقیقی معنوں میں دور دراز علاقوں تک بجلی، انٹرنیٹ اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کرتے ہوئے انٹرنیٹ کو بنیادی انسانی ضرورت تسلیم کرے۔ اگر ایک سال کے پلاننگ ائیر کے بعد بھی کوئی کرونا کا علاج سامنے نہیں آتا تو ایسے میں ملک کے ہر علاقے میں بجلی اور انٹرنیٹ ہوگا اور پھر باقاعده ایک مؤثر آن لائن ایجوکیشن ماڈل سامنے آ سکے گا جسے تمام طلبہ بخوشی قبول کریں گے کیونکہ یاد رہے ہماری آن لائن کلاسز کی موجودہ مُخالفت بلاوجہ نہیں بلکہ ہمارے تحفظات موجودہ ناقص انفراسٹرکچر میں اسکی افادیت پر ہیں۔

5. اس ایک سال میں نجی تعلیمی اداروں کے عملے کو حکومت Involuntary Layoff تسلیم کرتے ہوئے ان کی تنخواہوں کے برابر ان تمام عملے کو بیروزگاری الاؤنس ادا کرے۔

حکومت مندرجہ بالا تجاویز پر عمل درآمد کر کے اس مسئلہ کی جانب اپنی سنجیدگی اور عوام دوستی کا ثبوت دے بصورتِ دیگر پاکستانی عوام بالخصوص طلبہ پُرامن احتجاج کا آئینی حق اپنے پاس محفوظ رکھتے ہیں۔

جاری کردہ،
مرکز کمیٹی –
ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن پاکستان
ڈیموکریٹک یوتھ فرنٹ پاکستان