نثار دلیر جری بہادر باہمت آدمی تھا

نثار دلیر جری بہادر باہمت آدمی تھا
اسکا اللہ پر ایمان انتہائی مضبوط تھا
خطرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مسکرانا اسکی ادا تھی
وہ میدان میں عمل اور کردار کے ساتھ متحرک رہتا تھا
پاپوش نگر کی چلتی پھرتی جماعت اسلامی تھا

وہ مشکل وقت میں سہارا بننے والا مدد کرنے والا ہاتھ تھامنے والا تھا
یہ میرے چالیس سال کے مشاہدے اور تجربے کا نچوڑ ہے
ابھی عید کے بعد ملاقات ہوئی تھی جب وہ غریبوں میں راشن بانٹنے میں اسطرح مصروف تھا کہ اسکو اپنا ہوش بھی نہ تھا
جوانی کے عالم میں اسکی اینجوپلاسٹی ہوچکی تھی
نثار کو کرونا کے بخار نے آن جکڑا
اسنے زیادہ لفٹ نہیں کروائی آرام کرنے کے بجائے
گھنٹوں تیز دھوپ میں کھڑے ہوکر درخت سے گوندنیاں اتروائیں انکو تقسیم کیا
گھر پہونچ کر شدید پیاس لگی
ٹھنڈا روح افزاء پیا


لیکن طبعیت خراب ہوتی چلی گئی
سب کا پیارا متحرک نثار بے جان سا ہوکر انڈس ہاسپٹل کے وینٹیلیٹر پر چلا گیا
چند دن میں دل اور پھیپھڑے بہتر کام کرنے لگے تو
گردوں نے دو دن سے کام کرنا چھوڑ دیا
آج صبح نثار اپنے پانچ بچوں (جن میں سے دو بیٹیاں دو سال میں ڈاکٹر بن جائینگی) اور ہم سبکو چھوڑ کر اپنے رب کے حضور جا پہو نچا
انا للہ وانا الیہ راجعون
وہ صرف گلزار بھائی کا نہیں ہم سبکا مشکل وقت اور کڑے لمحے کا ساتھی اور بھائی تھا
آج دل زخمی ہے
میری دوستوں سے درخواست ہیکہ جہاں نثار کیلئے دعا کریں وہیں اگر بخار ہے تو انتہائی مشقت سے بچیں اپنی انرجی کو محفوظ کریں اور خدا کیلئے ہلکی پھلکی علامات کو بھی ہلکا پھلکا نہ لیں
اللہ نثار کو شہادت کا درجہ عطا فرمائے اسکی مغفرت فرمائے اسکے درجات بلند فرمائے کروٹ کروٹ جنت الفردوس عطا فرمائے آمین ثم آمین
———-
Meraj-Siddiqi-