اداکارہ صبیحہ خانم ہفتہ کی صبح ورجینیا، امریکہ میں انتقال کرگئیں،

نامور اداکارہ صبیحہ خانم ہفتہ کی صبح ورجینیا، امریکہ میں انتقال کرگئیں، جہاں وہ اپنی بڑی بیٹی کے ساتھ مقیم تھیں. چھوٹی بیٹی اور بیٹا بھی امریکہ ہی رہتے ہیں.

وہ 16 اکتوبر 1935 کو گجرات، پنجاب میں پیدا ہوئی تھیں. وہ مشہور فن کار جوڑے ماہیا اور بالو کی بیٹی تھیں. ان کا اصل نام مختار بیگم تھا. انہوں نے فنی زندگی کا آغاز لاہور میں ایک ڈرامے “بت شکن” میں کام کرکے کیا. 1950 میں ہدایت کار مسعود پرویز نے انہیں فلم بیلی میں پہلی بار چانس دیا. مسعود پرویز کی بھی یہ پہلی فلم تھی.اسی سال انور کمال پاشا نے فلم ” دو آنسو” میں نوری کا کردار دیا. ہدایت کار مرتضی’ جیلانی کی فلم “آغوش” اور انور کمال پاشا کی” غلام ” میں صبیحہ نے فلم بینوں کو اپنی طرف متوجہ کرلیا. فلم “سرفروش” سے صبیحہ ایک اہم اداکارہ مان لی گئیں. وہ پاکستان کی پہلی سلور جوبلی فلم” دوآنسو” اور پہلی گولڈن جوبلی فلم “سسی” کی کاسٹ کا حصہ تھیں.

ان کی فلمیں سات لاکھ، موسیقار، چھوٹی بیگم، ناجی، حسرت، دامن، سوال، وعدہ، ایاز،شیخ چلی،پرواز، سسی،داتا، حاتم، محفل، طوفان، دل میں تو، عشق لیلیٰ اور اک گناہ اور سہی پاکستانی فلمی صنعت کا مایہ ناز ہیں.

صبیحہ خانم نے دوسرے ہیروز کے ساتھ بھی کام کیا لیکن زیادہ تر سنتوش کمار کے ساتھ. بیشتر ابتدائی فلمیں بھی ان کے ساتھ تھیں، اسی دوران سنتوش ان کے عشق میں گرفتار ہوئے اور بالآخر ان کی شادی ہوگئی۔

پنجابی فلموں میں سدھیر کے ساتھ صبیحہ کی فلم ’’دُلّا بھٹی‘‘ بھی بہت مقبول ہوئی. خاص طور پر ان پر فلمایا گیا منور سلطانہ کا گایا گیت…. واسطہ ای رب دا توں جاویں وے کبوترا…. چٹھی میرے ڈھول نوں پہنچاویں وے کبوترا….اس زمانے میں ہر شخص کی زبان پر تھا. فلم “مکھڑا” میں صبیحہ خانم پر فلمائے، زبیدہ خانم کے گائے گیت…. دِلا ٹھہر جا یار دا نظارہ لین دے…. کوئی جاندی واری سجناں نوں گل کہن دے… نے بھی ریکارڈ مقبولیت حاصل کی. ان پر فلمائے کچھ اور مشہور گیت یہ ہیں:

گھونگھٹ اٹھا لوں کہ گھونگھٹ نکالوں… سیّاں جی کا کہنا میں مانوں کہ ٹالوں(سات لاکھ)

تُو لاکھ چلے ری گوری تھم تھم کے… پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے(گمنام)

نہ چھڑا سکوکے دامن نہ نظر بچا سکو گے…. جو میں دل کی بات کہہ دوں توکہیں نہ جاسکوگے(دامن)

لٹ الجھی سلجھا جا رے بالم….. میں نہ لگاؤں گی ہاتھ رے (سوال)

او مینا نہ جانے کیا ہوگیا… میرا دل کھو گیا (چھوٹی بیگم)

رقص میں ہے سارا جہاں (ایاز)

چاند تکے چھپ چھپ کے اونچی کھجور سے (عشق لیلی’)

صبیحہ خانم نے پاکستان ٹیلی ویژن پر بھی اداکاری اور گلوکاری کے جوہر بھی دکھائے. ان کے گائے ہوئے قومی نغمے ’’جُگ جُگ جیے میرا پیارا وطن‘‘ اور “سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آباد تجھے” بہت مقبول ہوئے.
صبیحہ خانم کو پاکستانی فلمی صنعت کی خاتون اول اور سلور سکرین کی “گولڈن گرل” کہا جاتا تھا۔ انہیں فلم ’’ اک گناہ اور سہی‘‘ پر تاشقند فلم فیسٹیول میں بہترین اداکارہ کا ایوارڈ دیا گیا اور 1987ء میں صدر پاکستان نے پرائڈ آف پرفارمنس سے نوازا.
پی ٹی وی کے پروگرام”سلور جوبلی” میں صبیحہ خانم نے اپنی 1962 کی فلم “موسیقار” کا گیت.. یاد کروں تجھے شام سویرے… گاکر سنایا تھا تو تمام حاظرین ان کی تعظیم کیلئے کھڑے ہوگئے.
وہ شاید ہماری فلمی صنعت کی سب سے معزز اداکارہ تھیں.
Filmography
1950 Beli (her debut film)
1950 Do Ansoo (first Silver jubilee film of Pakistan)
1950 Hamari basti
1951 Ghairat
1951 Pinjra
1953 Barkha
1953 Ghulam
1953 Sailab
1953 Aaghosh
1954 Gumnam (played a mentally retarded girl role)
1954 Raat ki baat
1954 Sassi (first Golden jubilee film of Pakistan)
1955 Inteqam
1955 Mehfil
1955 Qatil
1955 Shararay
1955 Sohni
1955 Toofan
1956 Chhoti Begum
1956 Dulla Bhatti
1956 Hameeda
1956 Hatim
1956 Sarfarosh
1957 Bholey Khan
1957 Daata
1957 Ishq-e-Laila
1957 Pasban
1957 Sardar
1957 Saat Laakh
1957 Waada
1957 Aankh ka Nasha
1957 Aas Paas
1958 Darbar
1958 Dil Mein Tuu (Urdu)
1958 Hasrat
1958 Mukhra
1958 Sheikh Chilli
1959 Muskarahat
1959 Naghma-e-Dil
1959 Naaji
1959 Tere Baghair
1959 Aaj Kal
1960 Ayaz
1960 Rahguzar
1960 Saltanat
1960 Sham Dhalay
1962 Mausiqaar
1963 Daaman
1963 Rishta
1963 Shikwa
1964 Deevana
1964 Ishrat
1965 Kaneez
1966 Sawaal
1966 Tasveer
1967 Devar Bhabi
1967 Sitamgar
1967 Aag
1968 Commander
1968 Naheed
1968 Shehnshah-e-Jahangir
1969 Ladla
1969 Maa Beta
1969 Pakdaaman
1970 Anjuman
1970 Matrai Maa
1970 Mohabbat Rang Laaey Gi
1970 Sajna Duur Daya
1971 Banda Bashar
1971 Bhain Bhara
1971 Garhasti
1971 Jaltey Sooraj Ke Neechay
1971 Tehzeeb
1971 Yaar Des Punjab De
1972 Ek Raat
1972 Mohabbat
1972 Sirr Da Saiin
1972 Aao Pyar Karein
1973 Khawab Aur Zindagi
1973 Sharabi
1974 Deedar
1974 Miss Hippy
1974 Pyar Di Nishani
1974 Qismat
1974 Rangi
1974 Sayyo Ni Mera Mahi
1975 Bikhrey Moti (Urdu)
1975 Dhan Jigra Maa Da (Punjabi)
1975 Farz Te Aulaad (Punjabi)
1975 Ik Gunah Aur Sahi (Urdu)
1975 Isar (Urdu)
1975 Neki Badi (Urdu)
1975 Pehchaan (Urdu)
1975 Roshni (Urdu)
1975 Watan Iman (Punjabi)
1975 Zanjeer (Urdu)
1976 Aulad (Urdu)
1976 Rastey Ka Pathar (Urdu)
1976 Wardat (Punjabi)
1976 Zubaida (Urdu)
1977 Kalu (Urdu)
1977 Mere Hazoor (Urdu)
1977 Aag Aur Zindagi (Urdu)
1978 Abhi Tau Mein Jawan Huun (Urdu)
1978 Haidar Ali (Urdu)
1978 Shera (Punjabi)
1978 Tamashbeen (Punjabi)
1979 Do Raastey (Urdu)
1979 Raja Ki Aaye Gi Barat (Urdu)
1979 Waday Ki Zanjeer (Urdu)
1980 Badmashi Band (Punjabi)
1980 Rishta (Urdu)
1981 Anokha Daaj (Punjabi)[5]
1981 “Chan Suraj” (Punjabi)
1981 Parvah Nahin (Punjabi)
1982 Sangdil (Urdu)
1982 Wohti Jee (Punjabi)
1984 Ishq Nachawey Gali Gali (Punjabi)
1984 Kamyabi (Urdu)
1985 Deewane Do (Urdu)
1985 Mehak (Urdu)
1989 Mohabbat Ho Tau Aisi (Urdu)
1994

Mian-Tariq-Jawed