وفاقی بجٹ میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا

کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ کے وزیر اطلاعا ت، بلدیات ناصر حسین شاہ اور ترجمان سندھ حکومت،مشیر برائے قانون، ساحلی ترقی و ماحولیات بیرسٹر بیرسٹرمرتضی وہاب نے وفاقی بجٹ کو مایوس کن قراردیتے ہوئے مسترد کردیا ہے اورکہاہے کہ وفاقی بجٹ میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا ہے۔ وفاقی بجٹ میں صوبوں باالخصوص سندھ کے ساتھ وفاق کا رویہ درست نہیں ہے۔

رہنماؤں نے کہا کہ سندھ کواس کے شیئرسے 234 ارب روپے کم دیے گئے ہیں جس کی وجہ سے صوبہ کی ترقی پرمنفی اثرپڑے گا۔ وہ ہفتے کی شام سندھ اسمبلی آڈیٹوریم میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔صوبائی وزیراطلاعات ناصرحسین شاہ نے کہاکہ سندھ میں پہلے ہی بہت مسائل تھے ماضی میں کبھی بھی گروتھ ریٹ میں اتنی کمی نہیں آئی،وفاقی بجٹ الفاظ کا گورکھ دھندہ ہے،اس کے بعد منی ، بابو اور انصاف بجٹ آئے گا۔انہوں نے کہا کہ عام اور غریب لوگوں کے لیے بجٹ میں کچھ نہیں رکھا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ وفاق کی طرف سے پیش کیا گیا بجٹ مایوس کن تھا صرف تسلی اورتشفی سے کام لیا گیا، سندھ کے ساتھ ناانصافی کی گئی سب سے کم حصہ رکھاگیا، کورونا کابہانہ بنایا گیا اصل میں سب سے کم وصولیاں کی گئی وفاقی اداروں کی نااہلی اورغلط پالیسیوں کی وجہ سے ٹارگٹ پورے نہیں ہوئے، حکومت ناکام ہوئی اب منی مائکرواورسمارٹ بجٹ آئیں گےاس موقع پربیرسٹرمرتضی وہاب نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت تبدیلی ہے نام پر آئی تھی۔ لیکن یہ تبدیلی تو تباہی کی شکل میں آئی ہے۔ وفاقی حکومت نےہر چیز میں عوام کو مایوس کیا اورہر وعدہ پر یو ٹرن لیا ہے انہوں نے کہا کہ اس حکومت اپنے ایف بی آر کے ٹیکس کو جمع نہیں کر سکی اور ٹیکس ٹارگٹ کو تین بار تبدیل کیا۔یہ پہلی نا اہل حکومت ہے جس نے اپنا ٹیکس ٹارگٹ کم کیاہے۔ اوراین ایف سی کی مد میں 234 ارب ابھی تک نہیں دئیے گئے صوبوں کواسی فیصد وسائل وفاق سے ملتے ہیں،اگر وفاق 234 ارب روپے نہیں دیتا تو ہم ترقیاتی کام کیسے کریں گے۔اورتنخواہیں کیسے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ میں صحت کے حوالے سے کوئی ریلیف نہیں دیا گیا۔ اور یہکہا جاتا ہے صوبوں کے ذمہ دار وزرائ اعلیٰ ہوں گے۔اسلام آ باد کی صورتحال بہت خراب ہے۔ اور اسپتالوں میں جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہاسلام آباد میں کیا ٹیسٹنگ کیپسٹی بڑھائی ہے ؟ بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ مشکل حالات میں کوئی ریلیف ایجنڈا دکھائی نہیں دیتا ہے۔ تین اسپتالوں کے حوالے سے وفاق نے فیصلہ کیا کہ یہ سندھ حکومت کے پاس رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق نے تینوں اسپتالوں کے لیے کچھ نہیں رکھا ہے۔سندھ کے اسپتالوں میں پورے پاکستان سے لوگ آکر علاج کراتے ہیں انہوں نے کہا کہ اگرآپ اسپتال واپس لیں گے تو کورونا وائرس کی صورتحال میں نقصان ہوگا۔ مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ760 ارب روپے ابھی سندھ کے لیے رکھے ہیں۔ پہلے بھی 234 ارب کا شارٹ فال ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ٹیکس فری بجٹ لانے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی بنانے کے اعلان کیے لیکن بنی نہیں وفاق نے تھر پارکر اسپتال کا وعدہ کیا تھا اس پر بھی کوئی عمل نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاون کے حوالے سےسندھ حکومت نےکوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ہم اکیلے کوہی فیصلہ نہیں کرسکتے۔ ناصر حسین شاہ نے کہا کہ بجٹ سیشن ہائبرڈ سیشن ہوگا۔سندھ اسمبلی کے اجلاس میں ٹیکنالوجی کو استعمال کیا جائے گا۔پاکستان کی پہلی اسمبلی ہے جو ٹیکنالوجی کا استعمال کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت لاک ڈاو ¿ن نہ کرکے بھی ٹیکس کے ٹارگٹ پورے نہ کرسکی۔ وفاق نے لوگوں کی صحت پر بہت ہی غلط فیصلے کئے۔ مرتضی وہاب نے کہا کہکورونا وبائی مرض ہے کوئی دوسری بیماری چھونے سے نہیں ہوتاسندھ حکومت نے تباہی کوروکا انہوں نے کہا کہالارمنگ نمبرزپچھلے دوہفتے میں بڑھے ہیں اس موقع پرسید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ اگرشروع میں سرحدیں بندکی جاتی تووائرس نہ پھیلتااگرآنے والوں کوبھی بارڈرپر چیک کیا جاتا روک لیا جاتا تووائرس نہیں پھیلتاسندھ حکومت نے اپنے لوگوں کوبچانے کے لئے بہت کچھ کیا۔اب جاکرکہہ رہے ہیں کہ یہ فلونہیں خطرناک وائرس ہےبجٹ میں عوام کو رلیف نہ دیکر ان کی توجہ ہٹائی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ خرم شیرزمان مذاق سمجھتے تھے اللہ ان کوصحتیاب کرے سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے پہلے دن سے اقدامات کیے اگر آغاز میں ائیر پورٹ پر اقدامات کیے جاتے تو یہ وائرس نہ پھیلتا۔اگر عدالتی فیصلہ نہ ہوتا تو ہم وفاق کی بہت سی باتیں نہ مانتے۔اگر عوام کی فلاح کے لیے بہتر بجٹ نہیں دے سکے تو کورونا وائرس پر ڈال دیا۔اپوزیشن کا سندھ میں جو کردار تھا وہ سب کے سامنے تھا۔اگر مارچ میں اقدامات کیے ہوتے تو صورتحال بہتر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کو بات کرنے کا ملکہ حاصل ہے وہ سلیکٹڈ ، اسمارٹ لاک ڈاؤن کی بھی بات کریں ان کی مرضی ہے۔ بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ لوگ پرائیوٹ اسپتالوں میں رش بڑھ جانے کے بعد سرکاری اسپتالوں کا رخ کرتے ہیں پرائیوٹ اسپتالوں کے زائد بل لینے کی شکایات ہیں ہیلتھ کمیشن اس کودیکھے گااس وقت ہم سب کا فوکس کورونا ہے لیاری جنرل اسپتال سول اسپتال سمیت سرکاری اسپتالوں کواپگریڈ کررہے ہیں نیپا چورنگی پر دوسوبیڈ اور48آوینٹیلیٹرز کی سہولت دیں گےوسائل کم ہیں لیکن پھربھی بہتری لارہے ہیں۔