میری بے ایمانیاں (2)

(برگیڈیر(ر)بشیرآرائیں)-

کمانڈنٹ چترال اسکاوٹس کرنل مراد خان نیر وہ آرمی افیسر تھا جس کی ایمانداری ۔ حب الوطنی ۔ سپاہیانہ آن بان کی گواہی مخالفین بھی دیتے تھے ۔- میرا انکے ساتھ پہلا ماہ تھا ۔ ایک دن مجھے آفس میں بلایا اور کہنے لگے بشیر دو بے ایمانیاں کرنی ہیں اور تمہارا ساتھ چاہیے ۔ میں پریشان تھا کہ کیا جواب دوں کیونکہ یہ تو کوئی بے ایمانی کسی صورت برداشت نہیں کرتے۔

کہنے لگے پہلی یہ کہ ارندو میں جو نائب صوبیدار شہید ہوا ہے اسکا بیٹا پندرہ سال کا ہے ۔ ان پڑھ ہے تم اس کی عمر 18 سال لکھ کر میڈیکل فٹنس دے دو ۔ ہم اسے سپاہی بھرتی کر لیتے ہیں بعد میں دیکھا جائیگا فی الحال شہید کا خاندان پلتا رہےگا ۔

دوسری یہ کہ ایک یتیم بچہ ہے وہ چترال سے بارہویں کلاس میں اول آیا ہے ۔ گھر چلانے کو ایک ہوٹل میں نوکری کرتا ہے ۔ میڈیکل کالیج میں نام آگیا ہے مگر جا نہیں سکتا۔ خرچے کے پیسے نہیں ہیں نہ اپنے لیے نہ گھر کے لیے ۔ اسے نرسنگ سپاہی بھرتی کرتے ہیں ۔ مگر ڈیوٹی تمہارے پاس نہیں کریگا ۔ ہیڈ کوارٹر بالا حصار میں اپنی ریر پارٹی میں بھیج دیں گے ۔ میڈکل کالیج جاتا رہے گا ۔ کھانا اور رہائش یونٹ میں مفت ہو جائیگی اور اسکی تنخواہ میں اس کے اپنے اور گھر والوں کے خرچے چل جائیں گے ۔ ایم بی بی ایس ہونے تک زندہ رہے تو اسکو کسی معمولی سی غلطی پر نوکری سے فارغ کردیں گے ۔ میں نے دونوں بےایمانیوں پر یس سر کہہ دیا ۔ دوسرے دن دونوں کے میڈیکل فٹنس سرٹیفیکیٹ میں نے دے دیے آگے کیا ہوا میں نے کبھی نہ پوچھا ۔ نہ ضرورت تھی ۔

پھر میں پنوں عاقل آگیا ۔ چترال اسکاوٹس میں میری دوسری دفعہ پوسٹنگ ہو گئی ۔ بہت سی پرانی باتیں یاد ہی نہ تھیں ۔ 1989 میں کرنل مراد خان کی خودکشی پر افغان کیمپ کا ایک ڈاکٹر مجھے ملنے آیا تو ہاتھ ملا کر میرے ہاتھ پر بوسہ دیا اور روتے ہوئے کہنے لگا سر میں نرسنگ سپاہی قطب ولی ہوں جس کو کرنل مراد نے آپ کی مدد سے ڈاکٹر بنا دیا ۔ آپکے آنے سے چھ ماہ پہلے جب میرا ایم بی بی ایس مکمل ہوا تو انہوں نے نافرمانی کے الزام پر مجھے نوکری سے فارغ کردیا ۔ میں نہ جانے کیسے اپنے جذبات پر قابو پا رہا تھا مگر وہ روتا رہا ۔ ذرا سنبھلا تو کہنے لگا پھر کرنل مراد نے کسی کو فون کرکے مجھے WHO کی نوکری دلوائی اور مجاہدین کے کلکٹک کیمپ میں پوسٹ کروا دیا۔ سر میں روز انکی قبر پر جاکر ان سے سوال کرتا ہوں کہ آپ دوسروں کو زندہ رکھنے والے تھے تو خود کو کیوں مارلیا ۔

ڈاکٹر قطب ولی میرے پاس آدھ گھنٹہ مزید بیٹھا رہا مگر ہم میں اس کے بعد کوئی بات نہ ہوئی ۔ وہ چپ چاپ اٹھا بغیر خدا حافظ کہے میرے آفس سے نکل گیا ۔ میں نے اس دن کے بعد کرنل مراد خان نیر کے طرز کی بے ایمانیاں کرنا شروع کر دیں ۔
(جاری ہے)

میں 2007 میں سی ایم ایچ ملتان کا ڈپٹی کمانڈنٹ تھا ۔ اردلی نے بتایا کہ کوئی ریٹائرڈ میجر صاحب ملنا چاہتے ہیں ۔ انکے آنے سے پہلے ہی میں اٹھ کھڑا ہوا اور بڑھ کر ہاتھ ملایا ۔ تعارف کرائے بغیر ہی کہنے لگے کہ فوج کے قوانین ایسے ہو گئے ہیں کہ میں تین دن سے آپکے ہاسپیٹل کے چکر لگا رہا ہوں مگر کام نہیں ہورہا ۔ میں نے کام سنے بغیر معذرت کی کہ پہلے اچھی سی چائے پی لیں کام بھی ہو جائے گا۔

کہنے لگے میں ملتان کا رہنے والا ہوں اور آپکے کور کمانڈر کا کورس میٹ بھی ۔ میجر تھا تو فوج چھوڑ کر کینیڈا رہائش پذیر ہوگیا ۔ 1988 میں میرا بیٹا سی ایم ایچ ملتان میں پیدا ہوا ۔ برتھ سرٹیفیکیٹ گم ہو چکا ہے اور اب وہاں یونیورسٹی میں داخلے کیلئے برتھ سرٹیفیکیٹ لازمی چاہیے ۔ کور کمانڈر کے کہنے پر اے ڈی سی نے آپ کے کمانڈنٹ سے بات کی تھی ۔ میں ان سے ملا ۔ انہوں نے اسٹیٹ افسر کے پاس بجھوا دیا ۔ اسٹیٹ افسر نے ریکارڈ چیک کرنے کیلئے مجھے دوسرے دن بلوایا اور کہہ دیا کہ اتنا پرانا ریکارڈ نہیں مل سکتا آپ کو جی ایچ کیو راولپنڈی سینٹرل آفیسرز ریکارڈ آفس سے سی آر کی کاپی لانی ہوگی ۔ دوبارہ کمانڈنٹ سے ملا تو انہوں نے کہا ہم قانون سے باہر جاکر تو کام نہیں کرسکتے ۔ بتائیے اب کیا کروں ۔ 10 دن بعد واپس جانا ہے ۔ وہاں کے قانون سخت ہیں ۔ بیٹے کی ایڈمیشن خطرے میں ہے ۔ ایک کلرک نے صلاح دی کہ ڈپٹی کمانڈنٹ سے ملیں تو آپ کے پاس آگیا ہوں ۔

چائے پیتے ہوئے میں نے فیملی ونگ میں فون کیا اور اسٹاف نرس سے پوچھا برتھ سرٹیفیکیٹ بک کس کے پاس ہے ۔ کہنے لگی سر میرے پاس ہے ۔ کہا کسی کے ہاتھ فورا میرے آفس میں بھیجو ۔ بک آگئی ۔ میجر صاحب سے انکے اپنے پرٹیکیولرز ۔ انکی یونٹ ۔ بیگم کا نام اور باقی تفصیلات پوچھ کر اپنے ہاتھ سے لکھتا رہا ۔ اردلی سے کہا باہر کوئی لیڈی میڈکل آفیسر ہے تو بلاو ۔ کیپٹن A آگئی جو اب کرنل ہے ۔ میں نے پہلے خود دستخط کئے ۔ پھر اس سے کہا کہ میڈیکل آفیسر انچارج فیملی وارڈ پر دستخط کرکے اپنی stamp لگادو ۔ اپنے پی اے سے کہا ڈپٹی کی stamp لگا لاو ۔

میجر صاحب یہ سب کچھ حیرت سے سن اور دیکھ رہے تھے ۔ Duplicate کی stamp لگی تو میں نے سرٹیفیکیٹ میجر صاحب کے ہاتھ میں تھمادیا اور بک اردلی کو واپس کرنے کو دےدی۔

میں نے بقایا ٹھنڈی چائے کا لمبا گھونٹ لیکر کپ خالی کیا اور اٹھ کر ان سے ہاتھ ملایا ۔ میجر صاحب عجیب کشمکش میں لگ رہے تھے ۔ تھینک یو کہنا بھی بھول گئے اور بڑبڑاتے ہوئے باہر نکل گئے کہ بھئی یہ کونسی فوج کا افسر ھے ۔

دل تو بہت چاہا کہ واپس بلا کر بتادوں کہ میں ایک ایماندار فوج کا بے ایمان افسر ہوں ۔

میں 1995 میں یو این پیس کیپنگ مشن میں بوسنیا کے شہر Tuzla کے قریب Visca کیمپ میں پاک فیلڈ ہاسپیٹل کمانڈ کر رہا تھا ۔ یونائٹڈ نیشن مشن کے مطابق ہم صرف وہاں کے شہریوں کا علاج معالجہ اپنے فیلڈ ہاسپیٹل میں رہ کر کر سکتے تھے

ہمارے ساتھ پاکستان سے لیڈی ڈاکٹرز یا نرسز نہیں گئی تھیں ۔ ہمیں UN سے اجازت ملی کہ ہاسپیٹل میں Bosnian Nurses کو ملازم رکھ لیں ۔ بہت کوشش کی نرسز تو نہ ملیں مگر 18 میڈیکل اسٹوڈنٹس مل گئیں جو یونیورسٹی بند ہونے کی وجہ سے فارغ بیٹھی تھیں ۔ وہ انگلش بھی بولتی تھیں تو اس طرح ہمارے اور لوگوں کے درمیان ترجمانی کا مسلہ بھی حل ہو گیا ۔

ایک لڑکی جو میرے ساتھ ترجمانی کے فرائض سرانجام دیتی تھی نے بتایا کہ ڈاکٹرز نہ ہونے کی وجہ سے Tuzla Hospital کا حال بہت برا ہے ۔ بوسنیا کے زخمی لوگ وقت پر آپریشن نہ ہونے کی وجہ سے مر رہے ہیں اور انکو آپ کے پاس بھی نہیں لایا جا سکتا ۔ میں نے کہا کہ ہم کیا کرسکتے ہیں ہم تو صرف UN Charter کے مطابق کام کرتے ہیں کہ یہاں لے آو تو آپریشن کردیں گے ۔ کہنے لگی ہماری ایک پروفیسر آپ سے ملنا چاہتی ہیں ۔ بہرحال دوسرے دن شام ڈھلے ایک خاتون مجھ سے ملنے آئی ۔ بات کرتے ہوئے وہ بمشکل اپنے آنسو چھپا رہی تھی ۔ وہ انیستھیسیا کی پروفیسر تھی اور مدد مانگنے آئی تھی ۔ کہنے لگی کیا یہ ممکن ہے کہ آپ ہمارے 15 سے 20 لوگوں کے آپریشنز ہاسپیٹل میں آکر کردیں کہ وہ اپاہج ہونے سے بچ جائیں ۔ میں نے اپنے پاکستانی فورس کمانڈر سے بات کی تو انہوں نے لا پرواہی سے کہا کہ کر سکتے ہو تو ضرور کرو لیکن اگر شکایت ہوئی تو میں بچاونگا نہیں ۔ سزا کے لئے تیار رہنا ۔

دوسرا مرحلہ میرے اپنے سرجن اور بیہوشی والے ڈاکٹر کو منانا تھا ۔ دونوں سے الگ الگ بات کی کہ انکے ہاسپیٹل میں وقت نکال کر جانا ہوگا ۔ میجر جنجوعہ تو فورا مان گیا مگر سرجن نے ڈرتے ڈرتےحامی بھری ۔ میں نے اپنے کمانڈر کو بتایا کہ آج رات ہم مشن پر جائیں گے ۔ کہنے لگے واپسی پر مجھے اطلاع کردینا ۔ ہم تینوں رات کے کھانے کے بعد واک کے لئے نکلے اور دور کھڑی گاڑی میں بیٹھ کر کیمپ سے غائب ہوگئے ۔

اس رات Tuzla Hospital میں اس پروفیسر کے علاوہ کسی کو پتہ نہیں تھا کہ ہم کون ہیں ۔ وہ زخمیوں کو اپنے بچوں کی طرح پیار سے دلاسے دے رہی تھی کہ اب تم ٹھیک ہو جاو گے ۔ اس رات تین لوگوں کا آپریشن ہوا ۔ میں ایک آفس میں بیٹھا دعائیں کرتا رہا کہ خدا خیر کرے ۔باہر بلا کی سردی تھی ۔ رات کے تین بجے واپسی پر میں نے کمانڈر کو فون کیا تو انہوں نے پہلی گھنٹی پر فون اٹھایا اور صرف اتنا کہا اوکے اب میں سونے لگا ہوں ۔

پھر یہ سلسلہ تب تک چلتا رہا جب تک انکے تمام زخمیوں کے آپریشن مکمل نہ ہوگئے بلکہ کبھی کبھار ہم خود بھی پوچھ لیتے ۔ میں اور میجر جنجوعہ پاکستان واپس آنے سے پہلے اس پروفیسر سے ملنے گئے ۔ ہمیں رخصت کرتے ہوئے وہ اپنے آنسو صاف کرتی رہی اور کہنے لگی کہ ہم آسماں پر خدا سے اور زمین پر پاکستانی فوج سے امیدیں لگا کر دن گزارتے رہے ہیں ۔ آپ خیریت سے اپنے ملک جائیے ۔ صرف میں نہیں میری پوری قوم آپ کی احسان مند رہے گی اور پھر جب بوسنیا سے پاکستان آرمی واپس آرہی تھی تو تزلہ شہر کے لوگ باہر سڑکوں پر کھڑے پھول پھینک کر ہمیں الوداع کہہ رہے تھے ۔

واپسی پر دوران فلائیٹ میں نے اپنے کمانڈر سے شکوہ کیا کہ سر اگر ہماری شکایت ہو جاتی کہ ہم اپنے ہاسپیٹل سے باہر جاکر لوگوں کے آپریشن کرتے تھے تو کیا واقعی آپ ہمارا ساتھ نہ دیتے ۔ کہنے لگے بوسنیا کے ایک سینیر ڈاکٹر نے یہ بات پہلے مجھ سے کی تھی ۔ اسے میں نے ہی راستہ دکھایا تھا کہ یہ غلط کام خوش اسلوبی سے کون سر انجام دے سکتا ہے ۔ میں پوچھتا رہا کہ سر یہ بات میں اپنی تعریف کے زمرے میں لوں یا سدھرنے کیلئے وارننگ سمجھوں ۔

اس قوم کی دعائیں کچھ تو لگیں ہونگی کہ ہم چاروں میں سے ایک میجر جنرل اور تین برگیڈیر رینک سے ریٹائر ہوئے ۔