جانتے ھیں وہ کون تھے ؟

پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں جب حفیظ شیخ وزیر خزانہ تھے۔ بجٹ پر کابینہ اجلاس میں سرکاری ملازمین کی مراعات میں اضافہ نہ ہونے پر جھگڑا ہو گیا۔ تب اس وقت کے ایک عوامی وفاقی وزیر اپنے دو ساتھیوں کو

لیکر صدر زرداری صاحب کے ہاں پیش ہو گئے۔ دو گھنٹے بعد مراعات میں پچاس فیصد کا اعلان ہو گیا جانتے ھیں وہ کون تھے ؟ ‏ملازمین کی تنخواہوں اورپنشن میں اضافے کے لیے اپنی حکومت کے طاقتور ترین وزیر خزانہ حفیظ شیخ سےجھگڑا کرنے والے آج آٹھ ماہ سے بغیر کوئ جرم ثابت ہوئے نیب کی حراست میں ہیں جی ہاں وہ سید خورشید احمد شاہ تھے۔” یہی ان کا جرم تھا ہے اور رہےگا۔ سید خورشید احمد شاھ ایوان میں غریب عوام کے حقیقی نمائندے ھیں۔ ان کو ایوان سے دور رکھنے کا مطلب غریب عوام کے حقوق پر ڈاکا ڈالنا ھے۔

آج پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار بجٹ میں ملازمین کے لیے کوئی مراعات نہیں دی گئیں۔ آج اگر سید خورشید شاھ اسیمبلی میں ھوتے تو ان کی للکار سے یہ حکومت مجبوراً ملازمین کی تنخواھوں میں ضرور اضافہ کرتی۔ ان کو پابند سلاسل کرکہ عوام کی حقیقی آواز کو دبایا گیا ھے۔