عورت کا دشمن کون,,,, ؟

عورت کا دشمن کون,,,, ؟

مردوں کے اس معاشرے میں مرد عورت کا دشمن نہیں,عورت عورت کی دشمن ہے, چاہے وہ کوئی بھی ہو, سگی ماں یا کوئی اور یا وہ خود, یہ صنف نازک کہلانے والی ہستی مرد سے زیادہ طاقتور ہے, کیونکہ مرد بھی تو اسی کی کوکھ سے ہی جنم لیتا ہے, صرف ایک مرد کی فرمانبرداری کرنیوالی کتنے مردوں کی جنت بن جاتی ہے, لیکن المیہ یہ ہے کہ عورت اپنی ساری توانائیاں منفی رویوں پہ صرف کرتی ہے,,, اگر وہ اپنی ساری طاقت و ہمت اپنی اور اپنے سے وابستہ افراد کی زندگی بنانے میں لگائے تو اس سے بڑا لیڈر کوئی نہیں, اگر ڈٹ جاۓ تو مضبوط چٹان, اگر ڈگمگا جاے تو مٹھی بھر ریت سے زیادہ اہمیت نہیں, کبھی کبھی سگی ماں بھی اپنی بیٹی کی وقتی خوشی اور خواہش پوری کرنے کیلئے اگر اسکی حمایت کرتی ہے تو یہ بھی ایک طرح کی دشمنی ہے, کبھی کبھی یہ ساری زندگی غیر ضروری چیزوں کو انا کا مسئلہ بنا کہ زندگی کے بہت سے قیمتی لمحات اور قیمتی لوگ کھو دیتی ہے,,, ہمارے معاشرے میں اگر عورتوں کی دشمنی ختم ہو جائے تو دنیا میں 80% جھگڑے ختم ہو جائیں۔


منفی رویہ منفی سوچ کو عورت نے اپنی ذات کا حصہ بنا لیا ہے, ہمارے مذہب نے تو عورت کو بہت بلند مقام سے نوازا, جس کے قدموں تلے جنت, وہ جس کے حصول کیلئے انسان کی ساری زندگی کی عبادتیں اور ریاضتیں بھی کبھی کبھی کم پڑ جاتی ہیں, یہی جنت دوسری جنت سے کینہ, بغض اور حسد جیسے جذبات رکھتی ہے,,, اپنے معیار کو اتنا گرا لیتی ہے, بلندی سے پستی کیطرف آ جاتی ہے,
اللہ تعالیٰ نے ہمارا ایک دنیاوی نظام بنایا ہے, دنیا میں آنے کا مقصد بتایا ہے, انسان کو انسانیت کیلئے پیدا کیا ہے, ورنہ عبادت کیلئے تو فرشتے حتی کہ کائنات کی ہر شے اسکی تسبیح بیان کرتی ہے, جسے نہ کوئی لالچ ہے نہ کوئی مطلب,,, دوسری طرف ہماری عبادت جو صرف اور صرف مطلب پرستی پر مبنی ہوتی ہے,یا تو ہمیں جنت چاہیے یا اپنی خواہشات کا حصول,,, ہماری عبادت کا وہ معیار کہاں کہ


وہ قبولیت کے درجے کو پہنچ سکے, لیکن ہم سارا زور عبادت پہ لگا دیتے ہیں, اور باقی اخلاقی برائیوں کی طرف توجہ ہی نہیں دیتے, ہم گھریلو جھگڑوں سے ہی نہیں نکل پاتے اور ہم کیا کریں گے,,, ہم عورتوں نے مردوں کو گھریلو معاملات میں الجھا کے نکما کر دیا ہے, مردوں کو کمزور اور بزدل بنا دیا ہے, ایک عورت کو چاہیے کہ اپنے بیٹے سے بیٹے کی ماں بن کے ہی بات کرے,,, کسی کی ساس بن کے نہیں,,, اور بیٹی کی ماں اس سے اسکی ماں بن کے ہی بات کرے کہ اسکا داماد بھی اسکا بیٹا ہے, اور اسے اپنے بیٹے کو بیٹی کے آگے جھکنے نہیں دینا,,, وہ بھی عورتیں ہی تھیں جنھوں نے تاریخ کی اتنی بڑی بڑی شخصیات کو پیدا کیا انکی تربیت کی اور نہ صرف انکو راہ حق پہ چلنا سکھایا بلکہ کئی بیٹے قربان بھی کئے,,, ہمارے بطن سے سلطان صلاح الدین ایوبی, ٹیپو سلطان, محمد بن قاسم کیوں پیدا نہیں ہو رہے,,,, کیونکہ ہم اس قابل نہیں,,,, ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے, چاہے وہ اسکی ماں ہو یا بیوی, اگر یہ دو ہستیاں سدھر جائیں تو ہر گھر میں ہیرو پیدا ہوں,,,,,,, 💕

عائشہ عطاء ( ڈنگہ۔ گجرات )