میری بے ایمانیاں

(برگیڈیربشیر آرائیں)–

میں 2007 میں سی ایم ایچ ملتان کا ڈپٹی کمانڈنٹ تھا ۔ اردلی نے بتایا کہ کوئی ریٹائرڈ میجر صاحب ملنا چاہتے ہیں ۔ انکے آنے سے پہلے ہی میں— اٹھ کھڑا ہوا اور بڑھ کر ہاتھ ملایا ۔ تعارف کرائے بغیر ہی کہنے لگے کہ فوج کے قوانین ایسے ہو گئے ہیں کہ میں تین دن سے آپکے ہاسپیٹل کے چکر لگا رہا ہوں مگر کام نہیں ہورہا ۔ میں نے کام سنے بغیر معذرت کی کہ پہلے اچھی سی چائے پی لیں کام بھی ہو جائے گا۔

کہنے لگے میں ملتان کا رہنے والا ہوں اور آپکے کور کمانڈر کا کورس میٹ بھی ۔ میجر تھا تو فوج چھوڑ کر کینیڈا رہائش پذیر ہوگیا ۔ 1988 میں میرا بیٹا سی ایم ایچ ملتان میں پیدا ہوا ۔ برتھ سرٹیفیکیٹ گم ہو چکا ہے اور اب وہاں یونیورسٹی میں داخلے کیلئے برتھ سرٹیفیکیٹ لازمی چاہیے ۔ کور کمانڈر کے کہنے پر اے ڈی سی نے آپ کے کمانڈنٹ سے بات کی تھی ۔ میں ان سے ملا ۔ انہوں نے اسٹیٹ افسر کے پاس بجھوا دیا ۔ اسٹیٹ افسر نے ریکارڈ چیک کرنے کیلئے مجھے دوسرے دن بلوایا اور کہہ دیا کہ اتنا پرانا ریکارڈ نہیں مل سکتا آپ کو جی ایچ کیو راولپنڈی سینٹرل آفیسرز ریکارڈ آفس سے سی آر کی کاپی لانی ہوگی ۔ دوبارہ کمانڈنٹ سے ملا تو انہوں نے کہا ہم قانون سے باہر جاکر تو کام نہیں کرسکتے ۔ بتائیے اب کیا کروں ۔ 10 دن بعد واپس جانا ہے ۔ وہاں کے قانون سخت ہیں ۔ بیٹے کی ایڈمیشن خطرے میں ہے ۔ ایک کلرک نے صلاح دی کہ ڈپٹی کمانڈنٹ سے ملیں تو آپ کے پاس آگیا ہوں ۔

چائے پیتے ہوئے میں نے فیملی ونگ میں فون کیا اور اسٹاف نرس سے پوچھا برتھ سرٹیفیکیٹ بک کس کے پاس ہے ۔ کہنے لگی سر میرے پاس ہے ۔ کہا کسی کے ہاتھ فورا میرے آفس میں بھیجو ۔ بک آگئی ۔ میجر صاحب سے انکے اپنے پرٹیکیولرز ۔ انکی یونٹ ۔ بیگم کا نام اور باقی تفصیلات پوچھ کر اپنے ہاتھ سے لکھتا رہا ۔ اردلی سے کہا باہر کوئی لیڈی میڈکل آفیسر ہے تو بلاو ۔ کیپٹن A آگئی جو اب کرنل ہے ۔ میں نے پہلے خود دستخط کئے ۔ پھر اس سے کہا کہ میڈیکل آفیسر انچارج فیملی وارڈ پر دستخط کرکے اپنی stamp لگادو ۔ اپنے پی اے سے کہا ڈپٹی کی stamp لگا لاو ۔

میجر صاحب یہ سب کچھ حیرت سے سن اور دیکھ رہے تھے ۔ Duplicate کی stamp لگی تو میں نے سرٹیفیکیٹ میجر صاحب کے ہاتھ میں تھمادیا اور بک اردلی کو واپس کرنے کو دےدی۔

میں نے بقایا ٹھنڈی چائے کا لمبا گھونٹ لیکر کپ خالی کیا اور اٹھ کر ان سے ہاتھ ملایا ۔ میجر صاحب عجیب کشمکش میں لگ رہے تھے ۔ تھینک یو کہنا بھی بھول گئے اور بڑبڑاتے ہوئے باہر نکل گئے کہ بھئی یہ کونسی فوج کا افسر ھے ۔

دل تو بہت چاہا کہ واپس بلا کر بتادوں کہ میں ایک ایماندار فوج کا بے ایمان افسر ہوں ۔