‘ایس او پی’

الحمدللہ، مملکت خداداد جیسی باشعور اور سمجھدار قوم خدا نے روئے ارض پر نہ پہلے نازل کی نہ آئندہ قیامت تک ایسی سلیقہ مند، منظم اور احتیاط پسند اکثریت کے ایک ملک میں جمع ہونے کا امکان ہے۔ جو ہم نے کیا ہے اور کر دکھایا یے دنیا حیران ہے، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن پریشان ہے اور سماجی و صحت کے ماہرین انگشت بدنداں ہیں۔ فرط جذبات میں جن کے منہ سے کوئی ڈھنگ کی بات نکلنے سے قاصر ہے۔ ایسا ایسا بزرجمہر خدا نے اس ملک کو عطا کیا کہ اس کی نظیر کتابوں میں بھی ملنی مشکل ہے۔
الحمدللہ پہلے مرحلے پر چین کی خبر ملتے ہی قوم نے مشترکہ طور پر دریافت کیا کہ چونکہ ہر ہلتی ہوئی چیز کو چینی بہن بھائی، ‘مال مفت۔۔۔ دل بے رحم’ سمجھ کر کھا جاتے ہیں اس لئے اس ‘حرام خوری’ کا نتیجہ نکلا اور اللہ کے عذاب نے اپنی گرفت میں لے لیا۔ کورونا البتہ ووہان میں جب تک تھا بالکل اصلی تھا۔ اور ہم لوگ ان پاکستانی طالب علموں، جو چائنہ میں پھنسے تھے ان کی صحت، سلامتی اور وطن واپسی کے لئے مرے جا رہے تھے۔ مگر یہ چائنہ کا مال جب دوسرے ‘کفار’ ممالک سے ہوتا ہوا ‘اسلامی’ فارسی’ و ‘عربی’ ممالک میں دستک دینے لگا تو اچانک یہ معلوم ہوا کہ رب کی منشا دو مہینے میں تبدیل ہو گئی اور اب یہ حرام کھانے پر عذاب نہیں بلکہ ایک آزمائش ہے۔ لہذا توبہ استغفار کی جائے اور دعا سے رد بلا کی جائے۔ نیز اہل وطن سے محبت کی سٹریٹیجی اب تبدیل ہوئی۔ اور ایران سے زائرین کی واپسی لوگوں کو اب قطعا گوارہ نہ تھی۔ البتہ زیادہ تر سعودیہ سے عمرہ کرنے والے افراد کو استشنا حاصل تھا۔ اتنے میں ایمان کی دولت سے مالامال تبلیغی حضرات نے رائے ونڈ کا اجتماع کینسل کرنے سے انکار کیا، بہت لے دے ہوئی تو مختصر کر کے قوم پر احسان کیا۔ تب تک کورونا حقیقت بھی تھا البتہ پھیلاو کا سنتے ہی الزامات کے تیر، زائرین و زلفی بخاری سے ہوتے ہوئے عمرہ جاتی افراد اور تبلیغی بھائیوں پر گردش کرتے رہے۔ تب ہمیں پتا چلا کہ گھبرانا نہیں ہے۔ یہ جان لیوا نہیں، محض فلو ہے۔ اتنے میں ہمارے اہل دانش آگے بڑھے اور پانچ روپے کی پیاز سے کورونا کا پانچ منٹ میں حل تلاش کر لیا۔ چین تک یہ خبریں نہیں پہنچی ورنہ انہوں نے محاورے کے مطابق سو پیاز کی جگہ یقینا” کچھ اور برابر مقدار میں تجویز کرنا تھا۔
پاکستان میں کورونا کے پہلے کیس سے بہت پہلے سے اب تک۔۔۔ WHO اور حکومتی مشینری و سوشل میڈیا پر ‘ایس او پی’ نامی تدابیر کا چرچا ہوا۔ چونکہ ہم زمین کو 2020 میں بھی ساکن ثابت کر سکتے ہیں، ارطغرل کے کردار پر بنے ڈرامے کو حرف بہ حرف اور سین بہ سین حقیقت مانتے ہیں۔ ہم معاشرتی اخلاق، تہذیب و شرافت کا مرقع ہیں۔ سڑکوں پر ڈرائیونگ سینس میں نمبر ون ہیں، ڈسپلن اور قطار بنانا تو یورپ نے ہم سے سیکھا ہے۔ صحت، صفائی نصف ایمان اور بیسک مینرز ہماری گھٹی میں گھول کر پلائے گئے ہیں۔ لہذا ہماری غیور عوام نے یک دل و یک جان ہو کر ‘ایس و پیز’ پر عمل کرنا شروع کر دیا۔ دوسری طرف رات دس بجے اذانیں دینے اور کورونا کو بھگانے کا تیر بہدف نسخہ آزمایا گیا۔ لوگ چھتوں پر چڑھ کر کورونا کو مشرف بہ اسلام کر ہی رہے تھے کہ اتنے میں ایک اور انکشاف ہوا۔۔۔ کورونا جعلی ہے!
ہمارے لوکل آن لائن تحقیق کاروں اور دنیا کے اعلی ترین دماغوں نے نہ صرف اس عالمی و صیہونی سازش کا کھوج لگایا بلکہ روزانہ کی بنیاد پر نت نئی تھیوریاں پیش کر کے کمال کر دیا۔ واشنگٹن، برمنگھم، تل ابیب، دہلی اور بیجنگ میں کھلبلی مچ گئی۔ پاکستان کے ان راز افشا کرنے والے مجاہدین نے یوٹیوب، فیس بک اور واٹس ایپ پر اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے پینٹا گون اور مائیکروسافٹ کے بل گیٹس کی ملی بھگت آشکار کر دی۔ 5G اور نینو چپ سے مائنڈ کنٹرول جمع دماغوں سے اسلام نکالنا؛ اس خوفناک پلان کے سامنے آتے ہی عوام کی ایک کثیر تعداد نے اسے ریجیکٹ کر کے دشمنوں کی چال بھی ناکام بنا دی۔ کچھ دانش ور لوگوں کی روحانی پیش گوئیاں اور طبی تحقیقات آنے لگیں۔ کورونا گرمی سے مر جائے گا، 18 مئی کو خاتمہ ہوگا۔ ثریا ستارہ، امیونٹی، دیسی خوراک، وضو کا پانی وغیرہ وغیرہ تجویز ہوا۔ لیکن سلام ہے، انتہائی سے زیادہ ذمہ دار غازیان ملت نے حکومتی ہدایات پر مکمل لاک ڈاون، جزوی لاک ڈاون کے بعد ‘سمارٹ لاک ڈاون’ کیا۔ اور حسب عادت ہر کاروبار نے ایس و پیز پر عمل شروع کر دیا۔ چنانچہ سب سے پہلے علما کرام نے قوم کی قیادت سنبھالی اور مارکیٹوں کی طرز پر مساجد کو ایس او پی پر کھلے رکھنے کا اعلان کیا۔ پھر تاجر حضرات کھڑے ہو گئے کہ رمضان میں تو سیزن لگتا ہے، ہم بھی ایس او پی کی پاسداری کریں گے۔ یہ سنتے ہی عید کی شاپنگ پر اعلی عدلیہ کا بھی دل پسیج گیا۔ اور ایس او پی کے ساتھ لوگوں کی نئے کپڑوں کی خواہش ترجیح اول ہو گئی۔ قصہ مختصر، چنانچہ ‘ایس و پی’ کا وعدہ کرتے ہوئے سب کو اجازت دے دی گئی۔ لیکن ابھی یہ ایس او پیز والی باجماعت نمازوں، جمعہ و عید کے اجتماعات، تراویح، مجالس، یوم علی کرم اللہ کے جلوسوں اور عید شاپنگ سے دل نہیں بھرا تو اب ایس او پی کے ساتھ مارکیٹس بھی کھلی ہیں، مزارات بھی کھول دیئے گئے ہیں، اور ایس و پی کے نعرے لگا کر ٹرانسپورٹ بھی چالو کر دی گئی۔ سنا ہے پچھلے دنوں شادی ہال والے بھی پہنچے ہوئے تھے سرکار کے پاس کہ دونوں عیدوں کے درمیان ہمارا سیزن ہوتا ہے ہمیں بھی اجازت دیں ‘ایس او پیز’ کے ساتھ فنکشن رکھیں گے۔ پرائیویٹ سکولوں والے بھی کود رہے ہیں کہ بچوں اور ان کے والدین کا مرنا جینا چونکہ مقدر ہے اس لئے اسی ‘ایس و پیز’ کے ساتھ سکول کھول دیں۔ اسی اثنا میں کورونا کا علاج دیسی ٹوٹکوں اور ہومیو پیتھی سے ہوتا ہوا حکمت و صنعا مکی نامی جڑی بوٹیوں پر لینڈ کر چکا ہے۔ چلو کورونا نہ سہی کوئی تو کیڑا نکلے گا۔ اب تک اس ‘جعلی وبا’ سے جڑے دھندے کا علم ہوتے ہی عوام کو پتا چل گیا کہ ہسپتال لوگوں کو مار رہے ہیں، ڈاکٹر زہر کا ٹیکہ لگا رہے ہیں، امریکہ اور WHO فی لاش ہزاروں ڈالر دے رہے ہیں۔ تابوت میں ڈمیز ہیں اور ہسپتالوں والے لاش دینے کا 5 5 لاکھ مانگ رہے ہیں۔ چنانچہ ڈاکٹر مریں، پیرا میڈیکل سٹاف مرے، کوئی جاننے والا مر جائے یا اس کا جاننے والا ہم نے کورونا کو آنکھوں سے نہیں دیکھا اس لئے سب اموات، سب ٹیسٹس، سب اعداد و شمار جعلی ہیں۔ بیچ بیچ میں کچھ دلیر پاکستانی، ڈاکٹرز اور ہسپتالوں پر حملے بھی کرتے رہتے ہیں۔ بر سبیل تذکرہ یہ وہ ملک ہے جو سالہا سال اپنے بچے ڈاکٹر بنانے کے لئے مشقت و اخراجات کی بھینٹ چڑھائے رکھتے ہیں۔
تازہ خبر یہ آئی ہے کہ زبان سرکار سے کہ ڈبلیو ایچ او خوامخواہ سنجیدہ ہو گئی ہے ایویں وارننگ دینا اس کا کام ہے، ضروری نہیں کہ اس کی بات مانی جائے۔ ہم خود بہتر سمجھتے ہیں۔ دیہاڑی دار مر جائے گا، اشرافیہ اس کو لاک ڈاون سے کچلنا چاہتی ہے۔ کورونا جعلی ہے لیکن مارکیٹ سے متعلقہ ادویات و انجیکشن، N95 ،K95 ماسک، آکسیجن سلنڈر اور آکسی میٹر نایاب ہیں۔ دستیاب ہیں تو قیمتیں دس دس گنا ہو چکی ہیں۔ ایک بات سمجھ نہیں آتی ہسپتالوں نے پیسے بنانے ہیں تو پتا نہیں کیوں بینر لگا دیئے کہ اور جگہ نہیں ہمارے پاس۔ سنا ہے وینٹی لیٹرز کے لئے لوگ بیماروں کو لے کر مارے مارے پھر رہے ہیں۔ یہ گناہ گار اپنے پیاروں کو بنا آخری ملاقات و دیدار، پلاسٹک شیٹوں میں بے غسل و کفن کیوں لپیٹ کر دفنائے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹرز کی ویڈیوز جھوٹی، مرنے والوں یا مرض میں مبتلا لوگوں یا ان کے پیاروں کی پوسٹس غلط ہیں۔ دوسروں کو سمجھانے والے، لوگوں کی جان بچانے والے بے وقوف ہیں، اسلام دشمن ہیں، منفیت پھیلاتے ہیں اور مایوسی کا پرچار کرتے ہیں۔ اعداد و شمار گھڑے گئے ہیں کیوں کہ کسی نے گلیوں بازاروں میں لوگوں کو مرتے نہیں دیکھا۔ اپنا کوئی پیارا نہیں مرا یا خود مبتلا نہیں ہوئے۔ اور جب ہو جائے تو بھی حکومت ہے نا ہر الزام ڈال دو اس کے سر۔ ہاں البتہ ماسک ہم نے نہیں پہننا، پہننا ہے تو یا ناک باہر لٹکی ہوگی، یا ماسک گلے کو بچا رہا ہوگا۔ ابھی تک صورتحال یہاں پہنچی ہے۔ آپ لوگ کہتے تھے مثبت لکھا کریں تو آج دیکھ لیں مکمل آپ کی حمایت میں مثبت لکھا ہے۔
یہ مثبت کالم ابھی جاری ہے۔۔
اور یہ جاری ہی رہے گا، یہ کالم کبھی ختم نہیں ہوگا، کیوں کہ ابھی تو کہانی شروع ہوئی ہے۔ روزانہ کے ریکارڈ بن اور ٹوٹ رہے ہیں۔ ابھی بڑی عید کی شاپنگ، قربانی کے لئے مویشی منڈیاں، اور بار بی کیو پارٹیاں رہتی ہیں۔ وہ بھی ‘ایس او پی’ کے ساتھ کریں گے انشااللہ۔ اور ہاں پھر محرم کے جلوس و مجالس عزاداری آ رہی ہیں۔ سوا مہینہ کمال ایس و پیز کے ساتھ سب معاملات ہوں گے۔ باقی ہمارے سازش کو پکڑنے سائنسدان نئی تھیوریاں لے کر آنے والے ہیں۔ اس لئے درخواست ہے۔ آپ ضرور جائیں باہر، ہم جیسے لوگوں کی بات پر بالکل دھیان نہ دیں۔ ہمیں آپ کی جان کی پرواہ ہے تو کیا ہوا۔ آپ کورونا سے رابطہ اپنا اور اپنے پیاروں کا بحال رکھیں۔ ہم تک بھی آپ کی ‘ایس او پیز’ کا ثمر کبھی نہ کبھی پہنچ ہی جائے گا۔
رہ گئے ہینڈ سم کپتان ۔۔ ایس و پی کا روز ہی کہہ رہا ہے، کچھ نہ کچھ خطاب کر رہا ہے۔۔۔ تو
اور وہ بیچارہ کیا کرے!
بشکریہ: نقطے۔۔۔ نوید تاج غوری

Waseem Hassan Awan