باغ ابن قاسم کی تعمیر نو اور تزئین کے بعد بحال کردیا گیا ۔ میئر کراچی

کراچی ۔ میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ بلدیاتی انتخابات سے قبل 5 کروڑ روپے سالانہ خرچ ہونے کے باوجود باغ ابن قاسم مکمل طور پر تباہ ہوچکا تھا ہم نے مختصر اور کم وقت میں اس تاریخی اور ملک کے بڑے پارک کی تعمیر نو اور تزئین کے بعد اس پارک کو بحال کردیا گیا ہے جس کا افتتاح وزیراعظم پاکستان 30 مارچ کو کریں گے، پارک کی قیمتی زمین پر تجاوزات قائم تھیں ایک ایکڑ رقبے پر چار منزلہ عمارت بھی تعمیر تھی اس عمارت سمیت تمام تجاوزات کو ختم کردیا گیا ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو باغ ابن قاسم میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر چیئرمین پارکس کمیٹی خرم فرحان، ڈائریکٹر جنرل پارکس آفاق مرزا اور چیئرپرسن میڈیا مینجمنٹ کمیٹی صبحین غوری بھی موجود تھیں، میئر کراچی نے کہا کہ پارک میں پانی کے مسئلے کو ہمیشہ کے لئے حل کرنے کی غرض سے نہر خیام سے زیر زمین پائپ لائن کے ذریعے پانی لاکر اس کو صاف کیا جارہا ہے، پورے پارک میں نیا ایری گیشن نظام ڈالا گیا ہے اور اب دن میں دو مرتبہ پورے پارک کو پانی دیا جاتاہے اس پارک میں درخت نہیں تھے 300 بڑے پھولدار درخت بھی لگائے گئے ہیں جن میں ہر سال پھول کھلیں گے، پانی اتنا وافر مقدار میں ہے کہ 24 گھنٹے میں کسی بھی وقت دیا جاسکتا ہے لہٰذا اب اس پارک میں گھاس، پودے اور درخت پانی کی کمی کے باعث خشک نہیں ہوں گے، میئرکراچی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ گورنر سندھ، وزیر اعلیٰ سندھ ، وزیربلدیات سمیت تمام سیاسی لوگوں سے رابطے میں ہوں، میں وزیراعظم پاکستان سے درخواست کروں گا کہ سندھ کو اس کا حصہ پورا دیا جائے ،بحریہ ٹاؤن کے حوالے سے عدالت کے فیصلے کے مطابق جو رقم مل رہی ہے اس پر کراچی کا حق ہے کیونکہ یہ کراچی کی زمین ہے یہ رقم کراچی اور ڈسٹرکٹ ملیر پر خرچ ہو تو شہر میں کافی مسائل حل ہوں گے۔میئر کراچی نے کہا کہ باغ ابن قاسم سے قبضہ مافیا کا خاتمہ کرکے 130 ایکڑ رقبے پر محیط پارک کو اصل شکل میں بحال کردیا گیا ہے جو بلدیہ عظمیٰ کراچی کی جانب سے کراچی کے شہریوں کے لئے خوبصورت تحفہ ہے ، میئر کراچی نے عدالت عظمیٰ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں قبضہ مافیا کا خاتمہ ممکن ہوا، جب میں نے میئر کراچی کی حیثیت سے چارج سنبھالا اور اس پارک کا دورہ کیا تو یہ تباہ ہوچکا تھا ، زیر زمین پانی و سیوریج کی لائنوں کی خستہ حالی کے باعث اس تاریخی باغ کی دیواروں کو بھی شدید نقصان پہنچ چکا تھا تاہم ہم نے اس پارک کو دوبارہ اصل حالت میں لانے کا بیڑا اٹھایا اس دوران ہم پر تنقید بھی کی گئی لیکن ہم نے ہمت نہیں ہاری ، اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں کامیابی عطا کی اور آج یہ پارک ہماری کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے، انہوں نے کہا کہ اب ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت اس کی دیکھ بھال اور خوبصورتی قائم رکھنے کے لئے کوشش کریں گے تاکہ ہمارے جانے کے بعد بھی یہ پارک اسی حالت میں قائم رہے، میئر کراچی نے کہا کہ کے ایم سی کی زمینوں پر جو تجاوزات قائم ہیں ان کے خاتمے کیلئے بھی کام کیا جا رہا ہے جبکہ ہل پارک کی زمین کو کاٹ کر جو بنگلے بنائے گئے ہیں ان کو 30 دن کے نوٹس جاری کردیئے گئے ہیں جس کے بعد ہل پارک کی زمین سے قبضہ مافیا کا مکمل خاتمہ کرکے اس کو بھی ایک ماڈل پارک میں تبدیل کردیا جائے گا۔اس موقع پر میئر کراچی وسیم اختر نے میڈ یا کے نمائندوں کو پارک کا تفصیلی دورہ بھی کرایا اور اس کی تعمیر نو کے حوالے سے آگاہ کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں