اپوزیشن کاشدید احتجاج،ہنگامہ ، سپیکر ڈائس کا گھیرائو، چور ، چورکے نعرے :تقریر ختم ہونے سے پہلے ہی واک آئوٹ

قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار حماد اظہر کی بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن نے شدید احتجاج اور ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے نعرے بازی کی ، سپیکر ڈائس کا گھیرائو کیا اور تقریر ختم ہونے سے پہلے ہی احتجاجاً واک آئوٹ بھی کرگئے ، بعض ارکان حکومتی بینچز پر بھی پہنچ گئے سپیکر بار بار اپوزیشن ارکان کو ایوان کے وقار کا خیال رکھنے کے احکامات جاری کرتے رہے ۔ اپوزیشن اراکین کو حکومتی بینچوں کی جانب آتے دیکھ کر وفاقی وزیر مراد سعید مکے لہراتے نظر آئے ۔تفصیلات کے مطابق جیسے ہی حماد اظہر نے بجٹ تقریر شروع کی تو اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور ڈیسک بجانے شروع کردیئے ۔بجٹ تقریر کے دوران مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی اور مجلس عمل کے اراکین ایوان میں احتجاجی پوسٹر ،پلے کارڈ لے آئے ۔بجٹ تقریر کی کاپیاں ارکان کو نہیں دی گئی۔بجٹ کی کاپیاں نہ ملنے پر اپوزیشن ارکان نے قومی اسمبلی اجلاس کے دوران شدید احتجاج کیا اور شور شرابہ کیا۔سرکاری ٹی وی نے اپوزیشن کے احتجاج کو نظر انداز کیا اور کیمروں کا رخ حماد اظہر کی جانب رکھا اپوزیشن ارکان چینی چور ، آٹا چور ،علی بابا چالیس چور کے نعرے لگارہے تھے جبکہ پلے کارڈز بھی لہراتے رہے جن پر لکھا ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر کہاں ہیں ۔ زراعت برباد ، کسان بدحال کیوں ہے کورونا عام فلو نہیں دھاندلی زدہ حکومت قبول نہیں ۔ حکومتی ارکان نے بھی اپوزیشن کے احتجاج کو نظر انداز کیا اور ان کی جانب کوئی توجہ نہیں دی جس پر اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں سے نکل کر حکومتی بینچوں پر پہنچ گئے ۔ اس پر سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ ایسا مت کریں آپ لوگ اپنی نشستوں پر واپس جائیں یہ اچھا نہیں، حکومتی بینچز کی جانب جانے والے ارکان نے اپوزیشن کے آغا رفیع اﷲ، شازیہ مری ، کھیل داس کوہستانی و دیگر شامل تھے ایسے میں وفاقی وزیر مراد سعید نے اپوزیشن ارکان کو مکے دکھانے شروع کردیئے جس پر سپیکر نے کہا کہ ہائوس کے ڈیکورم اور اپنی عزت کا خیال رکھیں مہربانی کرکے ایوان کو چلنے دیں ایسا نہ کریں مگر اپوزیشن ارکان کا احتجاج جاری رہا اور وہ ایوان میں لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی کے نعرے لگاتے رہے ۔ بعض غیر پارلیمانی الفاظ بھی نعروں میں استعمال کئے گئے ۔ بعد میں بجٹ تقریر ختم ہونے سے پہلے ہی اپوز یشن ارکان ایوان سے احتجاجاً واک آئوٹ کرگئے تاہم بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل ) کے تین اراکین ایوان میں موجود رہے

Courtesy 92 News