سنتھیا پر مقدمہ درج کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد کی عدالت نے امریکی شہری سنتھیا ڈی رچی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

ایڈیشنل سیشن جج محمد جہانگیر اعوان نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کیا۔

اس سے قبل سنتھیا ڈی رچی کے وکیل ناصر عظیم خان عدالت میں پیش ہوئے۔

عدالت سے ایف آئی اے، پی ٹی اے اور سنتھیا رچی کے وکیل کی جانب سے مقدمہ اندراج کی درخواست مسترد کرنے کی استدعا کی گئی۔

درخواست گزار کے وکیل نے اس موقع پر مؤقف اختیار کیا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے کہا ہے کہ صرف متاثرہ شخص ہی درخواست دے سکتا ہے۔

سنتھیا رچی کے وکیل ناصر عظیم خان ایڈووکیٹ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ سنتھیا ڈی رچی کا بے نظیر بھٹو سے متعلق عدالت میں پیش کیا گیا ٹویٹ اوریجنل نہیں، جعلی ہےدلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگر ٹویٹ کو درست بھی مان لیا جائے تو یہ سائبر کرائم نہیں بدنام کرنے پر ہتکِ عزت کا مقدمہ بنتا ہے۔

سنتھیا رچی کے وکیل ناصر عظیم خان نے مزید کہا کہ مقدمے کے اندراج کا فورم درست نہیں، ہرجانے کا دعوی دائر کرنا چاہیے۔

اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی اے صرف انسدادِ الیکٹرانک کرائم ایکٹ کے تحت کارروائی کی پابند ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر غیر قانونی گیٹ وے ایکسچینج سامنے ہو تب بھی صرف پی ٹی اے کی شکایت پر کارروائی کے پابند ہیں۔

ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایف آئی اے قانون کے مطابق صرف متعلقہ شکایت کنندہ کی درخواست پر ہی کارروائی کی پابند ہے۔

پی ٹی اے کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ پی ٹی اے کے پاس متنازع ویب سائٹ کو بلاک کرنے یا اسے ہٹانے کے اختیارات ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ مقدمے کے اندراج کی درخواست سے ہمارا کوئی تعلق نہیں بنتا، ہمیں کیوں فریق بنایا گیا ہے؟

Courtesy jang news