اکثر محبت کا آغاز نفرت سے ہوتا ہے

ہم بہت سی کہانیوں,فلموں یا ڈراموں میں دیکھتے ہیں کہ اکثر محبت کا آغاز نفرت سے ہوتا ہے, ہیرو ہیروئین کی آپس میں بنتی نہیں لڑائی جھگڑا, نفرت اور اس کے بعد محبت,,, دنیا میں ایک اور رشتہ بھی ہے جس کا یا تو آغاز محبت ہے یا انجام محبت, یا آغاز نفرت یا انجام نفرت, وہ ہے ایک بہو کو سسرال سے, اور سسرال کا بہو سے, دونوں طرف سے تعلقات کا آغاز محبت سے ہو بھی تو وقت, حالات و واقعات, خدشات, تحفظات ماحول کا فرق اور بہت سی چیزیں اس محبت کے بیچ حائل ہو جاتی ہیں, بعض اوقات رشتے کا آغاز ناپسندیدگی اور نفرت سے ہوتا ہے, اور وقت کے ساتھ ساتھ بہت سے نشیب و فراز کے بعد بہت مثبت تبدیلیاں آتی ہیں, لیکن اس کے لیے کسی ایک فریق کو جھکنا پڑتا ہے, قربانی دینی پڑتی ہے, صبر کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے, لیکن اگر دونوں طرف سے ایسا ہو تو حالات جلدی معمول پہ آ جاتے ہیں, ہمارا معاشرتی نظام ایسا ہے کہ شادی لڑکا لڑکی کے بیچ نہیں, دو خاندانوں کے بیچ ہوتی ہے, کبھی کبھی بڑوں کی لڑائی میں بچے پس جاتے ہیں, بچے اگر اپنے معاملات خود طے کریں تو اس سے ان میں قربت بڑھے گی اور قوتِ فیصلہ بھی,,,,,, جب بھی بچوں کے معاملات خراب ہوتے ہیں دونوں میں سے کسی ایک کی غلطی ہوتی ہے, اگر ان دونوں کو موقع دیا جائے تو وہ تو شاید دونوں ہی ایک دوسرے سے معافی مانگ لیں, لیکن ہم بڑے اپنے اپنے بچے کو پیچھے کر کے خود میدان میں آ جاتے اور آپس کے تعلقات خراب کر لیتے ہیں , بچوں کو انکے فیصلے خود کرنے دیں, بیوی اپنے شوہر کی طرف سے عزت محبت اور تحفظ کی حقدار بھی ہے اور اس کی فرمانبرداری کی پابند بھی,, دونوں خاندانوں کو انا کا مسئلہ بنانے کی بجاے دونوں بچوں کی آپس میں محبت اور رشتے کی مضبوطی کی کوشش کرنی چاہئے, کیونکہ میاں بیوی ایسا رشتہ ہے جس میں کئی بار نفرت اور ہر روز محبت ہوتی ہے, خاندان کے باقی افراد کو بچے یا بچی کی وجہ سے اپنے تعلقات خراب کرنے سے گریز کرنا چاہیے, میاں بیوی میں یا تو صلح ہو جاتی ہے یا علیحدگی لیکن دوسروں کے ہاتھ کچھ نہیں آتا,,, بچوں کو تحفظ دیں پیار کریں انکا خیال رکھیں لیکن انکے دل انکے زندگی کے ساتھی کی محبت, انکے رشتے کے تقدس کو ختم مت ہونے دیں, مداخلت سے گریز کریں,,, نیت اچھی ہو تو اللہ برکت ڈالتا ہے

محمد ارشد ( راولپنڈی )