جسٹس قاضی فائز کیس- فروغ نسیم نے چار دلیلیں دیں تاہم عدالت نے انھیں غیر متعلقہ قرار دیدیا

پاکستان کی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ بظاہر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف بدنیتی کی بنیاد پر صدارتی ریفرنس بنایا گیا، اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان قانون سے ماورا نہیں بلکہ قانون کے تحت قابل احتساب ہیں۔

جمعے کو سماعت میں جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ برطانیہ میں جائیداد کا پتہ لگانے کے لیے گھر کا ایڈریس معلوم ہونا ضروری ہے۔

وفاقی حکومت کا دفاع کرنے والے وکیل فروغ نسیم نے چار دلیلیں دیں تاہم عدالت نے انھیں غیر متعلقہ قرار دیدیا۔

واضح رہے حکومتی وکیل فروغ نسیم وزارت قانون سے مستعفی ہوکر حکومت کا مقدمہ لڑ رہے ہیں۔

ماضی میں فروغ نسیم غداری کیس میں فوجی آمر پرویز مشرف اور مدت ملازمت میں توسیع کے مقدمے میں جنرل قمر جاوید باجوہ کے وکیل بھی رہ چکے ہیں۔

رپورٹ: جہانزیب عباسی

سپریم کورٹ میں جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں دس رکنی بنچ نے مقدمے کی سماعت کی۔ مقدمے کی سماعت کے دوران وفاقی حکومت کے وکیل فروغ نسیم نے مختلف ملکی و غیر ملکی عدالتی فیصلوں اور قرآنی آیات کا حوالہ دیا۔

وفاقی حکومت کی پہلی دلیل

حکومتی وکیل فروغ نسیم نے قرآن پاک کی ایک آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا مرد اور عورت ایک دوسرے کا لباس ہیں۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا خداکیلئے آیت کا شان نزول دیکھیں، آپ کو معلوم ہے جس قرآنی آیت کا آپ حوالہ دے رہے ہیں اُس کا شان نزول کیا ہے؟

جسٹس سجاد علی شاہ نے سابق وزیر قانون سے مکالمہ کرتے ہوئے مزیدکہا نہ آپ فقہی ہیں نہ ہم فقہی ہیں،قرآن کی اس آیت کے نازل ہونے سے قبل رمضان میں مرد عورت کے قریب نہیں جاسکتا تھا،ایک صحابی رسول کریم ﷺ کی خدمت میں ظاہر ہوئے اور سوال کیا جس کے بعد یہ آیت اتری،وکیل صاحب آپ کیا بات کررہے ہیں۔جسٹس قاضی امین نے کہا جو حوالہ آپ دے رہے ہیں وہ بائیو لوجیکل تعلقات سے متعلق ہے آپ ہمیں اس طرف نہ دھکیلیں۔

جسٹس منصو ر علی شاہ نے کہا کیا پاکستان میں ایک خاتون جائیداد نہیں خرید سکتی؟ آپ قانون کی دنیا میں آکر قانون پر بحث کریں،کیا پاکستان میں عورتوں کو حقوق حاصل نہیں ہیں؟۔بنچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا آپ اپنی دلیل کو کیسے تعمیر کر رہے ہیں۔

وفاقی حکومت کے وکیل نے افتخار محمد چوہدری کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا عدالتی فیصلے میں قرار دیا گیا چیف جسٹس پبلک سرونٹ ہے۔

جسٹس مقبول باقر نے کہا ایک وضاحت ضروری ہے، سپریم کورٹ نے کبھی یہ نہیں کہا جج احتساب سے ماورا ہے،احتساب قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔

جسٹس مقبول باقر نے مزید کہا یہ تاثر غلط ہے ایک جج کا احتساب نہیں ہوسکتا،جج بھی قابل احتساب ہیں، یہ واضح کرتے ہیں ہم ججز قابل احتساب ہیں، ہم قانون سے بالاتر نہیں ہیں، بظاہر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف بدنیتی کی بنیاد پر صدارتی ریفرنس بنایا گیا۔

وفاقی حکومت کی دوسری دلیل

حکومت کے وکیل نے فیڈرل شریعت کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیا تو جسٹس منصور علی شاہ نے کہا آپ کی دلیل تو درخواست گذار کے حق میں جارہی ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا جو فیصلہ آپ پڑھ رہے ہیں وہ نہ پڑھیں۔

مقدمے کی سماعت کے دوران اُس وقت کمرہ عدالت میں مسکراہٹیں بکھر گئیں جب جسٹس قاضی امین نے حکومت کے وکیل سے پوچھا کیا غیر مسلم پرقرآن کے اصول کا اطلاق ہوتا ہے؟فروغ نسیم نے جواب دیا ہندو مذہب میں شوہر کے مرنے کے بعد بیوی ستی ہوجاتی ہے،ہندو مذہب میں عورت کو مرد کے ساتھ دفن کر دیا جاتا ہے۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا اگر جج انکم ٹیکس قانون کی شق ایک سو سولہ کے نوٹس پر جواب نہ دے تو مس کنڈکٹ کے اصول کا اطلاق ہوگا۔حکومت کے وکیل نے کہا جج کی طر ف سے منی ٹریل نہیں دیا گیا۔جسٹس مقبول باقر نے حکومتی وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا جج سے منی ٹریل کا سوال اُس وقت بنتا ہے جب یہ ثابت ہو جائے غیر ملکی جائیداد جج کے اثاثوں سے خریدی گئی،اس وقت منی ٹریل کا تقاضا قبل ازوقت ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا آپ کی دلیل غیر متعلقہ ہے سوال یہ ہے کہ جج کی اہلیہ کے اقدام پر جج صاحب کیسے جواب دہ ہیں۔جسٹس مقبول باقر نے کہا ایسی پڑھی لکھی خواتین بھی ہیں جو مالی طور پر خو د کفیل ہیں،اکثر مالی خود کفیل خواتین کو تو شوہروں کی دوسری شادی کا بھی علم نہیں ہوتا۔کمرہ عدالت میں قہقہے بکھر گئے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے واضح کیا یہ ایک لائٹر نوٹ ہے۔

ایک موقع پر جسٹس منصور علی شاہ نے ایک سوا ل دیا تو فروغ نسیم بولے مجھے ایک موقع دیں میں سوال کا جواب دونگا۔جسٹس منصور علی شاہ نے فروغ نسیم سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا ہم آپ کو پورا موقع دے رہے ہیں،آپ ہمارے سوال کی تعریف تو کرتے ہیں لیکن جواب نہیں دیتے،قربت کے اصول قانون کی تعریف کہاں کی گئی ہے؟۔

وفاقی حکومت کی تیسری دلیل

حکومت کے وکیل نے برطانیہ کے ایک مقدمے کا حوالہ دیا تو جسٹس مقبول باقر نے کہا جس مقدمے کا آپ حوالہ دے رہے ہیں اُس مقدمے کے حقائق زیر بحث مقدمے سے مختلف ہیں۔جسٹس منصو ر علی شاہ نے فروغ نسیم سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا ابھی تک تو یہ بھی ثابت نہیں ہوسکا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے کچھ غلط کیا،جس مقدمے کا آپ حوالہ دے رہے ہیں اُس مقدمے میں تو شوہر پر اہلیہ کے اقدام پر پردہ ڈالنے کا الزام تھا۔

جسٹس مقبول باقر نے سابق وزیر قانون فروغ نسیم سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ کا ایک نام ہے،آپ جس لیول کے وکیل ہیں ہمیں اُسی لیول کے دلائل کی آپ سے توقع ہے،آپ اچھے وکیل ہیں مہربانی فرمائیں۔

وفاقی حکومت کی چوتھی دلیل

وفاقی حکومت کے وکیل نے بھارت کے ایک فیصلے جسٹس ڈینا کرن کا حوالہ دیا تو جسٹس منصور علی شاہ نے کہا جس مقدمے کا آپ حوالہ دے رہے ہیں اس میں تو اہلیہ پر بے نامی جائیداد کا الزام ہے،کیا جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیخلاف مقدمے میں یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ بیرون ملک جائیداد شوہر کے اثاثوں سے بنائی گئی؟جسٹس مقبول باقر نے کہا جس فیصلے کا آپ نے حوالہ دیا تو غیر متعلقہ ہے۔

بریسٹر فروغ نسیم نے کہا جج کی عزت و احترام ہے۔جسٹس مقبول باقر نے کہا ہمیں ایسے قائل کرنے کی کوشش نہ کریں۔جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کیا کوئی قانونی تقاضا ہے جو جج کو مجبور کرے کہ بیوی کے اثاثوں کا جواب دہ ہے،حکومت نے درست قوانین کا استعمال ہی نہیں کیا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے فروغ نسیم سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ نے کہا تھا بیرون ملک جائیداد اوپن سورس ویب سائٹ پر نام ڈالنے سے ظاہر ہو جاتی ہیں لیکن ایسا نہیں ہے اس کے لیے جائیداد یا گھر کا پتہ معلوم ہونا ضروری ہے۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر فروغ نسیم سے تحریری معروضات طلب کرتے ہوئے سماعت پیر ساڑھے نو بجے تک ملتوی کر دی گئی۔

Pakistan24.tv-report