بجٹ 21-2020: حکومت کا کوئی نیا ٹیکس نہ لگانے کا اعلان

بجٹ 21-2020: حکومت کا کوئی نیا ٹیکس نہ لگانے کا اعلان
حکومت بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن کوئی اضافہ نہیں کیا
وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر بجٹ پیش کر رہے ہیں۔
جمعه 12 جون 2020ء

( بجٹ رپورٹ – طارق اقبال )
قومی اسمبلی میں مالی سال 21-2020 کی بجٹ تجاویز پیش کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے صنعت حماد اظہر نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا دوسرا سالانہ بجٹ پیش کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔
موجودہ حکومت نے بڑی مشکل سے معیشت کو بہتری کی جانب گامزن کیا تھا لیکن کورونا وائرس نے اسے شدید نقصان پہنچایا ۔ سوا تین ماہ کے دوران معیشت کو اس قدر نقصان پہنچا ہے کہ معاشی طور پر پاکستان کئی برس پیچھے چلا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ہمارے دور کا آغاز ہوا، ہم نے مشکل وقت میں آغاز کیا تاہم گزشتہ 2 سال کے دوران ہمارے رہنما اصول رہے ہیں کہ کرپشن کا خاتمہ کیا جائے اور میرٹ کے اصولوں کو یقینی بنایا جائے۔

حماد اظہر کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے عوام کی صلاحیت پر پورا اعتماد ہے اور مطلوبہ اہداف کے حصول میں ان کی ضرورت ہے۔
– مالی سال 20-2019
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے پہلے مکمل بجٹ میں سال 20-2019 کے لیے 70 کھرب 22 ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش کیا تھا جس میں بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 31 کھرب 512 ارب روپے اور 7.2 فیصد تجویز کیا گیا تھا۔

گزشتہ بجٹ میں ایف بی آر کی جانب سے وصولی کا ہدف 55 کھرب 50 ارب روپے رکھا گیا تھا جسے بعد ازاں کم کرکے 48 کھرب کیا گیا تھا لیکن کورونا وائرس کے باعث اس میں مزید کمی کرتے ہوئے 38 کھرب کردیا گیا تھا۔

علاوہ ازیں مالی سال 20-2019میں وفاقی آمدنی کا تخمینہ 6 ہزار 717 ارب روپے رکھا گیا تھاجو 19-2018 کے مقابلے میں 19 فیصد زیادہ تھا۔

قرضوں پر سود کی ادائیگی کا تخمینہ 28 کھرب 914 ارب روپے، اعلیٰ تعلیم کے لیے 45 ارب روپے، وفاقی ترقیاتی بجٹ میں زراعت کے لیے 1200 ارب روپے رکھے گئے تھے۔

پی ٹی آئی کی حکومت نے اپنے پہلے بجٹ میں کابینہ کے تمام وزرا کی تنخواہ میں 10 فیصد کمی کی تھی جبکہکم از کم تنخواہ بڑھا کر 17 ہزار 500 روپے ماہانہ مقرر کی تھی۔

قبل ازیں مالی سال 19-2018 میں 52 کھرب 46 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا گیا تھا جبکہ اخراجات 53 ارب 85 ارب روپے ہوگئے تھے۔

اس سے قبل مالی سالی 17-2018 میں 47 کھرب 53 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا گیا تھا جبکہ اخراجات 48 کھرب 57 ارب روپے ہوگئے تھے۔