مالیاتی سال 21ء-2020ء کا وفاقی بجٹ

مالیاتی سال 21ء-2020ء کا وفاقی بجٹ
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اسلام آباد میں جاری
حکومت بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن کوئی اضافہ نہیں کریں گے
جمعه 12 جون 2020ء

( بجٹ رپورٹ – طارق اقبال )
موجودہ حکومت نے بڑی مشکل سے معیشت کو بہتری کی جانب گامزن کیا تھا لیکن کورونا وائرس نے اسے شدید نقصان پہنچایا ۔

سوا تین ماہ کے دوران معیشت کو اس قدر نقصان پہنچا ہے کہ معاشی طور پر پاکستان کئی برس پیچھے چلا گیا ہے۔ ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ وائرس کب ختم ہو گا۔ ابھی تک کو اس کی ویکسین ہی نہیں بن سکی، اس کے بعدہی اسے کئی طرح کے تجربات سے گزار کر مارکیٹ میں لایا جائے گا ۔کورونا ہے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ پاکستان میں کورونا سے ہر گھنٹے میں چار افراد کی موت واقع ہو رہی ہے۔ ان حالات کے پیش نظر گزشتہ روز عالمی ادارہ صحت نے پاکستان میں سخت لاک ڈائون کا مطالبہ کیا ہے حکومت اگر دوبارہ لاک ڈائون کرے گی تو معیشت پر اس کے مزید گہرے اثرات مرتب ہونگے۔ ان حالات میں جبکہ حکومت کے پاس وسائل کم ہیں، قومی اقتصادی کونسل نے آئندہ مالی سال 2020ء ۔21ء کے لئے 1324ارب روپے کے قومی ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی ہے۔ ترقیاتی منصوبوں میں 650ارب روپے، وفاقی ترقیاتی پروگرام(پی ایس ڈی پی) اور صوبوں کے لئے 674ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی گئی ہے۔
بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن سے متعلق جو فیصلے ہوتے ہیں وہ عمومی طور پر مستقل رہتے ہیں لیکن آئی ایم ایف کی ممکنہ شرائط کے پیش نظر اس سال اس روایت کا قائم رہنا بھی مشکل دکھائی دیتا ہے
موجودہ مالی سال میں ترقیاتی فنڈز میں اضافے کا مطالبہ ویسے بھی زیب نہیں دیتا۔ جب معیشت بند پڑی ہو، ٹیکس میں خسارہ ہو اور مستقبل میں معیشت کے اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کے آثار بھی نظر نہ آ رہے ہوں تو ان حالات میں ترقیاتی فنڈز کو نہ بڑھانا ہی دانشمندی ہے۔ اس وقت برآمدات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں کیونکہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کورونا وائرس سے متاثر ہے۔ فیکٹریاں بند، مزدور بے روزگار ہیں۔ ان حالات میں اپنے لوگوں کو بھوک سے مرنے سے بچانا ہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔موجودہ حکومت نے ماضی کے برعکس اس بار صرف وہ منصوبے پی ایس ڈی پی میں شامل کئے ہیں جن کی متعلقہ فورم نے پہلے منظوری دی ہے۔ ماضی میں پی ایس ڈی پی میں من پسند منصوبوں کو شامل کیا جاتا تھا جس کا متعلقہ فورم کو علم ہی نہیں ہوتا تھا، جس کے باعث پلاننگ نہ ہونے کی وجہ سے منصوبے ادھورے رہ جاتے تھے-