بڑا بھائی

بڑا بھائی💕
ہماری سوسائٹی میں بڑا بھائی ہونا جہاں اعزاز کی بات ہے وہاں یہ اعزاز بھی کسی مصیبت سے کم نہیں, جونہی وہ پیدا ہوتا ہے تو ہر طرف سے آوازیں آنا شروع ہو جاتی ہیں کہ اپنے باپ کا بوجھ بانٹنے والا آ گیا, باپ کے بھی شانے چوڑے ہو جاتے ہیں کہ اس کو سہارا دینے والا اس دنیا میں آ گیا,,, اور اسی سہارے کی آمد کی خوشی میں مزید پانچ چھ شہزادے اور شہزادیوں کی آمد ہو جاتی ہے, بڑے بھائ کے ہوتے ہوے چھوٹے شہزادے شہزادیاں ہی ہوتے ہیں,,,
زندگی کی دوڑ میں اپنے ماں باپ کا سہارا بننے والا یہ بندہ اپنی بہت سی خواہشات کو دبائے رکھتا ہے, ماں باپ کا خیال, چھوٹے بہن بھائیوں کا بھرم, خاندان و برادری کا لحاظ, ماں باپ سمیت خاندان کا ہر فرد اپنے مسائل اسکے آگے رکھ کے خود بے فکر ہو جاتا ہے کہ گویا اس کے پاس کوئی الہ دین کا چراغ ہے,,,,,,
اپنی زندگی کے پچیس تیس سال اپنے والدین اور بہن کو دینے کے باوجود جب اس کی اپنی ازدواجی زندگی کا آغاز ہوتا ہے پھر بھی اسے آزادی نہیں ملتی, حتی کہ وہی لوگ خدشات کا شکار ہو جاتے ہیں, کہ اب اسکی بیوی آ جائے گی, یہ بدل جائے گا, ہمیں وقت نہیں دے گا وغیرہ وغیرہ, وہ بندہ تو ویسے کا ویسا ہی رہتا ہے لیکن ہمارا اپنا سوچنے کا انداز بدل جاتا ہے, وہی بیٹا وہی بھائی جب شادی سے پہلے کچھ بھی کہہ دیتا کچھ بھی کر لیتا تو کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا تھا, شادی کے فورا بعد انڈر آبرویشن ہو جاتا ہے, کڑی نظر, کڑی نگرانی, جیسے کہ وہ کوئی جرم کر بیٹھا ہو, سب کے سوچنے کا دیکھنے انداز ہی بدل جاتا ہے, وہ جو کہتا ہے جو کرتا ہے اسکی بیوی کے زمے لگا دیا جاتا ہے کہ اسی کے کہنے پہ کہا یا کیا ہو گا, کہ جیسے وہ کوئی بیوی کے ہاتھوں چلنے والا روبوٹ ہے,اسکی اپنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نکاح خواں اپنے ساتھ ہی لے گیا ہو,,, والدین سمجھتے ہیں کہ اسکی بیوی آ گئی ہے اب ہمارے باقی بچوں کا کیا ہو گا,,, کیا یہ خود غرضی نہیں,,,, اسکو اجازت نہیں ہوتی گھر کے کسی فرد کے سامنےاپنی بیوی کو پیار سے دیکھ بھی سکے,,, کیونکہ چھوٹے بہن بھائیوں پہ برا اثر پڑتا ہے, واہ کیا فلسفہ ہے, بیس تیس سال خدمت کرنے والا یہ شخص صرف ایک دن میں مشکوک ہو جاتا ہے جس دن وہ اپنی زندگی کا آغاز کرتا ہے,,,,,,,
اسکی شخصیت دو حصوں میں بٹ جاتی ہے, بیوی اور باقی افراد کے درمیان خلا میں کھڑا رہتا ہے,,,, پُر کرنے کیلئے,,, وہ خلا تو پورا نہیں ہوتا لیکن اسکی اپنی ذات بہت سی محرومیوں کا شکار ہو جاتی ہے, اچھا بیٹا, اچھا بھائی خاندان کا سربراہ بنتے بنتے وہ اچھا باپ نہیں بن پاتا, یا اچھا باپ ہو بھی تو اچھا شوہر نہیں ہوتا یا اس کے علاوہ اور بہت کچھ,,,,,,,, اور وہی لوگ جن کو اس نے اپنی زندگی کے قیمتی سال دئیے ہوتے ہیں وہی اس پہ انگلیاں اٹھانے لگتے ہیں, کہ اس نے یہ غلطی کی, اس نے ایسے کیا,, ویسے کیا, اگر وہی لوگ اسکی محرومیوں اسکی کمیوں کو مل کے پورا کریں تو کوئی فرق نہیں پڑتا,
ثابت یہ ہوا کہ ہم سب خود غرض ہیں,,, میں بھی,,,, اور آپ بھی,,, ہم سب,,,,, 💕

بشارت علی طاہر