کرونا نے بتا دیا مستقبل کی دنیا کیسی ہوگی ۔برطانیہ سے حماد راشد کی صہیب سالک سے خصوصی گفتگو

برطانیہ میں مقیم باصلاحیت اور پروفیشنل پاکستانی نوجوان حماد راشد نے صہیب سالک سے آن لائن خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کرونا کی صورتحال اور مختلف ملکوں میں اٹھائے گئے اقدامات پر تفصیلی گفتگو کی ہے اور اس حوالے سے

اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپ میں مختلف ملکوں نے کرونا کے حوالے سے مختلف اپروچ اختیار کیے رکھی ۔اٹلی میں نمبرز بہت اوپر چلے گئے تھے اب انہوں نے اپنا ملک اوپن کرنے کا اعلان کردیا ہے اٹلی نے بہت زبردست طریقے سے صورتحال کا مقابلہ کیا ہے بہت مشکل صورتحال تھی اٹلی کے علاوہ نیوزی لینڈ سے بھی یہ خبر آئی ہے کہ انہوں نے اعلان کردیا ہے کہ کرونا ختم ہوگیا ہے ۔حماد راشد نے کہا کہ نیوزی لینڈ اور یورپ کے ملکوں میں آبادی کم ہے اس لیے وہاں کنٹرول کرنے میں آسانی ہوئی ہے لیکن پاکستان اور بھارت جیسے ملکوں میں لوگ بہت زیادہ ہیں آبادی کا دباؤ بہت زیادہ ہے ۔

صہیب سالک کے ایک سوال پر حماد راشد نے کہا کہ کرونا سے سارا کام آن لائن ہو گیا ہے زوم اور اسکائپ کے ذریعے لوگ اپنا کام کر بیٹھے کر رہے ہیں ۔مجھے برطانیہ میں بیٹھے یہ تو پتا نہیں کہ پاکستان میں انٹرنیٹ کتنا فاسٹ ہے لیکن برطانیہ میں کام بہت آسان ہوگیا ہے لوگوں کے لئے بہتر ہوا ہے کہ آپ گھر بیٹھے کام کر سکتے ہیں میں بھی صبح اپنی 127 کرتا ہوں پھر گھر بیٹھ کر صرف جیکٹ پہن کر کام کر سکتا ہوں نیچے بھلے پاجامہ پہنا ہو پہلے تو سوٹ پہن کر آفس جانا پڑتا تھا ۔

ہم الراشد نے بتایا کہ اب تو حیران ہوں کہ کرونا کے بعد لوگ آفس کیا کرنے جایا کریں گے جیسے بلڈرز اور مزدوروں کا کام ہے وہ تو جانا پڑے گا لیکن باقی سارے وائٹ کالر جابز گھر بیٹھے ہوا کریں گے ۔
اپنے مخصوص مزاحیہ انداز میں گفتگو کرتے ہوئے حماد راشد نے کہا کہ گھر بیٹھ کر لوگوں نے اپنا وزن بڑھا لیا ہے انہیں ایکسرسائز کرنی چاہیے موٹاپے سے بچنا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ ہم پاکستانی روٹیاں شوق سے کھاتے ہیں اور یہاں تو ہم پاستا بھی ضرور کھاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سب کو اپنی صحت کا خیال رکھنا چاہیے اور بھوک سے تھوڑا کم کھانا چاہیے اس طرح موٹاپے سے بچ سکتے ہیں اور ورزش کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ آپ سب نے سیکھ لیا ہے کہ ہمیں بار بار اپنے ہاتھ دھونے چاہیے باہر جائیں تو سینیٹائزر استعمال کرنا چاہیے ۔ماسک پہننا احتیاط ہے ایس او پی پر عمل کرنا چاہیے ۔احتیاطی تدابیر سے ہم خود بھی بیمار ہونے سے بچ سکتے ہیں اور دوسروں کو بھی بچا سکتے ہیں ۔