وزیربلدیات سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کرانے میں ناکام

کرچی(اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات اور سیکریٹری بلدیات سمیت ڈی۔جی ۔ کے ۔ ڈی ۔ اے  ، سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات پر عمل درآمد کروانے میں ناکام ، خالد مسرور کو آوٹ آف ٹرن گریڈ۔19 میں ترقی دینے کا آرڈر تا حال واپس نہیں کیا جاسکا، خالد مسرور آوٹ آف ٹرن ترقی ملنے کے بعد کے۔ڈی۔اے، کے ساتھ  لوکل گورنمنٹ پروجیکٹ کراچی میں بھی ہائر گریڈ پوسٹ پر اب تک تعینات ہے ۔یاد رہے چند ماہ قبل کے۔ڈی۔اے انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کے جونئیر انجینئر گریڈ۔18 خالد مسرور جو کہ وزیراعلی سندھ کے کلاس فیلو اور ذاتی دوست بھی ہے سابقہ ڈی۔جی۔کے۔ڈی۔اے اور سیکریٹری کے۔ڈی۔اے نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے واضح احکامات کے برخلاف خالد مسرور کو بطور سپرنٹنڈنگ انجینئر سول گریڈ۔19 میں آوٹ آف ٹرن ترقی دے کر نوازا گیا تھا اوران کی تنخواہ انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کے بجائے روڈ اینڈ ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ میں گریڈ۔19 کی خالی پوسٹ پر ایڈجسٹ کردی گئی تھی ، جبکہ خالد مسرور سے سینئر 20 کے قریب ایکسئین گریڈ۔18 پہلے ہی موجود ہیں لیکن چونکہ خالد مسرور کی رغبت اور دوستی وزیر اعلی سندھ کے ساتھ انتہائی قریب سمجھی جاتی ہے اسی بناء پر وزیراعلی سندھ کی آشیر باد حاصل کرنے کیلئے سابقہ ڈی۔جی۔ اور سیکریٹری کے۔ڈی۔اے، نے تمام قواعد وضوابط کو نظر انداز کرکے اور آوٹ آف ٹرن پروموشنز کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان کے واضح احکامات کے باوجود یہ غیر قانونی عمل کیا اور 20 سے زائد سینئر ایکسئینز کی سینیارٹی کو نظر انداز کرکے خالد مسرور کو آوٹ آف ٹرن گریڈ۔19 کا پروموشن دے دیا ۔مزید یہ بھی یاد رہے کہ خالد مسرور کی وزیراعلی سندھ کی قربت اور دوستی کی وجہ سے ان کے پاس لوکل گورنمنٹ پروجیکٹ کراچی میں بھی ایڈیشنل چارج ہے اور تمام پروجیکٹس کی ٹینڈرنگ اور ٹھیکے دینا، اور ان کی سپرویژن اور مانیٹئرنگ سمیت تمام معاملات نمٹانے کی اضافی ذمہ داری بھی ان کے ذمے ہے ۔خالد مسرور کے آوٹ آف ٹرن پروموشن کے خلاف اب تک قانون کے مطابق کوئی ایکشن نہ لینے کی بناء پر کے۔ڈی۔اے، سینئر ایکسئینز میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور وہ اس بات پر مضطرب بھی نظر آتے ہیں کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے واضح احکامات کے باوجود اور ذرائع ابلاغ میں خبریں آنے کے باوجود اب تک چیف سیکریٹری سندھ، وزیر بلدیات سندھ، سیکریٹری بلدیات سندھ اور ڈی۔جی۔ کے۔ڈی۔اے، کی جانب سے خالد مسرور کا بطور سپرنٹنڈنگ انجینئر گریڈ۔19،آوٹ آف ٹرن پروموشن آرڈر منسوخ نہ کرنا سخت تشویشناک اور مایوس کن ہے اور بیڈ گورنس کی بدترین مثال ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں