وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک مشکل میں ہے، اپوزیشن حالات سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کرونا کی صورت حال پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک پاکستان میں اموات اتنی زیادہ نہیں تھیں،اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ اموات اوپر جا رہی ہیں،پتہ تھا یہ ہوگا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں میری ٹیم نے زبردست کام کیا،خوشی ہے میری ٹیم نے 3 ماہ میں صوبوں سے مشاورت کر کے کام کیا۔انہوں نے عوام کو بتایا کہ بڑا دباؤ تھا لیکن ہم دباؤ میں نہیں آئے،ہمارے مخالفین چاہتے تھے کہ پہلے لاک ڈاؤن کر دینا چاہیے تھاوزیراعظم کا کہنا تھا کہ پی ایم آفس سے سارے ملک میں ایس اوپیز پر عملدآمد کو مانیٹر کروں گا،ملک بھر سے میرے پاس ہر روز رپورٹ آئےگی، جہاں جہاں ایس او پیز پر عمل نہیں ہوگا وہاں انتظامیہ اور ٹائیگرفورس کے ساتھ مل کر ایکشن لیں گے۔

وزیراعظم کا لیبارٹریز کے حوالے سے کہنا تھا کہ جب کرونا پاکستان آیا، اس وقت 2 لیبارٹریز ٹیسٹ کر رہی تھیں،اب 107 لیبارٹریز کرونا ٹیسٹ کر رہی ہیں،ہر ماہ 12لاکھ کرونا ٹیسٹ کرسکتے ہیں۔

وینٹی لیٹرز سے متعلق عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں28 وینٹی لیٹرز تھے آج 4 ہزار سے زائد ہیں اور 1400وینٹی لیٹرز کا آرڈر دیا ہوا ہے۔انہوں نے اس حوالے سے خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ کوشش کی جا رہی ہے پاکستان میں وینٹی لیٹرز بنائے جائیں،دنیا میں وینٹی لیٹرز کی کمی ہے،ہم اپنا تیار کرنے کے لیے ٹیسٹنگ کر رہے ہیں۔

وزیراعظم نے قوم سے خطاب کے دوران ایس او پیز پر عمل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں کرونا سےشرح اموات دنیا میں سب سے کم ہے،ایس او پیز پر عمل ہوا تو پاکستان میں کرونا کے زیادہ کیسز نہیں بڑھیں گے۔

Courtesy Ary News