نج کاری سے بہتر ہے اسٹیل ملز کا انتظام وزارت دفاع کے حوالے کر دیا جائے۔

تحریر۔ حبیب جان


بدقسمتی سے پاکستان اسٹیل ملز بدانتظامی کا شکار ہو کر تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی۔ ایک عام خیال تھا کہ تحریک انصاف اقتدار میں آکر ایسے اقدامات اُٹھائے گی کہ ہر طرف شہد کی نہریں بہتی نظر آئیں گی۔ عمران خان کی ایمانداری کے چرچے زبان زد عام تھے۔ ان کے موجودہ وزراء اور خود وزیراعظم عمران خان ماضی بعید میں مزدوروں کے جلسہ عام میں ہر جگہ اٹھتے بیھٹتے کہا کرتے تھے کہ زرداری نواز شریف چور ڈاکو ہیں اگر ہمیں موقع ملا تو صنعتی اداروں اور بڑی بڑی آرگنائزیشن میں انتظامی اصلاحات نافذ کر کے منافع بخش اداروں میں تبدیل کر دیا جائے گا۔

افسوس آج تحریک انصاف کو اقتدار میں آئے دو سال ہونے کو ہے اور کوئی ایک سرکاری ادارہ ایسا نہیں جہاں کوئی معمولی نوعیت کی تبدیلی رونما ہوتے ہوئے عوام نے دیکھی ہو۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب کوئی مایوسی کی خبر سننے کو نہ ملتی ہو۔ ابھی پچھلے دنوں کابینہ کے اجلاس میں یہ خبر بجلی بن کر قوم پر گری کہ پاکستان اسٹیل ملز کے ۱۰ دس ہزار کے قریب تمام ملازمین کو فارغ کر کے ملز کی نج کاری کر دی جائے گی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ماضی میں بھی حکمران پاکستان اسٹیل ملز کی نج کاری کر کے جان چھڑانا چاہتے تھے۔ اور آپ یعنی عمران خان صاحب اور ان کی برگئیڈ تمام تنقیدوں کے نشتر لئے ان حکمرانوں پر حملہ آور ہوجایا کرتی تھی۔ سوشل میڈیا پر جناب عارف علوی اسد عمر اور عمران خان صاحب کی پاکستان اسٹیل ملز کے مزدوروں کی حمایت نج کاری کے خلاف دھواں دھار تقاریر موجود ہیں۔

یقینا پاکستان اسٹیل ملز شہید ذوالفقار علی بھٹو کی عظیم صلاحیتوں کا جیتا جاگتا منہ بولتا ثبوت ہے

پاکستان اسٹیل ملز وفاق اور فیڈریشن کی ایک خوبصورت تصویر ہے۔ جہاں پاکستان کے چاروں صوبوں اور فاٹا سمیت کشمیر گلگت بلتستان کے لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر ہیں۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ لوہا سازی کی صنعتیں کسی بھی ملک کی ترقی و خوشحالی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ نجی اور سرکاری سطح پر لوہے سے بنی اشیاء آج بھی نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک برآمد کرنے کے کام آتی ہیں۔ ہم یہاں ماضی میں اسٹیل ملز میں کی جانے والی اقرباء پروریوں اور غفلتوں نااہلیوں پر مٹی ڈال کر آگے کی طرف دیکھتے ہوئے ایک خوبصورت کل کی تلاش میں نکلتے ہیں۔

آج پاکستان میں ایماندار اور ریاست مدینہ کی دعویدار حکومت برسراقتدار ہے۔ وزیراعظم روز اپنے خطابات اور ٹوئیٹ میں نت نئے پیغامات دیتے رہتے ہیں۔ لہذا ہم یہاں وزیراعظم صاحب اور ان کی انتہائی عامل فاضل قابل ٹیم سے مؤدبانہ گزارش کرتے ہیں کہ جناب عالی پاکستان اسٹیل ملز کی نج کاری اور ملازمین کی فراغت سے قبل ایک بار ٹھنڈے دل و دماغ سے دوبارہ غور و فکر کر لیں تاکہ کل کلاں آپ کو شرمندگی نہ ہو۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ابھی چند سال قبل سینیٹر لیفٹنٹ جنرل قیوم صاحب بحیثیت چیئرمین پاکستان اسٹیل ملز کو منافع بخش ادارہ بنانے میں کامیاب رہے ہیں۔ جنرل صاحب ماضی میں اسی طرح پاکستان آرمی کے ایمونیشن کے ادارے واہ فیکٹری کو بحسن خوبی چلا چکے ہیں۔

لہذا ہم یہاں حکومت سے درخواست کریں گے کہ انا اور خود پرستی کو دفن کرتے ہوئے جنرل قیوم صاحب کو کابینہ یا پارلیمنٹ کے اجلاس میں طلب کر کے پاکستان اسٹیل ملز کی بہتری کیلئے تجاویز اور مفید مشورے طلب کئے جائیں تاکہ پاکستان کے اس اہم ادارے کو بچایا جا سکے۔ اور اگر آپ جنرل صاحب سے ان کی سیاسی وابستگی کی وجہ سے کوئی پرخاش رکھتے ہیں تو پاکستان چائنہ کے عظیم منصوبہ “سی پیک” کے زریعہ کسی ایماندار بیوروکریٹ کے زریعہ اسٹیل ملز کو سی پیک میں شامل کر کے بحالی کے منصوبہ کو ازسر نو تشکیل دیا جائے۔ اگر آپ یہ بھی نہیں کر سکتے تو پاکستان اسٹیل ملز بالکل جیسا ہے ایسا کی حالت میں وزارت دفاع کے حوالہ کر کے واہ آرڈیننس فیکٹری کی طرز پر پاک آرمی پاک نیوی اور ائیر فورس کی ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ درآمدات پر توجہ دی جائے۔

یاد رہے کہ پاکستان اسٹیل ملز سوویت یونین اور پاکستان کی دوستی میں آج بھی ایک سنگ میل کا درجہ رکھتا ہے۔ کورونا وائرس اور خطے کی بدلتی سیاسی جغرافیائی صورتحال کے بعد پاکستان اور روس کی قرابت داری مضبوط توانا پاکستان کیلئے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ لہذا جلد بازی میں کئے گئے احمقانہ فیصلے آنے والے دنوں میں پاکستان کیلئے نقصان دہ نہ ہو۔ پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی نہ صرف معاشی طور پر بلکہ دفاعی طور پر بھی ضروری ہے۔ لہذا حکومت پاکستان چائنہ اور روس کے ساتھ مل کر اس عظیم منصوبہ کو ایک نئے ولولہ اور جوش کے ساتھ شروع کر سکتا ہے۔ یاد رہے اگر حکمرانوں نے جلد بازی میں ذاتی دوستوں کو نواز نے کیلئےاسٹیل ملز کو سفید ہاتھی قرار دیتے ہوئے اونے پونے نج کاری کے نام پر فروخت کرنے کی کوشش کی تو نہ قوم معاف کرے گی اور نہ تاریخ اچھے ناموں سے یاد رکھے گی۔