سلطنت برطانیہ اپنی وسعت کے اعتبار سے تاریخ کی سب سے بڑی سلطنت تھی

سلطنت برطانیہ اپنی وسعت کے اعتبار سے تاریخ کی سب سے بڑی سلطنت تھی اور کافی عرصے تک یہ ایک عالمی طاقت رہی۔ 1921ء کو اپنی طاقت اور وسعت کی انتہا پر یہ 33 ملین مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلی ہوئی تھی اور اس کے زیر نگیں 45 کروڑ 80 لاکھ لوگ تھے جو اس وقت کی عالمی آبادی کا ایک چوتھائی بنتے ہیں۔ یہ اتنی وسیع تھی کہ اس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ سلطنت برطانیہ پر کبھی سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ یہ دنیا کے پانچوں آباد براعظموں پر موجود تھی
اس کی شروعات آئرلینڈ میں 1541ء سے ہوئی۔ 1607ء ميں امریکہ میں جیمز ٹاؤن پہلی انگریز آبادی تھی۔ 1707 میں اسکاٹ لینڈ اور انگلستان متحد ہوتے ہیں۔ برطانوی نوآبادیاں شمالی امریکا، جنوبی امریکا، افریقا، آسٹریلیا اور ایشیا میں پھیلتی جاتی ہیں۔ اس دوران ریاست ہاۓ متحدہ امریکہ کی آزادی اور سلطنت برطانیہ سے علیحدگی ایک علاقائی نقصان تو تھا لیکن تجارتی اور معاشی تعلقات بدستور قائم رہے۔
برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی یا برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی یا برطانوی شرق الہند کمپنی جسے انگریزی (British East India Company) کہا جاتا ہے، جزائر شرق الہند میں کاروباری مواقع کی تلاش کے لیے تشکیل دیا گیا ایک تجارتی ادارہ تھا تاہم بعد ازاں اس نے برصغیر میں کاروبار پر نظریں مرکوز کر لیں اور یہاں برطانیہ کے قبضے کی راہ ہموار کی۔ 1857ء کی جنگ آزادی تک ہندوستان میں کمپنی کا راج تھا۔ اس کے بعد ہندوستان براہ راست تاج برطانیہ کے زیر نگیں آ گیا
برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کو 1600ء میں ملکہ الزبتھ اول کے عہد میں ہندوستان سے تجارت کا پروانہ ملا۔ 1613ء میں اس نے سورت کے مقام پر پہلی کوٹھی قائم کی اس زمانے میں اس کی تجارت زیادہ تر جاوا اور سماٹرا وغیرہ سے تھی۔ جہاں سے مصالحہ جات برآمد کرکے یورپ میں بھاری داموں بیچا جاتا تھا۔ 1623ء میں جب ولندیزیوں (ڈچ) نے انگریزوں کو جزائر شرق الہند سے نکال باہر کیا تو ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنی تمام تر توجہ ہندوستان پر مرکوز کر دی۔ 1662ء میں بمبئی بھی اس کے حلقہ اثر میں آ گیا۔ اور کچھ عرصہ بعد شہر ایک اہم تجارتی بندرگاہ بن گیا۔ 1689ء میں کمپنی نے علاقائی تسخیر بھی شروع کردی جس کے باعث بالآخر ہندوستان میں برطانوی طاقت کو سربلندی حاصل ہوئی۔ 1795ء میں جب فرانس نے نیدرلینڈ (ڈچ) فتح کر لیا تو برطانیہ نے ڈچ کولونیوں پر قبضہ کر لیا۔ نیدر لینڈ کے بڑے بینکار (Hope) لندن منتقل ہو گئے اور اس طرح مالیاتی مرکز ایمسٹرڈم سے لندن منتقل ہو گیا۔

1858ء میں یہ کمپنی ختم کردی گئی اور اس کے تمام اختیارات تاج برطانیہ نے اپنے ہاتھ میں لے لیے۔ تاہم 1874ء تک کچھ اختیارات کمپنی کے ہاتھ میں رہے۔
ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی 1602ء میں بنی تھی مگر برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی سے زیادہ بڑی ثابت ہوئی۔ ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی کے پاس 4785 بحری جہاز تھے جبکہ برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے پاس 2690 جہاز تھے۔
انگلش ایسٹ انڈیا کمپنی دنیا کی پہلی لمٹڈ کمپنی تھی۔ اس کے 125 شیئر ہولڈرز تھے اور یہ 72000 پاونڈ کے سرمائے سے شروع کی گئی تھی۔

2010ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی کو ہندوستانی نژاد برطانوی کاروباری شخصیت سنجیو مہتا نے خرید لیا۔
اپنے آغاز کے 275 سال بعد برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کو تحلیل کر دیا گیا اور اس کے سارے اثاثے Lloyds کے حوالے کر دیے گئے جو N.M. Rothschild & Co کا ذیلی ادارہ ہے۔ آج کل ایسی کمپنیاں ملٹی نیشنل کمپنیاں کہلاتی ہیں۔
یورپ میں سونے چاندی کے سکوں کی شدید قلت ہوا کرتی تھی۔ ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی دنیا کی پہلی کمپنی تھی جس نے 1602ء میں کاغذ پر چھاپ کر شیئر (اسٹاک) بیچنا شروع کیےجس سے سونا چاندی یورپ آنے لگا۔ اگرچہ یورپ میں جوائنٹ اسٹاک کمپنیاں کئی صدیوں سے موجود تھیں لیکن ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی کے یہ شیئر (قرضے) دوسروں کو خریدے بیچے جا سکتے تھے۔اس طرح پہلی دفعہ کیپیٹل مارکیٹ کا آغاز ہوا۔ کاغذی دولت تخلیق کرنے کا یہ کاروبار اتنا منافع بخش ثابت ہوا کہ جلد ہی اسے پرتگال، اسپین اور فرانس کی بحری تجارتی کمپنیوں نے اپنا لیا۔ اس کے بعد یہ کاروبار برطانیہ پہنچ گیا۔ آج بھی اسٹاک مارکیٹیں ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔

“جنگ کے بغیر تجارت ناممکن ہے اور تجارت کے بغیر جنگ ناممکن ہے”
‘trade without war is not possible, neither is war without trade
1947ء میں تقسیم ہند کے موقعے پر ونسٹن چرچل کے جانشین Clement Richard Attlee نے ایوان میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمیں اپنے ساتھیوں کے اُن کارناموں پر فخر ہے جو انہوں نے انڈیا میں انجام دیے۔
یہ تو بات لمبی ہو جائے گی, پھر کسی جگہ بتاؤں گا فی الحال جیسا کہ میں نے ذکر کیا ہے کہ آجکل ایسی کمپنیز ملٹی نیشنل کمپنیز کہلاتی ہیں, موجودہ دنیا کے جو حالات ہیں پوری دنیا میں ایک ہی ڈر ہے کرونا, کرونا, کرونا,,,,,,
پاکستانی گورنمنٹ بھی اپنی پوری کوشش کر رہی ہے کہ کرونا وائرس کے مسلے کو سنجیدگی سے لیا جائے لیکن ہم عوام ایک دوسرے سے اس کے متعلق کبھی کچھ سنتے ہیں کبھی کچھ, کسی کی کوئی رائے تو کسی کی کوئی,,,,
سوچنے والی بات یہ ہے کہ ان ملٹی نیشنل کمپنیز کا اس سے کوئی تعلق ہے؟
اگر اس حملے پہ غور کریں “trade with out war is not possible, neither is war with out trade”
پوری دنیا میں رول کون کر رہا ہے اور ہماری سوچ کن کے مطابق چل رہی ہے؟تمام انٹرنیشنل آرگنائزیشنز کس کی ہیں اور پوری دنیا میں کن کے نظریات اور تجزیات کو مانا جاتا ہے؟
آئل کی قیمتوں کا عالمی منڈی میں پہلی بار اتنا گرنا,اس کے علاوہ گولڈ اور کرنسی کا اتنا زیادہ اتار چڑھاؤ, اس وباء کے دوران کوئی تو اشارہ دیتا ہے, وقت بدل گیا ہے طریقہ بدل گیا ہے لیکن کیا انکا مقصد بھی بدلا ہے؟ امید کرتا ہوں آپ بات سمجھ گئے ہوں گے,,,

ان کو تہزیب نے ہر بند سے آزاد کیا
لا کے کعبے سے صنم خانے میں آباد کیا,

رمیض رزاق