۔مجھے خوشی ہے کہ چھوٹے صوبوں کے منتخب وزراء اعلیٰ کی زبان کھل گئی ہے

مجھے وزیراعلیٰ سندھ سے ایک نہیں ہزار اختلافات ہیں ۔۔۔

کل مراد علی شاہ نے بلوچستان کے وزیراعلیٰ جام کمال سے مل کر وزیراعظم عمران خان اور ان کی ٹیم کا نیشنل ایکنامک کونسل کے اجلاس میں انہیں خوار، رسوا کرنے کے ساتھ مکمل طور ناک آئوٹ کردیا، جھوٹے اعداد شمار لیکر آنے

والی پی ایم کی ٹیم کو اندازہ نہیں تھا کہ سندھ اور بلوچستان کے وزراء اعلیٰ اتنی تیاری سے آئیں گے کہ ہمیں منہ کی کھانی پڑیگی ۔۔اجلاس میں جعلی اعداد شمار کے ساتھ پکڑے جانے کے بعد ویڈیو سسٹم کو خاموش کیا گیا تاکہ کسی بھی وزراء اعلیٰ کی آواز وزیراعظم تک نہ پہنچے۔ایجنڈہ پہلے کے بعد پانچ تک میوٹ پر لگاکر ایجنڈہ مکمل کیے گئے ۔مجھے خوشی ہے کہ چھوٹے صوبوں کے


منتخب وزراء اعلیٰ کی زبان کھل گئی ہے وہ اپنے اہنے صوبوں کی اب درست نمائندگی کرنے لگے ہیں۔میں امید کرتا ہوں کہ وفاقی حکومت پر جارحانہ انداز میں چڑہ کر بولنے والے دونوں وزراء کی اپنی حکومت میں گورننس کے اشوز بہتر ہونگے خاص طور پر کرپشن کا جو ناسور بڑہ گیا ہے اس کا علاج ہونا بہت ضروری ہے۔۔وزیراعظم پاکستان اور ان کی ٹیم جس طرح فیڈرل

ترقیاتی منصوبوں میں سندھ اور بلوچستان کو نظر انداز کررہی ہے انہیں سوچنا چاہیے کہ وہ پاکستان کے منتخب وزیراعظم ہیں کسی دو صوبوں کا نہیں ۔مدینہ ریاست کی بات کرنا آسان ہے، اس طرح کا انصاف قائم کرنا بھی بہت ضروری ہے۔۔
Mansoor-Mugheri-sr-journalist- and -analyst