یوسف رضا گیلانی کو 12 کروڑ ہرجانے کا نوٹس

امریکی خاتون سنتھیا ڈی رچی نے سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی کو 12 کروڑ روپے ہرجانے کا لیگل نوٹس بھیج دیا۔

سنتھیا ڈی رچی نے ناصر عظیم خان ایڈووکیٹ کے ذریعے لیگل نوٹس بھجوایا ہے۔

سنتھیا رچی کی جانب سے بھجوائے گئے لیگل نوٹس میں کہا گیا ہے کہ یوسف رضا گیلانی نے مجھے ہراساں کیا اور اب جھوٹے الزامات سے ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

نوٹس میں کہا گیا ہے کہ یوسف رضا گیلانی نے ‎2011ء میں رحمٰن ملک کے ساتھ مل کر ہراساں کیا، اب سوشل میڈیا پر پیپلز پارٹی کے میڈیا سیل کے ذریعے ہراساں کیا جا رہا ہے۔
لمحہ با لمحہقومی خبریںبین الاقوامی خبریںتجارتی خبریںکھیلوں کی خبریںانٹرٹینمنٹصحتدلچسپ و عجیبخاص رپورٹ
Pause
Unmute
Current Time
0:11
/
Duration
0:44

Fullscreen

امریکی خاتون سنتھیا ڈی رچی نے سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی کو 12 کروڑ روپے ہرجانے کا لیگل نوٹس بھیج دیا۔

سنتھیا ڈی رچی نے ناصر عظیم خان ایڈووکیٹ کے ذریعے لیگل نوٹس بھجوایا ہے۔

سنتھیا رچی کی جانب سے بھجوائے گئے لیگل نوٹس میں کہا گیا ہے کہ یوسف رضا گیلانی نے مجھے ہراساں کیا اور اب جھوٹے الزامات سے ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

نوٹس میں کہا گیا ہے کہ یوسف رضا گیلانی نے ‎2011ء میں رحمٰن ملک کے ساتھ مل کر ہراساں کیا، اب سوشل میڈیا پر پیپلز پارٹی کے میڈیا سیل کے ذریعے ہراساں کیا جا رہا ہے۔

الزامات پر قائم ہوں، ثابت کرنے ہر حد تک جاؤنگی، سنتھیارچی

سنتھیا ڈی رچی نے اپنے لیگل نوٹس کے ذریعے مطالبہ کیا ہے کہ یوسف رضا گیلانی اپنے الزامات پر معافی مانگیں اور 12 کروڑ روپے ہرجانہ ادا کریں۔

لیگل نوٹس میں امریکی خاتون سنتھیا ڈی رچی کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ مجھے قومی اور بین الاقوامی سطح پر بدنام کیا گیا ہے۔

سنتھیا ڈی رچی نے اپنے لیگل نوٹس کے ذریعے یہ بھی کہا ہے کہ 14 دن میں اپنے الزامات پر معافی نہ مانگی گئی تو قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔

سنتھیا ڈی رچی کے وکیل ناصر عظیم خان ایڈووکیٹ نے اس حوالے سے میڈیا کو بتایا ہے کہ اپنی مؤکل کی اجازت سے یوسف رضا گیلانی کو لیگل نوٹس بھجوا دیا ہے۔

واضح رہے کہ بلاگر، سوشل میڈیا ایکٹویسٹ اور فلم میکر کہلانے والی امریکی شہری سنتھیارچی آج کل پاکستانی سوشل میڈیا پر تنازعات کی زد میں ہیں اور ان کے ٹویٹ اور ویڈیوز کا ہدف پیپلز پارٹی اور اُس کی اعلیٰ قیادت ہے

Courtesy jang news