اسلام آباد ہائی کورٹ نے چینی انکوائری کمیشن کو کارروائی سے روک دیا

اسلام آبادہائی کورٹ میں شوگرانکوائری کمیشن کے خلاف شوگرملزایسوسی ایشن کی درخواست پرسماعت ہوئی، اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سماعت کی۔

ایگزیکٹو کے اختیارات سے متعلق شوگر ملز کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل میں کہا آئین میں وفاق اور صوبوں کے اختیارات کا الگ الگ ذکر موجود ہے، انکوائری کمیشن نےفرانزک آڈٹ کے لیے وفاقی حکومت کولکھا، جیسی کمیٹی نےتجویز دی تھی ویسے ہی وہ کمیشن بن گیاچیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کمیشن نےپھر کیاکہا ؟چینی کی قیمت کیوں بڑھی، جس پر مخدوم علی خان نے کہا کمیشن نے 324 صفحات میں بہت زیادہ وجوہات بیان کیں۔

چیف جسٹس ہائی کورٹ نے پھر استفسار کیا کمیشن نےکیابتایاصارف کے لیے چینی کی قیمت کیوں بڑھی؟ جتنی پروڈکشن ہوتی ہے اس میں عوام کے لیے کتنا ہوتا ہے، چینی عوام کی ضرورت ہے حکومت کو اس حوالے اقدامات کرنےچاہییں، عام آدمی کابنیادی حق ہے30 فیصدچینی عام آدمی کےلیے ہوتی ہے۔

سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ عوام اورکمرشل استعمال کی چینی کی قیمت کمیشن نےالگ نہیں کی، جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کمیشن نے عوام کو چینی کی دستیابی پرکچھ نہیں کیاتوپھر کیا کیا؟ حکومت کا کنسرن کمرشل ایریا نہیں عوام ہونےچاہییں۔

مخدوم علی خان نے بتایا کمیشن نے عام عوام تک چینی کی دستیابی کے حوالے سے کچھ نہیں کہا، جس پر چیف جسٹس نے مخدوم علی خان سے استفسار کیا دو سال پہلے چینی کی قیمت کیا تھی تو وکیل نے بتایا نومبر 2018 میں چینی کی قیمت 53 روہے تھی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس میں کہا دو سال میں 85 روپے ہو گئی، چینی غریب کی ضرورت ہے وہ فیصلوں سےکیوں متاثرہورہاہے،؟ جس پر مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ کمیشن نے اپنے ٹی او آر سے باہر جاکر کاروائی کی تو چیف جسٹس نے مزید کہا کمیشن نےعام آدمی کی سہولت کےلیے کوئی فائنڈنگ نہیں دی۔

مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ معاون خصوصی اوردیگر وزرا سےہمارا میڈیاٹرائل کیاجارہاہے، گزشتہ رات معاون خصوصی نےپٹیشن کے باوجود پریس کانفرنس کی۔

چیف جسٹس نے کہا نوٹس کرکےپوچھ لیتے ہیں لیکن اس وقت تک 70 روپےفی کلوبیچیں، شرط منظور ہےتو آئندہ سماعت تک حکومت کوکاروائی سے روک دیتے ہیں، عدالت عمومی طورپر ایگزیکٹو کےمعاملات میں مداخلت نہیں کرتی، چینی مزدورکی ضرورت ہےاوروہ کولڈڈرنک پرسبسڈی دےرہےہیں، عام آدمی کو بنیادی حقوق کیوں نہیں دے رہے۔

اسلام آبادہائی کورٹ نےمشروط حکم امتناع جاری کردیا اور چینی انکوائری کمیشن کو10دن کےلیےکارروائی سےروک دیا جبکہ آئندہ سماعت تک ملک میں چینی 70 روپے فی کلوبیچنے کا حکم بھی دیا۔

اسلام آبادہائی کورٹ نے وفاق سے10دن میں جواب طلب کرتے ہوئے حکم دیا کہ وفاق آئندہ سماعت سے پہلے جواب جمع کرائے جبکہ واجد ضیا اور شہزاد اکبر سمیت سیکرٹری داخلہ اور انکوائری کمیشن کے ارکان کو بھی نوٹس جاری کردیئے۔

Courtesy Ary News