کویت میں پاکستانی ڈاکٹرز کا فرنٹ لائن محاذ پر ذمہ داریاں جاری رکھنے کا عزم

کویت میں پاکستانی ڈاکٹرز کا فرنٹ لائن محاذ پر ذمہ داریاں جاری رکھنے کا عزم
سوسائٹی پاکستانی ڈاکٹرز ان کویت (SPDK)’ صدر جناب شجاع الدین کا اپنی ٹیم کے ساتھ فرنٹ لائن محاذ پر ذمہ داریاں جاری رکھنے کا عزم
(سروے رپورٹ – طارق اقبال )
کویت: پاکستانی ڈاکٹرز اور دیگر کارکنان تمام کویت کے تمام علاقے میں فرنٹ لائن پر بہادری سے ان کا ساتھ دے رہے ہیں اور اس قاتل وائرس کو شکست دینے کے لیے انتہائی پرعزم ہیں۔ کورونا وائرس کے خلاف جنگ کے محاذ پر صحت کے شعبے میں عملہ بھی کندھے سے کندھا ملائے کھڑا ہے۔
ڈاکٹرشجاع الدین نے کہا کہ ہمارا یہ عہد ہے کہ دوسروں کی زندگی کی حفاظت کے لیے اپنی زندگی خطرے میں ڈالیں۔ کام کے وقت صحت کی دیکھ بھال کرنے والوں کو دی گئی ہدایات یا مقامی پروٹوکول کے ذریعہ جاری کردہ صحت مشوروں پر عمل کرنا انتہائی ضروری ہے۔ کورونا وائرس کے بحران کے دوران کام کرنا ایک مختلف تجربہ ہے جس کے لیے جسمانی تندرستی اہم ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ’شعبہ صحت سے منسلک ہونے کی وجہ سے کورونا وائرس سے بچاؤ کے بنیادی اصولووں پر عمل کرتا ہوں جن میں چہرے کا حفاظتی ماسک، دستانے اور مجموعی طور پر حفظان صحت کو یقینی بنانا اس کے ساتھ ساتھ مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیےغذائیت سے بھرپور خوراک کا استعمال۔‘انہوں نے بتایا کہ اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے شعبہ صحت سے متعلق تمام کارکن دوسروں کی حفاظت کے لیے ہر قسم کی پرواہ کیے بغیر اپنی جان کو خطرے میں ڈالے ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر جہان زیب عثمان نے کہا کہ ہم ڈیوٹی کے بعد گھر لوٹتے ہیں تو ذاتی حفظان صحت کے اقدامات پر عمل کرتے ہیں جیسے جوتے اور دیگر سامان گھر سے باہر رکھنا، استعمال شدہ کپڑوں کو محفوظ جگہ پر اتارنا، گرم پانی سے دھونا اور تمام حفاظتی اقدامات پر عمل کرنا۔
ڈاکٹر جہان زیب عثمان نے مزید کہا کہ ڈاکٹر اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر مریضوں اور تمام کمیونٹی کے افراد کی دیکھ بھال میں لگے ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر ظفر شیخ نے کہا کہ ’ہم سب کو معاشرتی فاصلہ برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن حد تک کوشش کے ساتھ غیر ضروری طور پر گھر سے باہر جانے سے گریز کرنا ہوگا تاکہ ہم کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں فاتح ہوسکیں۔ ’ہمیں اور دیگر صحت کارکنوں کو اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے چہرے پر لگاتار ماسک لگانا انتہائی مشکل عمل ہے جو بے چین کر دیتا ہے اور اسی حالت میں گھنٹوں گزارنا پڑتے ہیں۔‘
ڈاکٹر گل حسن کہا کہ ‘شعبہ صحت کے کارکن اچھی طرح سے سمجھتے ہیں کہ یہ تکلیف دہ لمحات عام زندگی سے بالکل مختلف ہیں، انہیں اپنی پیشہ ورانہ اور ذاتی زندگی میں غیر معمولی تجربات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، گھریلو زندگی پر اس کے اثرات واضح ہیں اور دیگر چیلنجوں کا بھی سامنا ہے۔‘
اکثرایسی حالت میں سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے اور ڈیوٹی کے بعد جب گھر جاتے ہیں تو اپنے آپ کو اہل خانہ سے الگ تھلگ رکھتے ہیں تاکہ کوئی انفیکشن نہ پھیل سکے۔