پیٹرول بحران: آخر سستا تیل کہاں غائب ہو گیا؟

پیٹرول بحران: آخر سستا تیل کہاں غائب ہو گیا؟ – عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے پاکستان میں بھی مئی اور جون میں قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا گیا – حکومت آج قیمت میں تبدیلی کر دے تو مارکیٹ میں پیٹرول دستیاب ہو جائے گا۔ ( طارق اقبال )


کویت: تازہ ترین – اس وقت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت خسارے میں ہو رہی ہے۔ اوگرا کے ترجمان عمران غزنوی نے کہا کہ آئل کمپنیاں 70 سال سے اس ملک سے منافع کما رہی ہیں۔ موجودہ صورت حال میں حکومت نے اگر کوئی فیصلہ کیا ہے تو انہیں اس پر عمل کرنا چاہیے۔’حکومت تو بلیک میل ہونے سے انکار کر رہی ہے حقیقی مسائل حل کرنے کو تیار ہے۔’
انہں نے مزید کہا کہ اصل مسئلہ تیل کے ذخیرے میں کمی نہیں بلکہ قیمتوں کا تعین ہے۔ حکومت آج قیمت میں تبدیلی کر دے تو مارکیٹ میں پیٹرول دستیاب ہو جائے گا۔ ملک میں جاری پیٹرول کی قلت کو دیکھیں تو کچھ زیادہ پرانی بات نہیں جب خبریں آ رہی تھیں کہ لاک ڈاؤن کے باعث پٹرولیم مصنوعات کے استعمال میں کمی سے قمیتوں میں بھی خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔
امریکی آئل مارکیٹ میں تو تیل کی قیمت میں تاریخی کمی ہوئی تھی۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے پاکستان میں بھی مئی اور جون میں قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا گیا۔
وزیراعظم نے تو ٹویٹ کر کے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پاکستان جنوبی ایشیا میں سب سے کم قیمت پر پیٹرولیم مصنوعات عوام کو فراہم کرنے والا ملک ہے۔
ان کی ٹویٹ کے اگلے ہی دن ملک میں پیٹرول کے بحران نے سر اٹھایا اور یہ بحران دیکھتے ہی دیکھتے نہ صرف پورے ملک میں پھیل گیا بلکہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔
اب اس معاملے پر وزیراعظم اور کابینہ نے نوٹس لیا ہے اور انکوائری ہو رہی ہے۔
وزارت پیٹرولیم آئل مارکیٹنگ کمپنیوں جبکہ یہ کمپنیاں حکومت کو موجودہ صورت حال کا ذمہ ٹھہراتی ہیں۔ اوگرا کا موقف تھا کہ ہائیڈروکاربن انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق آئل ریفائنریز کے پاس سٹاک موجود نہیں ہے۔
پیٹرول پمپس کو مناسب وقت پر پیٹرول مصنوعات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ کسی بھی ناخوشگوار صورت حال سے بچنے کے لیے ملک میں تیل کا معقول ذخیرہ برقرار رکھا جائے۔
صورت حال سے نمٹنے کے لیے تین جون کو اوگرا نے چاروں چیف سیکرٹریز کو تیل کی فراہمی کے حوالے سے خط لکھ کر کہا کہ ڈی سی اوز تیل فراہم نہ کرنے والے پیٹرول پمپس کی تفصیلات اوگرا کو فراہم کریں۔
تین جون کو سرکاری دستاویز کے مطابق ملک میں پیٹرول کا سات دن اور ڈیزل کا پانچ دن کا ذخیرہ موجود تھا لیکن پیٹرول پمپس پر عوام کی لمبی قطاروں کو دیکھتے ہوئے 8 جون کو وزیر توانائی نے ڈی جی آئل کی سربراہی میں تیل کی ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی۔
اس ساری صورت حال کے حوالے سے ملک میں تیل و گیس کے شعبے کو ریگولیٹ کرنے والے ادارے اوگرا کا مؤقف یہ ہے کہ جب حکومت نے تیل کی درآمد پر پابندی ختم کی اور سب کمپنیوں نے آرڈرز دے دیے۔
اس دوران پاکستان نے ملک میں نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا تاہم بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں اضافہ ہو چکا تھا۔
ترجمان اوگرا عمران غزنوی کے مطابق کمپنیوں نے اس خسارے سے بچنے کے لیے تیل کی قلت کا شور ڈلوایا جس سے لوگوں نے گھبراہٹ میں زیادہ خریداری کی اور حقیقت میں سٹاک ختم کر دیا کیونکہ ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں تیل پہنچانے کے لیے پانچ دن درکار ہوتے ہیں۔
ان کے بقول ‘دو بڑی کمپنیوں نے اپنے کارگو جان بوجھ کر مس کیے جس کی وجہ سے پی ایس او پر سو فیصد بوجھ میں اضافہ ہوا۔’
انھوں نے کہا کہ اس صورت حال میں اوگرا نے چھ کمپنیوں کو شوکاز نوٹس جاری کیے جن پر کارروائی مکمل ہو چکی ہے۔ ایک دو دن میں فیصلہ بھی آ جائے گا۔
ترجمان کے مطابق منگل کی رات کراچی میں ایک ڈپو پر چھاپہ مارا گیا جہاں پر تیل جان بوجھ کر روکا گیا تھا اور سپلائی نہیں کی جا رہی تھی۔ ملوث کمپنی کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی جائے گی۔
ترجمان نے دعویٰ کیا کہ اوگرا کی کارروائیوں کے نتیجے میں سپلائی بحال ہو رہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ملک بھر کے ڈپوز پر جا کر سٹاک کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔