امریکی خاتون سنتھیا رچی ایکسپائر ویزہ پر پاکستان میں موجود-ماضی میں انہیں تمام پروٹوکول نظرانداز کر کے کئی مرتبہ ویزہ جاری کیے جانے کا انکشاف

امریکی خاتون سنتھیا رچی ایکسپائر ویزہ پر پاکستان میں موجود، ویزے کی مدت ختم ہونے کے بعد انہیں جنرل ایکسٹنشن دی گئی، ماضی میں انہیں تمام پروٹوکول نظرانداز کر کے کئی مرتبہ ویزہ جاری کیے جانے کا انکشاف۔ تفصیلات کے مطابق پیپلز پارٹی رہنماوں پر ریپ اور جنسی ہراسگی کے الزامات عائد کرنے والی امریکی خاتون صحافی سنتھیا رچی کے حوالے سے تہلکہ خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔


بتایا گیا ہے کہ سنتھیا رچی اس وقت ایکسپائر ویزہ پر پاکستان میں موجود ہیں، ملک میں قیام کیلئے انہیں ویزے میں جنرل ایکسٹنشن ملی ہے۔ مزید بتایا گیا ہے کہ سنتھیا رچی 2009 میں پہلی مرتبہ پاکستان آئی تھیں، اس کے بعد سے وہ کئی مرتبہ پاکستان آ چکیں۔

2009 میں اس وقت امریکا میں تعینات پاکستان کے سفیر حسین حقانی نے سنتھیا رچی کو ویزہ جاری کیا تھا، جس کے بعد وہ 3 روز کیلئے پاکستان آئی تھیں۔

اس کے بعد سنتھیا رچی کو پروٹوکول نظر انداز کر کے کئی مرتبہ پاکستان کا ویزہ جاری کیا گیا۔ پاکستان آمد کیلئے سنتھیا کو مختلف قسم کے ویزے جاری کیے جاتے رہے۔ سنتھیا رچی سیاحتی ویزے پر بھی پاکستان آتی رہی ہیں۔ ان تمام باتوں کا معروف اینکر ارشد شریف کی جانب سے انکشاف کیا گیا ہے۔ دوسری جانب سنتھیا رچی کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی انہیں پاکستان سے ڈی پورٹ کروانا چاہتی ہے اس لیے انہوں نے خود حکومت کو کہا ہے انہیں ای سی ایل میں ڈال دیا جائے۔
امریکی بلاگر نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی چاہتی ہے کہ مجھے پاکستان سے بھیج دیا جائے اور اس مقصد کے لیے پیپلزپارٹی اندرونے خانہ یہ کوشش کررہی ہے کہ مجھے پاکستان سے نکال دیا جائے۔ سنتھیا رچی نے کہا ہے کہ میری خواہش ہے کہ میں پاکستان میں رہوں اور پیپلزپارٹی کے عجیب وغریب پراپیگنڈہ کا مقابلہ کروں اورجو میں نے الزامات لگائے ہیں اورثابت کروں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ان کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا جائے اورانہیں پاکستان سے باہرنہ نکالا جائے۔ یہاں یہ واضح رہے کہ سنتھیا رچی نے کچھ روز قبل الزام عائد کیا تھا کہ انہیں 2011 میں اس وقت کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ جبکہ سنتھیا نے یوسف رضا گیلانی اور مخدوم شہاب الدین پر ہراسگی کا الزام بھی عائد کیا۔