نئےSOPs کے ساتھ کھیلنا پلیئرز کے لیے مشکل ہوگا، یونس خان

سابق کپتان قومی کرکٹ ٹیم یونس خان کا کہنا ہے کہ نئے ایس او پیز کے ساتھ کھیلنا پلیئرز کے لیے مشکل ہوگا۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان یونس خان نے کہا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد مزید سیکھا کہ مجھے عاجزی کا مظاہرہ کیسے کرنا ہے، کچھ چیزیں پلیئرز کی عادت ہیں اس کو بدلنا بہت مشکل ہوگا، بطور اسپورٹ اسٹاف ہماری ذمہ داری بھی اہم ہوگی۔

یونس خان نے کہا کہ انگلینڈ سے سیریز ہمیشہ مشکل ہوتی ہے، میں یہ نہیں کہوں گا کہ میرے پاس ٹائم نہیں اس لیے میں کچھ نہیں کرسکتا، اگر کوئی کام کرنا چاہے تو ایک دن میں بھی کرسکتا ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ مشکل صرف یہ ہے کہ ہمیں دوریاں برقرار رکھنی ہیں اور ایس او پیز پرعمل کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صرف بیٹنگ ہی نہیں، اپنی زندگی کے تجربات سے بھی پلیئرز کو مستفید کروں گا، میں نے اور مصباح نے فاتحانہ انداز میں ایک ساتھ کرکٹ چھوڑی تھی۔ جس انداز میں ہم نےکرکٹ چھوڑی، کوچنگ کی شراکت اس انداز میں ہی شرو ع کرنا چاہتے ہیں۔

یونس خان نے کہا کہ ماضی میں جو کچھ ہوا اس کو بھول کر آگے بڑھنا چاہیے، اگرمیں ماضی میں ہی رہتا تو آج پاکستان ٹیم کو جوائن نہیں کررہا ہوتا، کوشش کروں گا کہ پلیئرز کو ڈبل مائنڈ نہ کروں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جو مصباح نے اب تک بیٹنگ سکھائی ہے اس میں مداخلت نہیں کروں۔

سابق کپتان یونس خان کا کہنا ہے کہ میرےلیے ہیڈ کوچ بننا جلدبازی ہوگا، فرنچائز یا ڈومیسٹک کرکٹ اور انٹرنیشنل کرکٹ میں فرق ہے۔

انہوں نے کہا کہ اظہر علی اور اسد شفیق کی پرفارمر ہیں جبکہ بابر اعظم نے دکھا دیا کہ کیسے پرفارمر بنا جاسکتا ہے، بابر اس وقت پاکستان کے ٹاپ پلیئر بن چکے ہیں۔