سندھ غلام ہے نہ کالونی ۔ وزیر اعلی سندھ

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ وفاق آئندہ سالانہ ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں سندھ کے منصوبے بھی شامل کرے۔ انھوں نے کہا کہ نیشنل اکنامک کونسل کی میٹنگ آرٹیکل 156 تحت ہوتی ہے، نیشنل اکنامک کونسل ایک آئینی ادارہ ہے اور سال میں دو بار اس کے اجلاس کا آئین میں لکھا ہوا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ بجٹ سے 2 دن پہلے اجلاس بلانے کا کیا فائدہ؟ کراچی میں سندھ اسمبلی کے آڈیٹوریم ہال میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کل شام کو اسلام آباد جانا تھا، نثار کھڑو صاحب میر ے ساتھ تھے

تو ایئرپورٹ پر پہنچتے ہی فون آیا کہ صوبائی وزراء وڈیو لنک کے ذریعے شریک ہونگے۔ مجھے سختی سے منع کیا گیا کہ آپ نہیں آئیں،اگر اسلام آباد میں آئے بھی تو وڈیو لنک پر شریک ہوں گے جس پر میں نے کہا کہ مجھے وزیراعظم صاحب سے ملنا بھی ہے۔ میں نے وزیر اعظم عمران خان کو اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ میری اس طرح کی ہدایات نہیں تھیں، جو لوگ وزیراعظم کو گائیڈ کرتے ہیں ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ آئینی اجلاس میں ایسا نہیں کرسکتے ۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ اگر کابینہ اجلاس میں 40 سے 50 لوگ شریک ہوسکتے ہیں تو قومی اقتصادی کونسل میں 13 لوگ کیوں نہیں؟ نیشنل اکنامک کونسل کی میٹنگ صرف 13لوگوں کی ہوتی ہے۔انھوں نے بتایا کہ این ای سی میٹنگ سال میں فروری اور مارچ میں ہونی چاہیے جوکہ وزیراعظم کا مشکور ہوں کہ انہوں نے یقین دلایا ہے کہ اقتصادی کونسل کی میٹنگ جلد ہوگی۔ انھوں نے بتایا کہ آفیشل ممبرز صرف 13 تھے آج کی میٹنگ میں پھر آنے دیا گیا جس میں 6 ایجنڈہ آئٹم تھے ۔ انھوں نے کہا کہ این ای سی آئینی باڈی ہے جس میں معاشی اور ترقیاتی بجٹ پر تجاویز دی جاتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بجٹ سے دو دن پہلے میٹنگ بلاکر مذاق بنایا گیا اب تو بجٹ تیار ہے، وزیراعظم سے شکایت کی انھوں نے وعدہ کیا کہ اگلی بار میٹنگ جلد بلائیں گے ، وزیراعظم کا شکرگذار ہوں وہ بات مان گئے۔ انھوں نے کہا کہ سالانہ پلان کا مقصد ہوتا ہے کہ خرچوں کے حساب سے صوبے اور وفاق اپنا بجٹ بناسکیں، پچھلے سال مئی میں میٹنگ ہوئی تو بتایا گیا کہ مشکلات میں تھے۔ حکومتی اعداد و شماراور عالمی اداروں کے اعداد و شمار میں فرق ہے۔ نان ٹیکس روینی زیادہ ہوتا ہے ایف بی آر کی 9 ماہ کی رپورٹ میں فرق ہے، 5.5 ٹریلین کا ٹارگیٹ تھا جو پورا نہیں ہوا، 19-2018 میں ٹیکس وصولی کم ہوئی تھی یہ دوسری بار ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ کورونا وائرس تو مارچ تک نہیں تھا اب انکو بہانہ مل گیا ہے کہ ٹارگیٹ پہلے سے پورے نہیں ہوئے تھے اب کورونا پرڈالا جائے گا۔

سالانہ پلان: قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سالانہ منصوبے میں بتایا جاتا ہے کہ زراعت اور صنعت اور دیگر شعبے کس رفتار سے آگے بڑھیں گے اس لیے صوبے اپنے خرچے اسی حساب سے کریں۔ ایجنڈا نمبر ایک آیا تو ہمیں بتایا گیا کہ 20-2019 کا ہدف 4 فیصد تھا۔ اور 2018-19 کا ٹارگٹ 6.2 فیصد تھا بعد میں پتہ چلا کہ 2018-19 کی گروتھ 1.9 فیصد ہے ہم نے کہا کہ آپ کے غلط اعدادو شمار سے نقصان ہیں ہوتا ہے، کیوں کہ ہم نے بجٹ بنانا ہوتا ہے۔انھوں نے کہا کہ ورلڈ بینک کی رپورٹ ے کہ مائنس 2 فیصد ہوگی تو ہماری درخواست ہے کہ کہانی درست بتائی جائے۔ ہم نے بتایا کہ ہمارے اعتراضات نوٹ کرلیں، ہمیں آپ کے نمبرز پر بھروسہ نہیں۔ آئندہ سال کے لیے بتایا گیا کہ ہماری گروتھ 2.8فیصد ہوگی جبکہ ورلڈ بنک بتا رہا ہے کہ مائنس ہوگی۔ انھوں نے بتایا کہ وفاق جو بھی اعداد و شمار بنائے گا تو ہمارے ٹیکس کے نمبرز غلط ہونگے اور رواں سال روینیو ٹیکس کلیشن ہمارا 31 فیصد زیادہ ہے، نان ٹیکس روینیو زیادہ ہے۔ مراد علی شاہ نے بتایا کہ کیبنٹ ڈویزن نے 20 پراجیکٹ سندھ کے رکھے ہیں جس پر شکرگذار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مجھے کہا گیا کہ اگر آپ کو اعتراض نہیں تو ہم کچھ منصوبے لے لیں جس پر میں نے کہا کہ آپ سندھ کو اسلام آباد نہ سمجھیں، سندھ کو اسلام آباد کی کالونی نہ سمجھا جائے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 2018-19 میں گروتھ 1.9 تھی بتایا گیا 4.3 کا ہدف رکھا گیا تھا ، غلط اعداد و شمار سے بجٹ بنانا مسئلہ بن جائے گا اس کا نقصان صوبوں اور وفاق دونوں کو یکساں ہگا۔ ساؤتھ ایشیا میں گروتھ ریٹ مائنس 2.4 فیصد کا تذکرہ کیا گیا ہے، پچھلے سال ایک بڑا مسئلہ ہوا کہ گروتھ 3.3 بتائی گئی مگر 1.9 فیصد ہوئی جس پر ہم نے تحفظات رکھے کہ ہمیں اس پر بھروسہ نہیں، اگلے سال کیلئے کہا گیا گروتھ 2.1 فیصد پلس مگر ورلڈ بنک کی اسٹڈی بتاتی ے مائنس 2.1 فیصد ہے۔ اس سے ٹیکس کے نمبر غلط اور کام کرنا مشکل ہوجاتا ہے، ٹیکس وصولی مجموعی طور پر 33.9 فیصد زیادہ ہے بتایا گیا کہ 9 ماہ میں 13 فیصد اضافہ ہوا اس وقت تک 3.526 ٹریلین تھا، روائیزڈ نمبر کلیکشن سے قبل 535 ارب اور بعد میں بتایا گیا 606 ارب ملیں گے۔ انھوں نے کہا کہ 2018-19 پہلی بار ٹیکس وصولی کم ہوئی مگر اس بار یہ دوسری دفعہ کم وصولی ہوگی۔
پی ایس ڈی پی: پی ایس ڈی پی پر ہم نے کل اجلاس کیا تھا آج اس پلان کو تبدیل کیا ہے، ہم نے ان زیادتیوں پر خط لکھے آج گیارہ بجے نیا پلان ملا ہے، اس میں متعدد نئی اسکیمیں شامل گئیں مگر کئی غلطیاں بھی کی ہیں،نجانے کون یہ ڈاکومنٹ بناتا ہےجس کا جو کام ہوتا ہے وہ ادارہ کرتا ہے جیسے گیس کا کام گیس بجلی کا کام بجلی کا محکمہ کرتا ہے لیکن سندھ کیلئے ایس آئی ڈی سی ایل کمپنی بنادی گئی، کیا پنجاب اور کے پی کے کیلئے کوئی ڈی سی ایل بنائی گئی، اس کمپنی سے جو کام کرائے جارہے ہیں وہ غلط ہے ،سندھ کوئی کالونی نہیں اسے کالونی نہیں سمجھا جائےاگر کرپشن کا شک ہے تو آپ نیب چلے جائیں، 2017 کا منظور شدہ گرین لائین منصوبہ 24.6 5ارب کا بنایا گیا ،کہا گیا اس اسکیم پر 21.2 ارب خرچ کیئے گئے باقی بچ گئے جسے اس پر خرچ کرنا تھا ،پچھلے سال 21.2 ارب خرچ بتایا گیا اب بتایا گیا 19.6 ارب خرچ کیئے گئے۔ انھوں نے بتایا کہ 31 فیصد زیادہ ٹیکس ہے،نو ماہ میں 13 فیصد سے زیادہ اضافی ہوا تھا۔ اس وقت 3ہزار 526 ارب روپے جمع کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاق نے ہمیں 836 ارب دینا ہے،روائز میں کہا کہ 6 سو ارب ارب دیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ہر صوبے کو پیسے دئیے جاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ صرف سندھ کے لیے ایس آئی ڈی سی کمپنی بنا دی گئی تو انھوں نے کہا کہ یہ پچھلی حکومت نے بنائی تھی جس پر میں نے کہا کہ اسکی بھی کہانی ہے کہ گزشتہ حکومت نے کراچی میں کام کرانا تھا تو اس وقت کے وزیر اعظم نے کراچی کو گرین لائن کا تحفہ دیا جس کیلئے ایس آئی ڈی پی بنائی گئی۔ انھوں نے کہا کہ جب میں نے کہا کام ناقص ہورہا ہے تو مجھے کہا گیا کہ نیب چلے جائیں ، نیب تو خود نوٹس لے لیتا ہے ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے گرین لائین بس ٹرانزٹ سسٹم منصوبہ سے متعلق بتایا کہ گرین لائن بس ٹرانزٹ سسٹم 24.6 ارب روپے کی لاگت ہے۔ اس اسکیم پر 21.2 ارب روپے خرچ ہوئے ہیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ جو اسکیم بجٹ میں موجود نہیں تھی اس پر ساڑھے تین ماہ میں ایک ارب خرچ بھی ہوگئے، کہانیب میں چلے جاؤ ہم نیب میں بھی جائیں ہوگا کچھ نہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ایک اور پرانی اسکیم جام چاکرو کا روڈ وہ بھی پچھلی حکومت نے بنایا۔ اعتراض کیئے یہ روڈ بنانا آپ کا کام نہیں، اس اسکیم پر ۔ 164 ملین سے 192 ملین خرچ ہوبھی ہوگئے۔ صوبائی حکومت کوتو لوپ میں نہیں لیا جاتا۔ انھوں نے ایک اور منصوبے نشتر روڈ اور منگھوپیر روڈ کی اسکیم پر بھی بتایا کہ یہ بھی وفاقی حکومت کا منصوبہ تھا جس کیلئے پچھلی حکومت نے پورے پیسے رکھے تھے اس پر 119 ملین خرچ بھی ہوگئے ،2 ماہ میں کہیں ایک ارب 2ارب خرچ کرلئیے جاتے ہیں؟ روڈ کھودا ہوا ہے مگر کام سست چل رہا ہے۔ اور اسکیم سے متعلق انھوں نے بتایا کہ 1.876 ملین کی اسکیم جس میں فائر برگیڈ کا کام ہونا تھا اس پر خرچ 313 ملین کیئے گئے۔ انھوں نے بتایا کہ میونسپل کمشنر سے فون کرکے پوچھا کہ آپ شور مچاتے ہیں بتائیں کتنے مشین آئی مگر پتا چلا ایک پہیہ بھی نہیں ملا۔ انھوں نے بتا یا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق کسی ایم پی اے کو اسکیمزنہیں دی جاسکتی، ہماری اسکیمزکوردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ 10 سے 12اسکیمیں 24 گھنٹوں میں شامل کی گئی، ترقیاتی اسکیموں کا صوبائی حکومت کو کچھ نہیں بتایا جارہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم سے شکوہ کرتے ہوئے بتایا کہ انکی ہدایات پر اب ہم محلے کی نالیاں بنائیں گے ؟ انھیں چاہیے کہ ہمیں کوئی بڑی اسکیم دیں ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ کے بی فیڈرل کی اسکیم 19-2018 میں ڈالی تھی وہ اس سال نکال دی گئی ہے، منچھر کے لیے نئی اسکیم دی تھی وہ بھی نکال دی، ہماری سات اسکیمیں تھیں ایک بھی نہیں ڈالی۔ میری آواز بند کر یا گیا اورمجھے گہا گیا کہ آپ درمیان میں نہیں بول سکتے ہیں، اس لیے آواز بند کی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اللہ کرے میٹنگ کے منٹس تبدیل نہ ہوں، وزیراعظم میٹنگ سے اٹھ کرچلے جاتے ہیں ،بس کہا جاتا ہے اپرووڈ اوروزیراعظم چل پڑتے ہیں۔
سینئر رہنما و پی پی پی صدر نثار کھڑو نے اپنے خطاب میں کہا کہ پہلے این سی سی کا اجلاس 8 تاریخ کو رکھا گیا مگر پھر اسے تبدیل کردیا گیا، وفاق کی اسکیمیں کچھ وفاق اور کچھ ہر صوبہ ایگزیکیوٹ کرتا ہے، کافی اسکیمیں پرانی نکال دی گئیں مگر نئی اسکیمیں بھی دیگر صوبوں کی رکھی جاتی ہیں سندھ کی رد کردی گئیں، جو اسکیمیں ایس آئی ڈی سی ایل کو دی ہیں اس کا اے پی سی سی میں تذکرہ نہیں، یہ کمپنیاں دیگر صوبوں میں قائم نہیں کی گئیں، جو وفاق کی اسکیمیں ہیں ان میں رقوم بھی 50ملین اور 100ملین رکھے جاتے ہیں، وفاق کی بڑی اسکیم کتنے سالوں سے بن رہی ہے اور اس میں بلوچستان اور پنجاب کا زہریلا پانی آتا ہے، اس طرح کی صورتحال رہی تو ہم اس کی تکمیل اپنی زندگی میں نہیں دیکھ سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے سیہون روڈ بنانے کا کہا تو بتایا جاتا ہے کہ سندھ اپنے حصے کی رقم پوری ایڈوانس ادا کرے، ہم نے پیسے دے دیئے مگر اسے بھی دوسری تین اسکیموں میں بانٹ دیا گیا، سیھون روڈ پر اب تک صرف 5ارب خرچ کیئے گئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ 650 ارب کی ایس ڈی پی ہے اس میں سندھ کو کیا دیا گیا ہے بتائیں؟ این ایف سی۔کی تو یاد نہیں کہ کس طرح چلایا جارہا ہے، این ایف سی میں جو اعلان ڈالے گئے وہ آئین سے تجاوز ہیں۔ این ایف سی کا اس وقت نہ ہونا نقصاندہ ہے۔ انھوں نے کہاکہ کے فور اب اور مہنگا ہوگیا ہے۔ 20 سے 21 ارب سندھ نے دینا ہیں 33 ارب کی اسکیم ہے جو پہلے 24 ارب کی تھی۔ اس منصوبے پر کوئی قرض نہیں مگر اے ڈیپتھ کمیشن کے نام سے کوئی افسران کو بلاکر تذلیل کی گئی، ہم ان معاملات کو فیس کررہے ہیں اور عوام کو بتارہے ہیں، ہمیں کہا جاتا ہے کورٹ کیوں نہیں جاتے ایک طرح کے الزام لگائے جاتے ہیں، ہم اپنی حدود میں رہ کر کام کررہے ہیں مگر ان باتوں کے خطرناک اثرات پڑیں گے۔ انھوں نے بتایا کہ ٹڈی دل پر ہمارا جو کردار بنتا ہے اس زیادہ کیا ہے، ڈیزرٹ کو وفاق اور زراعت کو صوبائی حکومت دیکھتی ہے، ہم نے جھاز خریدنے کی بھی کوشش کی مگر روکا گیا۔
سوالات و جوابات:
صحافی کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ ہم نے پرانی عمارتوں کے معاملے پر عدالت بھی گئے ہر بات کو اٹھارویں ترمیم سے جوڑ دیا جاتا ہے، بھٹو شھید نے کنکرنٹ لسٹ ڈوال کیا اور صوبوں کو اختیار دیا، ہم نے کووڈ پر عدالت میں تھے وفاقی حکومت نے جب غیر سنجیدگی کی، ایک طرف عدالت تھی اور ایک طرف وفاق کے میسج تھے تو دو ہفتے قبل لوگ کرونا کومذاق سمجھتے تھے، آج لوگ سمجھتے ہیں کہ واقعی کرونا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ صحت میں ہم دیگر صوبوں سے آگے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ جھرک میں بچے ڈوبے افسوس ناک واقع ہے مگر وہاں جو لوگوں نے جو زبان استعمال کی وہ سب جانتے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ لوگوں کو راشن ملا ہے ،یہ کہنا غلط ہے کہ لوگوں کو پتا بھی نہ چلا، ہم نے رش کے پیش نظر خاموشی سے راشن دیا، ایک ارب 8 کروڑ کا راشن دیا مزید نہیں دیا۔ سپریم کورٹ میں کہا گیا 8ارب کا راشن تقسیم کیا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ کتے بھی اللہ کی مخلوق ہے ا سطرح الفاظ استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ انھوں نے بتایا کہ جب وینٹیلیٹر کی بات کی جاتی ہے تو غلط ہے وفاق سے إک بھی وینٹیلیٹر نہیں ملا، کووڈ -19کی صورتحال پیدا ہوئی اس وقت مارکیٹ دیکھی تھی۔ وینٹیلیٹر کا آرڈرہم نے کیا ہوا ہے مگر بدقستی سے نہیں مل رہا، جب لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا تو صوبے کے لوگوں نے تعاون کیا، وفاق کبھی کیا بات کرتا ہے کبھی لاک ڈاؤن ختم کرنے کی بات کی جاتی ہے، نیوزیلنڈ نے آج سب کچھ کھول دیا ہے مگر عالمی جھاز بند ہیں وہاں بھی۔ وفاق سے فون آیا ہم ایک ڈس انفیکٹڈ اسپتال بنانا چاہتے ہیں اور آج ہی بتایا جائے، ہم نے حیدرآباد تجویز کیا مگر تیسرے دن کہا گیا 1.3 ارب خرچ ہوگا سندھ پیسے دے ۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ڈبلیو ایچ او کا خط ہمیں ملا تھا جو دیگرصوبوں کو بھی ملا، ہم نے اپنا پلان بناکر ساتھ بیٹھیں گے اور ڈبلیو ایچ او کے ساتھ حکمت ملی پر عمل کریں گے۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ کے ہمراہ سینئر مشیر نثار کھڑو، وزیر اطلاعات سید ناصر حسین شاہ، مشیر قانون مرتضیٰ وہاب اور معاون خصوصی جاوید نایاب لغاری بھی موجود تھے۔
عبدالرشید چنا
میڈیا کنسلٹنٹ وزیراعلیٰ سندھ