دیسی ڈرٹی بم کی مکمل ناکامی کے بعد ہم نے سنتھیا رچی کے نام سے ایک میڈ ان امریکہ ڈرٹی بم لانچ کیا ہے

عصمت حمید ۔ لندن
وینا ملک، میڈ ان پاکستان (بینگ ان ہندوستان) جیسے دیسی ڈرٹی بم کی مکمل ناکامی کے بعد ہم نے سنتھیا رچی کے نام سے ایک میڈ ان امریکہ ڈرٹی بم لانچ کیا ہے جو خاص طور پر ملک کے اندر ایسے سیاستدانوں پر استعمال کیا جائے گا جو ابھی تک راہ راست پر نہیں آ رہے، اس وقت یہ تجرباتی مراحل سے گزر رہا ہے، اور ابتدائی طور پر اس کے لیے پیپلز پارٹی کے رحمان ملک کا انتخاب کیا گیا ہے۔

سنتھیا رچی کون ہے اور اس کو ہی اس مقصد کے لیے کیوں ہائر کیا گیا ہے، میری نظر میں اس کی دو وجوہات ہیں۔ سب سے بڑی وجہ تو یہ گوری ہے اور پاکستانی عوام و خواص گورے پر آنکھیں بند کر کے یقین کرتے ہیں، اور دوسری وجہ اس سنتھیا رچی کی امریکی گوری ہونے کی وجہ سے پاکستانی سیاست دانوں تک بھی کافی آسان رسائی رہی ہوگی اور انہی دو باتوں کو ذہن میں رکھ کر پنڈی بوائز نے اس کو لانچ کیا۔

مغرب کے گورے لوگ بنیادی طور پر کسی بھی قسم کے ایمان اور خوف خدا سے عاری ہوتے ہیں، ان کے ہاں نیکی اور بدی کا کوئی تصور نہیں ہے نہ ہی اچھائی اور برائی کی کوئی مروجہ تعریف ہے، یہ جس چیز کو مذہبی طور پر مانتے ہیں وہ ہے قانون، قانون ہی ان کا ایمان ہوتا ہے اور اس کی بھی سب سے بڑی وجہ اس سزا سے بچنا جو اس قانون کو توڑنے کی صورت میں ان کو لازمی ملے گی، ان کی گھٹی میں یہ بات بچپن سے ڈال دی جاتی ہے کہ قانون نہیں توڑنا ورنہ مسئلہ ہو جائے گا باقی جو مرضی کرو، ان کی ایمانداری اور اخلاقیات بھی وہیں تک ہوتے ہیں جہاں تک قانون ہو، جہاں پر قانون نہ ہو وہاں ان سے بڑا بے ایمان اور وحشی اپ کو کوئی اور نہیں ملے گا، ایک فقرہ ان کے ہاں بڑی کثرت سے پڑھایا اور بولا جاتا ہے کہ صرف وہ کرو جو تمہارے اپنے لیے سب سے بہتر ہے، نہ کے کسی اور کے لیے، (Do what’s best for you, not what’s best for everyone else) دنیا ان کی ایسی اجتماعی اور انفرادی مثالوں سے بھری پڑی ہے، چاہے وہ ویت نام ہو بوسنیا ہو، عراق ہو یا افغانستان اور انفرادی مثالیں تو اتنی ہیں کہ ہزاروں صفحے کالے ہو جائیں۔

آپ نے اکثر دیکھا اور سنا ہو گا کہ تیسری دنیا کے ملکوں میں جہاں قانون ان کا کچھ نہ بگاڑ سکتا ہو کیسے یہ ایماندار گورے عام لوگوں کو گاڑیوں کے نیچے روندتے اور قتل کر کے کس بے شرمی اور بے حسی سے واپس اپنے ملک جاتے نظر آتے ہیں، جو لوگ کرکٹ شوق سے دیکھتے ہیں انہوں نے تو ان سفید چمڑی والے ایمان داروں کی اس کھیل میں بے ایمانیاں تو بے تحاشہ دیکھی ہوں گی۔

پچھلے کچھ عرصے سے سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر کثرت سے یہ دیکھنے میں آیا کہ کیسے کوکی گوری پاکستان کے کسی دور دراز کے علاقے میں کسی عجیب ان پڑھ، اجڈ پاکستانی لڑکے سے شادی کے لیے پہنچ گئی، جی ہاں ان میں سے بھی بیشتر سنتھیا رچی ہی تھیں، دنیا میں سب سے مشکل کام محنت سے پیسا کمانا ہے اور اگر اپ کو وہ سب بغیر کسی محنت کے مل جائے تو کون منع کرے گا۔

بیس سال ان گوروں کے درمیان رہنے کے بعد میں یقین سے کہہ سکتاہوں کہ کوئی گورا/گوری تو کبھی منع نہیں کرے گا، لیکن ان کے معاشرے، ان کی کتابیں، ان کی فلمیں، ایمانداری سچائی اور اعلی اخلاقی اقدار کا پرچار کرتی نظر آتی ہیں لیکن ان سب کے لیے انہوں نے علاقے مختص کیے ہوئے ہیں اور مخصوص علاقوں سے باہر جہاں قانون ان کا کچھ نہ بگاڑ سکتا ہو وہاں ان کے لیے سب جائز ہو جاتا ہے۔

یہی وہ وجہ ہے جو امریکی سنتھیا رچی کو پاکستان میں اہم اور خطرناک بنا دیتا ہے، اور پاکستان کے عوام جنہوں نے ان گوروں کے معاشرے کی مثالی جھلک ان کی فلموں، کتابوں میں دیکھی، پڑھی یا سنی ہوتی ہے اس پر انکھیں بند کر کے یقین کر لیتے ہیں۔

سنتھیا رچی تو ایک طرف اپ ویسٹ کے کسی بھی ملک اور خاص کر کے انگلش سپیکنگ ملکوں کی کسی گلی کے نکڑ پر کسی کو بھی روک کر کسی ایسے کام کےلیے کہیں جس میں کوئی محنت بھی نہ ہو، ڈھیر سارے پیسے بھی ملتے ہوں اور قانون کی کسی قسم کی گرفت کا مسئلہ بھی نہ ہو تو کم و بیش ہر گورا یا گوری سنتھیا رچی بننے کو تیار ہو جائے گا، اور رہی بات پاکستان کے عوام اور خواص کی تو گوری چمڑی کو لے کر بچپن سے احساس کمتری اور برین واشنگ ان کو ویسٹ کے گورے/گوری کے منہ سے نکلا جھوٹ اور بہتان بھی ایمانداری، سچائی اور مورلی اپ ٹایٹ نظر آئے گا۔

ہماری اسٹیبلشمنٹ نے اسی لیے بڑے اعتماد سے اس کو لانچ کیا ہے ابھی تو بہت جلد ہماری دیسی فیمنسٹ انٹیاں، بچیاں اور ان سطحی انٹیوں، بچیوں کو ایمپریس کرنے کے لیے ہر وقت پہاڑ کی چوٹی پر براجمان نظر آنے والے سو کالڈ دانشور اور ٹھرکی مرد اس کو می ٹو فار سنتھیا میں بدلتے نظر ائیں گے، ملک کے ایک انگریزی اخبار جس کے اپنے مالک پر ایک مرد کو ریپ کرنے کا الزام لگا ہوا ہے، اس میں کام کرنے والی او لیول اور اے لیول تک کی اعلی تعلیم یافتہ دیسی انگریز بچیوں نے تو سنتھیا رچی کے ریپ کے الزامات کو انتہائی سنجیدہ قرار دیتے ہوئے اس پر تحقیقات کا مطالبہ بھی کر دیا ہے!

اس کو لانچ کرنے کی دوسری بڑی وجہ سنتھیا کی ہمارے سیاستدانوں تک پہنچ ہے، عمران نیازی کے ساتھ تو تصویر بھی سامنے آگئی ہے۔ یقینا ویسٹ کی گوری ہونے کی وجہ سے ہمارے بہت سے سیاستدانوں کو تو اس نے ویسے ہی پبلک گیدرنگ میں ہی فلرٹ کر کے گیلا کر دیا ہوگا۔ اور ہو سکتا ہے کہ دو چار کے ساتھ پیسے لے کر یا خاص مقصد کے حصول کے لیے مرضی سے کچھ بھی کیا ہو۔
انہی دو وجوہات کی وجہ سے اس کو صاب لوگوں نے لانچ کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ صاب لوگوں کے لیے کوئی ٹارگٹڈ کامیابی بھی سمیٹتی ہے، یا پھر یہ امپورٹڈ ڈرٹی بم بھی دیسی ڈرٹی بم وینا ملک کی طرح صاب لوگوں کے لیے صرف ایک ایمبیرسمنٹ بن کر رہ جائے گا۔

Pakistan24.tv