مختلف شہروں میں پیٹرول کی عدم دستیابی- شہریوں کو مشکلات کا سامنا-پی ایس او کی کوششیں ناکافی

مختلف شہروں میں پیٹرول کی عدم دستیابی- شہریوں کو مشکلات کا سامنا-پی ایس او کی کوششیں ناکافی
پیٹرول کی قیمت میں کمی کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں پیٹرول کی عدم دستیابی پر شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کوئٹہ میں پیٹرول کی قلت برقرار ہے جس کے باعث شہر کے بیشتر پیٹرول پمپس بند ہیں، شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

کوئٹہ کے ایک شہری کا کہنا ہے کہ شہر میں کئی دنوں سے پمپس پر پیٹرول دستیاب نہیں ہے، چند ایک پمپس کھلے ہیں جس پر گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی لمبی قطاریں ہیں۔

دوسری جانب پیٹرول پمپس مالکان کا کہنا ہے کہ سپلائی نہ ہونے کی وجہ سے پمپس بند ہیں، اور اگر آگے بھی سپلائی نہیں ہوئی توجو پمپس کھلے ہیں وہ بھی بند ہوجائیں گے۔

اس کے علاوہ لوئردیر کے پیٹرول پمپس پر بھی پیٹرول کی عدم دستیابی کی شکایت موصول ہوئی ہے، گلگت بلتستان کے ضلع غذر میں بھی پیٹرولم مصنوعات کی قلت کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

غذر میں پمپ مالکان کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں میں کمی ہوتے ہی پیٹرول کی سپلائی بند کردی گئی۔

سوات کے بیشتر پیٹرول پمپس پر بھی پیٹرول کی قلت ہے، اس کے علاوہ مالاکنڈ، گجرات اور ٹھٹھہ میں بھی 10 روز سے پیٹرول کی فراہمی بند ہے۔

ٹھٹھہ میں شہریوں نے شکایت کی ہے کہ پیٹرول پمپس سے صرف ڈیزل فراہم کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اسٹیٹ آئل سمیت دیگر کمپنیوں کو اس صورتحال کا بخوبی علم تھا اور انہیں پیشگی اقدامات کرنے چاہیے تھے جو نہیں کیے گئے ۔شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اس کی ذمہ دار پیٹرولیم کمپنیاں اور حکومت پاکستان کے متعلقہ افسران ہیں ان سے پوچھ ہونی چاہیے کہ انہوں نے صورتحال کا صحیح اندازہ کیوں نہیں لگایا اور یہ نا اہلی اور

غفلت کیوں برتی ۔اقلیم مینسٹری اور پٹرولیم کمپنیوں میں انتہائی تجربہ کار ذہین اور قابل افسران کی موجودگی کے باوجود یہ بحران سمجھ سے بالاتر ہے ماہرین کو خدشہ ہے کہ کہیں حکومت کو ناکام اور بد نام کرنے کے لیے کوئی سازش ہو رہی ہے یا کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ ملک میں بحران پیدا ہو اور لوگوں کی توجہ اس جانب ہو جائے ۔