نیشنل بینک کے نئے صدر عارف عثمانی کا انتخاب کیسے ہوا ؟

جیسے ہی حکومت نے نیشنل بینک کے لیے عارف عثمانی کو سی ای او اور صدر بنانے کا اعلان کیا ان کی مخالفت میں بیانات کا ایک طوفان آگیا آخر اتنی مخالفت کیوں ۔۔۔۔۔۔۔کیا عارف عثمانی کو صدر بنانے میں بھی کوئی دھاندلی ہوئی ہے ۔۔۔۔۔کیا میرٹ کے نام پر سفارشی صدر لایا گیا ۔۔۔کیا میرٹ کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے ۔۔۔۔۔۔سعید احمد کو ہٹا کر طارق جمالی کو ایکٹنگ صدر بنایا گیا تھا سعید احمد اپنے خلاف حکومت کے فیصلے کے خلاف عدالت چلے گئے تھے ان کا موقف تھا کہ نا ان کو شوکاز جاری ہوا نہ ان کے کوئی انکوائری ہوئی نہ ان کے خلاف کوئی کیس ہے ان کو بغیر کسی وجہ کے کیسے ہٹایا جاسکتا ہے لیکن حکومت اپنے موقف پر قائم رہیں پھر نئے صدر کے لئے عارف عثمانی کا انتخاب کیسے ہوا یہ ایک دلچسپ معاملہ ہے ۔۔۔۔
جو لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ نیشنل بینک میں کیا ہوتا رہا اور اب کیا ہو رہا ہے ان کے لیے یہ رپورٹ یقینا دلچسپ ہو گئی ۔

نواز شریف دور میں نیشنل بینک کے صدر کو اسحاق ڈار کا لاڈلا ور چہیتا مانا جاتا تھا اس لیے عمران خان نے وزیراعظم بننے کے بعد نواز شریف کے لاڈلے افسران کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا اسد عمر نئے ایسے افسران کے بارے میں معلومات جمع کیں اور ان کو باری باری فارغ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔
نیشنل مین کے نئے صدر کے لئے اسد عمر ۔ڈاکٹر عشرت حسین اور رزاق داؤد نے مختلف ناموں پر غور کیا باقاعدہ انٹرویو بھی کیے گئے میڈیا میں یہ رپورٹس بھی آئی کہ جاوید قریشی سو میں سے ساڑھے 74 فیصد مارکس کے ساتھ سرفہرست آگئے ہیں جب کہ ارے عثمانی 70 عشاریہ پانچ فیصد مارکس کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھے
دیگر دو امیدواروں نے 65 فیصد اور 58 فیصد نمبر لیے ۔
یہ بات حیران کن ہے کہ عاطف باجوہ جیسے تجربہ کار پینکر نے ذاتی وجوہات پر خود کو اس دوڑ سے الگ کر لیا ؟

اس کے بعد تین نام ایسے تھے جن پر غور کیا جا رہا تھا

سب سے پہلے جاوید قریشی
ان کے بعد عارف عثمانی
اور آخر میں وجاہت حسین کا نام تھا

یہ بات اب تک ایک معمہ ہے کہ جاوید قریشی نے آخر کس دباو کے تحت اپنا نام واپس لے لیا ۔۔۔۔

اگر وہ اپنا نام واپس نہ لیتے تو عارف عثمانی کا راستہ نہیں بن سکتا تھا

کیا وہاں پر کوئی ڈیل ہوگئی
کوئی دباؤ کام آیا

بہرحال راستہ صاف ہوا جس کی وجہ سے عارف عثمانی کی تعیناتی عمل میں اسکی

سٹی بینک سے کیرئیر شروع کرنے والے عارف عثمانی 35 سالہ تجربہ رکھتے ہیں

والمشرق بینک کے ساتھ وابستہ تھے اور ابو ظہبی میں خدمات انجام دیتے رہے دیگر کہیں ممالک میں بھی رہے ۔
پاکستان کے سابق وفاقی وزیر اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر صوبائی صدر میر چنگیز خان جمالی نے عمران حکومت پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ نیشنل بینک میں امپورٹڈ صدر کی تعیناتی دراصل میرٹ کا قتل ہے ان کا کہنا ہے کہ مدینہ کی ریاست اور نیا پاکستان بنانے کے دعویدار عمران خان سابق حکومت کی روش پر چل کر من پسند لوگوں کو اہم پوسٹوں پر تعینات کر آ رہے ہیں ایسا کرنا خود ان کے اور ان کی حکومت کے مفاد میں نہیں ہے روش نہ بدلی تو ان کا حشر بھی سابق وزیراعظم جیسا ہوگا ان کے مطابق نیشنل بینک کے صدر کے عہدے پر قائم مقام صدر طارق جمالی بینک کے سینئر ترین اہل ترین افسر تھے جن کو بائی پاس کر کے باہر سے عارف عثمانی کو لایا گیا ہے اس طرح بینک کے اپنے افسران پر عدم اعتماد کیا گیا ہے اور چھوٹے صوبے کے عوام میں بھی احساس محرومی پیدا کیا گیا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں