میاں زاہد حسین ، صنعتکار تاجر برادری کے ولن یا ہیرو ؟

ذہن میں پہلا سوال تو یہ آتا ہے کہ میاں زاہد حسین کے نام پر اتنی بحث کیوں ہوتی ہے اس شخص کا ذکر اور چرچا اتنا ہے کہ سوچنا پڑتا ہے کہ اس میں ایسی کون سی خوبیاں یا خامیاں ہیں کہ لوگ باقی کام بھلا کر اس شخص کو ڈسکس کرتے رہتے ہیں یہ بھی طے ہونا چاہیے کہ آخر یہ شخص پاکستان کے صنعتکاروں اور تاجروں کے لئے اچھا سوچتا ہے یا برا ؟ اگر یہ برا چاہتا ہے تو پھر یہ شخص ولن ہے اور اس کی کھل کر مخالفت ہی نہیں بلکہ مذمت بھی ہونی چاہیے اور پورے پاکستان کو پتہ چلنا چاہیے کہ اس شخص نے کب کب کہاں کہا ں اور کیا کیا فاول پلے کیا ہے اور اسکے جرائم کی فہرست کتنی طویل ہے اور اس کے لیے بزنس کمیونٹی کے سرداروں نے کیا سزا تجویز کی ہے ؟

لیکن یہ شخص اگر تاجروں اور صنعت کاروں کا برا نہیں چاہتا اور اس نے اچھے کام کئے ہیں جنہیں پسند کیا جاتا ہے یا اس کی پذیرائی کی جاتی ہے لوگ چاہتے ہیں کہ یہ شخص اہم حیثیت میں ان کی نمائندگی کرے تاکہ بزنس کمیونٹی کے مسائل حل کرانے کے لیے اپنی ذہانت تجربہ اور صلاحیتوں کو بروئے کار لائے تو پھر اسے ایک ہیرو کا درجہ دینا پڑے گا اور اس کے اچھے کاموں کی تعریف کرنے میں کنجوسی اور بخل سے سے کام نہیں لینا ہوگا ۔

اب سوال یہ ہے کہ اس طرح کا فیصلہ کون کرے ؟
اس کا پیمانہ کیا ہوگا اور کس طرح یہ بات طے ہو گی کہ یہ شخص ولن ہے یا ہیرو ؟

ہمارے یہاں کوئی ریفرنڈم کرانے کا طریقہ تو ہے نہیں ۔ورنہ پورے ملک کی تاجر اور صنعتکار برادری کے سامنے ہر تھوڑے عرصے بعد کسی ایک معاملے پر رائے حاصل کرنے کا یہ آسان فارمولا بن سکتا ہے کے ریفرنڈم کرا لیا جائے ایک نکاتی ایجنڈا رکھا جائے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی رائے سامنے آجائے ۔

مسئلہ یہ ہے کہ یہاں تو سالانہ انتخابات میں بھی معاملہ شفاف نہیں رہا ۔اس پر بھی تنازعات کھڑے ہو چکے ہیں دھاندلی اور بے ایمانی کے الزامات لگ چکے ہیں لہذا بندہ جائے تو جائے کہاں ؟

میاں زاہد حسین کا پروفائل دیکھیں تو ستارہ امتیاز ۔پی ایچ ڈی ۔سابق صوبائی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی ۔آج کل ایف پی سی سی آئی کے کنوینئر ہیں ۔تیسری خواتین لا کانفرنس 2020 کے پیٹرن ہیں ۔بحریہ یونیورسٹی کراچی کیمپس کے صدر ہیں ۔پاکستان بزنس مین اینڈ انٹیلیکچوءل فورم کے صدر ہیں ۔ken lubes int کے صدر ہیں جامعہ کراچی کے طالب علم کا اعزاز رکھتے ہیں ۔تعلق چنیوٹ سے ہے اور رہائش کراچی میں ہے ۔ان کے بیانات انٹرویوز اور تقریریں سنیے تو دل باغ باغ ہو جاتا ہے کہ اتنا well informed اور نالج ایبل انسان ہماری انڈسٹری میں موجود ہے ۔جس کے پاس مختلف شعبوں کی زبردست معلومات ہے اس کا بہت شاندار تجربہ ہے اور اس کا مشاہدہ بہت گہرا ہے معاملات کی اونچ نیچ کو بخوبی سمجھتا ہے چیزوں کی ظاہری حیثیت پر فیصلہ نہیں کرتا بلکہ پس منظر بھی دیکھتا ہے گویا کافی صلاحیتوں اور ذہانت کا مالک ہے ۔

دوسری طرف اس کے مخالفین سے ملیے تو وہ اس کے نام سے ہی چڑتے ہیں اور اگر بات کریں تو اس شخص کے بارے میں اتنا برا بتاتے ہیں کہ لگتا ہے روئے زمین پر ایک یہی ولن ہے باقی سب باتیں صحیح ہیں اور دنیا میں اس کے علاوہ اور خراب آدمی نہیں رہا ۔اس کے کاروبار سے لے کر اس کی کامیابیوں سے سب خائف ہیں اور بے شمار فاول پلے کی نشاندہی کرتے ہیں اس کی ذات میں کیڑے نکالتے ہیں توبہ توبہ توبہ ۔۔۔۔۔۔

ملک کرونا جیسی وبا کی لپیٹ میں ہے دنیا بدل چکی ہے لیکن نہیں بدلے تو ہمارے رویے ۔۔۔۔۔۔۔

آنے والی سانس کا کچھ پتہ نہیں لیکن لوگ اپنی جھوٹی انا کی خاطر ناک نیچے کرنے کے لئے تیار نہیں ۔پتا نہیں یہ مال و دولت یہ بزنس یہ بنگلے یہ گاڑیاں کیا اپنی قبر میں ساتھ لے کر جائیں گے ۔اللہ ہم سب کو ہدایت دے تھیک ہے کرونا کی وجہ سے سماجی فاصلہ رکھنا احتیاط کا تقاضہ ہے لیکن دل تو ملا سکتے ہیں ۔آئیے ایک دوسرے کو معاف کرنے کے جذبے کا مظاہرہ کریں اور اپنے اللہ کو راضی کریں ۔

Salik-Majeed-for-jeeveypakistan.com